Updated: July 27, 2026, 7:05 PM IST
| New York
ہالی ووڈ کے کئی معروف اداکاروں اور ہدایت کاروں کی ذاتی رابطہ معلومات مبینہ طور پر ایک بڑے ڈیٹا لیک میں سامنے آ گئی ہیں، جس کا تعلق ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے جوڑا جا رہا ہے۔ متاثرہ شخصیات میں انجلینا جولی، رابرٹ ڈی نیرو، مارٹن اسکورسیزی اور دیگر کئی مشہور نام شامل ہیں۔
ہالی ووڈ کے کئی معروف اداکاروں اور ہدایت کاروں کی ذاتی رابطہ معلومات مبینہ طور پر ایک بڑے ڈیٹا لیک میں سامنے آ گئی ہیں، جس کا تعلق ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے جوڑا جا رہا ہے۔ متاثرہ شخصیات میں انجلینا جولی، رابرٹ ڈی نیرو، مارٹن اسکورسیزی اور دیگر کئی مشہور نام شامل ہیں۔برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کی رپورٹ کے مطابق، سائبر سیکوریٹی کے ماہرجیریمیا فاؤلر نے گزشتہ ماہ اس ڈیٹا لیک کی نشاندہی کی۔ ان کے مطابق آن لائن دستیاب چار مختلف ڈیٹا بیسز میں تقریباً ۶؍ لاکھ ۶۶؍ہزار ریکارڈز موجود تھے، جن کا تعلق ۲۰۱۹ء سے ۲۰۲۶ءکے دوران منعقد ہونے والے ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے تھا، جس کی بنیاد اداکار رابرٹ ڈی نیرو نے نیویارک میں رکھی تھی۔
یہ بھی پڑھئے:’’روایتی شوز کو ختم کرنے کیلئے میں نے اپنا پروڈکشن ہاؤس شروع کیا ہے‘‘
ڈیٹا لیک کا انکشاف کیسے ہوا؟
رپورٹ کے مطابق جیریمیا فاؤلر کو انٹرنیٹ پر غیر محفوظ حالت میں موجود متعدد ڈیٹا بیسز ملے، جن میں نام، فون نمبر، ای میل ایڈریس اور دیگر حساس معلومات شامل تھیں۔ انہوں نے ۳؍ جون کو شروع ہونے والے ۱۲؍ روزہ ٹریبیکا فلم فیسٹیول سے چند روز قبل انتظامیہ کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تھا۔ فاؤلر نے دی سن سے گفتگو کرتے ہوئے کہا’’ ریکارڈز میں بے شمار عالمی شہرت یافتہ شخصیات کے نام موجود تھے، جنہیں میل ویئر یا سائبر حملوں کا نشانہ بنایا جا سکتا تھا۔ ان میں نام، فون نمبر اور ای میل ایڈریس شامل تھے۔‘‘
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک فولڈر میں متعلقہ افراد کے استعمال کیے جانے والے آلات (ڈیوائسز) کی معلومات بھی موجود تھیں، جن سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ آئی فون کا کون سا ماڈل یا سافٹ ویئر استعمال کر رہے ہیں، اور آیا وہ سفاری براؤزر استعمال کرتے ہیں یا نہیں۔ ان کے مطابق ایسی معلومات سائبر مجرموں کے لیے مزید حملوں کی منصوبہ بندی آسان بنا سکتی ہیں۔
کون کون متاثر ہوا؟
رپورٹ کے مطابق، جن شخصیات کی رابطہ معلومات مبینہ طور پر لیک ہوئیں ان میں فلمساز مارٹن اسکورسیزی، جارج لوکاس، ڈینی بوائل اور اداکار مورگن فری مین، جینیفر لارنس، ونونا رائیڈر، انجلینا جولی، رابرٹ ڈی نیرو، نیل پیٹرک ہیرس، رامی مالک، شیرون اسٹون اور مائیکل ڈگلس شامل ہیں۔ تاہم، معاملے سے واقف ایک ذرائع کے مطابق لیک ہونے والی زیادہ تر معلومات خود ان ستاروں کی نہیں بلکہ ان کے منیجرز اور ٹیلنٹ ایجنٹس کی تھیں، جو فلم فیسٹیول کے دوران پیشہ ورانہ رابطوں کے لیے استعمال ہونے والے ڈیٹا بیس میں محفوظ تھیں۔
یہ بھی پڑھئے:نیٹ پرچہ لیک احتجاج میں عمر خالد و شرجیل امام کی حمایت کرنے پر دو نوجوان گرفتار
ٹریبیکا فلم فیسٹیول کا ردعمل
ٹریبیکا فلم فیسٹیول کی انتظامیہ نے کہا ہے کہ وہ ڈیٹا سیکوریٹی کے معاملات کو انتہائی سنجیدگی سے لیتی ہے اور اس واقعہ کی سرگرمی سے تحقیقات کر رہی ہے۔رپورٹ کے مطابق، انکشاف کے بعد متعلقہ ڈیٹا بیسز کو عوامی رسائی سے ہٹا دیا گیا ہے۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ یہ معلومات کتنے عرصے تک آن لائن دستیاب رہیں یا کسی نے انہیں استعمال یا ڈاؤن لوڈ کیا یا نہیں۔ دی ٹیلی گراف نے یہ بھی واضح کیا کہ فی الحال ایسا کوئی ثبوت موجود نہیں کہ ٹریبیکا فلم فیسٹیول براہِ راست اس مبینہ ڈیٹا لیک کا ذمہ دار تھا۔ ادارے نے اپنے ابتدائی بیان کے بعد اس معاملے پر مزید کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا۔ ماہرین کے مطابق یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ بڑے ثقافتی اور تفریحی ایونٹس سے وابستہ شخصیات کی ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات کو محفوظ رکھنے کے لیے مزید مضبوط سائبر سیکوریٹی اقدامات کی ضرورت ہے۔