• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

موسیقی میں شاہ رخ، غصے میں سلمان خان جیسا ہوں: امال ملک کا ٹرولز کو سخت انتباہ

Updated: September 19, 2026, 12:07 PM IST | Mumbai

’میں ہوں ہیرو تیرا‘ کے کریڈٹ تنازع کے بعد موسیقار امال ملک نے اپنے خاندان کو نشانہ بنانے والوں کو خبردار کیا، سلمان خان کی آواز والے ورژن میں اپنی اور دیگر فن کاروں کی محنت بھی یاد دلائی۔

Amaal Mallik. Picture: INN
امال ملک۔ تصویر: آئی این این

موسیقار و گلوکار امال ملک نے ’میں ہوں ہیرو تیرا‘ کے کریڈٹ تنازع کے درمیان سوشل میڈیا صارفین کو سخت انتباہ دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ان پر تنقید کی جاسکتی ہے، لیکن ان کے خاندان کو نشانہ بنانا برداشت نہیں کیا جائے گا۔ امال نے ایکس پر اپنی ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ چند دنوں سے ان کے بھائی ارمان ملک سمیت خاندان کو بھی آن لائن تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ امال نے اپنی پوسٹ میں لکھا، ’’سوشل میڈیا کے ہر پلیٹ فارم پر موجود تمام لوگوں کے لیے یہ واضح انتباہ ہے، میرے خاندان کے بارے میں ایک لفظ بھی برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے کہا کہ اگر لوگ انہیں نشانہ بنانا چاہتے ہیں تو وہ ان کی مرضی ہے، لیکن خاندان کو اس معاملے میں گھسیٹنے کی کوشش پر وہ خاموش نہیں رہیں گے۔

یہ بھی پڑھئے:’’جب شبانہ اعظمی کی طرح جذبات کو پہنچانے کی بات آتی ہے تو اے آئی سب سے کمزور ہے‘‘

اسی سخت لہجے میں امال نے بالی ووڈ کے دو بڑے ستاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’’موسیقی میں مَیں شاہ رخ خان ہوں، مگر میرا غصہ سلمان خان اور سنجے دت والا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ جو رویہ دوسروں کے ساتھ چل سکتا ہے، وہ ڈبو ملک اور ان کے خاندان کے معاملے میں قابل قبول نہیں ہوگا۔ امال نے واضح کیا کہ وہ اپنے خاندان کے ساتھ پہلے بھی کھڑے تھے، اب بھی ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ یہ بیان دراصل ’میں ہوں ہیرو تیرا‘ کے کریڈٹ سے شروع ہونے والے تنازع کا تازہ مرحلہ ہے۔ ۲۰۱۵ء کی فلم ’ہیرو‘ کے اس گیت کی ۱۰؍ سالہ تکمیل کے موقع پر سلمان خان فلمز نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں ابتدائی طور پر گیت کے موسیقار امال ملک کا نام شامل نہیں تھا۔ امال نے اس پر اعتراض کیا، جس کے بعد پوسٹ میں ان کا نام شامل کیا گیا۔ امال نے بعد میں گیت کی تیاری میں شامل تمام افراد کے کردار کی وضاحت بھی کی۔ ان کے مطابق گیت کا ابتدائی ورژن ان کے بھائی ارمان ملک نے گایا تھا، جس کے بعد اسے سلمان خان اور ہدایت کار نکھل اڈوانی کے سامنے پیش کیا گیا۔ امال نے گیت کی دھن تیار کی، کمار نے بول لکھے اور ارمان نے ابتدائی ورژن گایا، جسے منظوری ملنے کے بعد سلمان خان نے اپنی آواز میں ریکارڈ کیا۔
امال نے سلمان خان کے کردار کو بھی تسلیم کیا اور کہا کہ وہ کبھی اس حقیقت سے انکار نہیں کرتے کہ سلمان کے چہرے اور آواز والے ورژن نے گیت کو موجودہ مقبولیت تک پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ تاہم ان کا سوال یہ تھا کہ گیت کی تیاری میں شامل موسیقار، نغمہ نگار اور اصل گلوکار کی محنت کو ہر سال کی تقریبات اور سوشل میڈیا پوسٹس میں کیوں نظر انداز کیا جاتا ہے۔ تنازع بڑھنے کے بعد امال کے بھائی ارمان ملک نے بھی ان کی حمایت کی۔

یہ بھی پڑھئے:اہان پانڈے اورانیت پڈا کی نئی فلم کی شوٹنگ اکتوبر میں گوا میں ہوگی

سوشل میڈیا پر کچھ صارفین نے دونوں بھائیوں کو سلمان خان کے تئیں ’ناشکرا‘ قرار دیا، جس کے بعد بحث مزید تیز ہوگئی۔ امال نے اسی پس منظر میں اپنے خاندان کے خلاف تبصروں پر سخت کارروائی کی وارننگ دی۔ امال نے اپنی پوسٹ میں یہ بھی کہا کہ اگر فلمی صنعت سے کوئی شخص بغیر مناسب وجہ کے ان کے یا ان کے خاندان کے خلاف کھڑا ہوا تو وہ اسے عوامی طور پر بے نقاب کریں گے۔ انہوں نے فلمی صنعت میں موجود سیاست اور نفرت پر بھی ناراضی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس صورت حال پر غصہ آنے میں ۲۰؍ سال لگے ہیں، کیونکہ انہوں نے ۱۶؍ سال کی عمر سے اس صنعت میں کام شروع کیا تھا۔ بعد میں امال نے یہ وضاحت بھی کی کہ ان کا ابتدائی اعتراض ذاتی طور پر سلمان خان کے خلاف نہیں تھا بلکہ سلمان خان فلمز کی جانب سے کریڈٹ نہ دیے جانے پر تھا۔ انہوں نے اس معاملے کو بنیادی پیشہ ورانہ اصولوں اور موسیقی تخلیق کرنے والوں کو مناسب شناخت دینے سے جوڑا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK