Inquilab Logo Happiest Places to Work

میں ۶؍ میں سے ایک متاثرہ ہوں:، وِنیش پھوگاٹ نے برج بھوشن سنگھ پر پھر الزامات لگائے

Updated: May 04, 2026, 5:04 PM IST | New Delhi

وِنیش نے کہا کہ آج بھی برج بھوشن یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ کشتی فیڈریشن پر ان کا غلبہ ہے، انہیں کے لوگوں کو انہوں نے عہدوں پر بٹھا رکھا ہے، پھر بھی کھیل فیڈریشن یا حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔

Vinesh Phoghat.Photo:INN
ونیش پھوگاٹ۔ تصویر:ائی این این

مئی کے آغاز میں کھیلوں کی دنیا سے ایک ایسی خبر سامنے آئی ہے جس نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے۔ جنتر منتر پر ہونے والے پہلوانوں کے احتجاج کی مرکزی چہرہ رہیں وِنیش پھوگاٹ نے اتوار (۳؍ مئی) کو سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کر کے اپنا درد بیان کیا اور کہا کہ وہ بھی ان ۶؍متاثرین میں شامل ہیں جنہوں نے برج بھوشن سنگھ کے خلاف شکایت درج کروائی تھی۔ وِنیش نے بتایا کہ انہوں نے اب تک سپریم کورٹ کی ہدایات اور اپنی عزت و وقار کی خاطر یہ بات چھپائے رکھی، لیکن اب مجبوری کے تحت اپنا نام ظاہر کر رہی ہیں۔

 
 
 
 
 
View this post on Instagram
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 
 

A post shared by Vinesh Phogat (@vineshphogat)


انہوں نے کہا کہ انہوں نے ڈیڑھ سال بعد دوبارہ کشتی کی تیاری شروع کر دی ہے۔ آج سے ایک ماہ قبل کشتی فیڈریشن کی جانب سے ایک ٹورنامنٹ کا اعلان کیا گیا تھا جسے رینکنگ ٹورنامنٹ کہا جاتا ہے۔ یہ ٹورنامنٹ اتر پردیش کے گونڈا میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں برج بھوشن کا گھر ہے اور ان کا اپنا نجی کالج بھی ہے۔ وہاں ہر کھلاڑی کو اس کا حق ملے گا، یہ بہت ناممکن سا لگتا ہے۔
نتائج برج بھوشن کے لوگوں کے ہاتھ میں ہیں
وِنیش نے مزید کہا’’کون سا ریفری کس میچ میں جائے گا یا کون سا ریفری کتنے نمبر دے گا، کون چیئرمین کہاں بیٹھے گا، کس کو جتانا ہے یا کس کو ہروانا ہے۔یہ سب برج بھوشن یا ان کے لوگ طے کریں گے۔ حکومت یا ہمارا کھیلوں کا محکمہ خاموش تماشائی بنا ہوا ہے، کوئی بھی کھلاڑیوں کی مدد کے لیے آگے نہیں آ رہا۔ ایسا لگتا ہے جیسے انہیں برج بھوشن نے کھلی چھوٹ دے رکھی ہے کہ تم جو چاہو کرو۔چاہے خواتین پہلوانوں کے ساتھ کچھ بھی کرو یا کشتی کی دنیا کے ساتھ کچھ بھی کرو، ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ تمام محنتی کھلاڑیوں کا وزن چیک کیا جائے گا، ان کی محنت کا نتیجہ میدان میں نظر آئے گا۔مجھے ایسا نہیں لگتا۔‘‘‘
وِنیش نے خود کو متاثرہ بتایا
وِنیش نے کہاکہ ’’آج سے تین سال پہلے ہم نے برج بھوشن کے خلاف آواز اٹھائی تھی، اس سے متعلق کیس عدالت میں زیر التوا ہے۔ ۶؍ خواتین کھلاڑیوں نے شکایت درج کرائی تھی، جس کی بنیاد پر آج بھی عدالت میں گواہی چل رہی ہے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت ہوتی ہے کہ کسی متاثرہ کی شناخت ظاہر نہ کی جائے کیونکہ یہ اس کی عزت و وقار کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن آج کچھ ایسی مجبوری ہے کہ میں آپ سب کو بتانا چاہتی ہوں۔ میں یہ نہیں کہنا چاہتی تھی کیونکہ معاملہ عدالت میں زیر سماعت ہے اور سچائی خود سامنے آ جاتی، لیکن میں بتانا چاہتی ہوں کہ ان ۶؍ افراد میں سے ایک متاثرہ میں خود ہوں جس نے شکایت درج کرائی تھی، اور ہمارا علاج بھی جاری ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:شری دیوی شروع میں ہندی نہیں جانتی تھیں لیکن بعد میں ’لیڈی سپر اسٹار‘ کہلائیں


وِنیش نے کہا کہ میچ کھیلنا مشکل ہے
وِنیش نے کہا کہ آپ سوچ سکتے ہیں کہ ان کے گھر جا کر، ان کے کالج میں جا کر میچ کھیلنا میرے لیے کتنا مشکل ہوگا، جہاں ہر شخص ان ہی کی نمائندگی کرے گا۔ ایسے میں وہاں جا کر مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوگا۔ پہلے ہی ایک کھلاڑی پر ذہنی دباؤ ہوتا ہے اور ایسی صورتحال میں میں اپنا ۱۰۰؍ فیصد دے پاؤں گی، مجھے ایسا نہیں لگتا۔ ایک لڑکی کے لیے ایسی حالت میں جا کر مقابلہ کرنا بہت مشکل ہوتا ہے اور ہر وہ کھلاڑی جو اس سے گزرا ہے وہ اس بات کو سمجھ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پونے معاملہ: اپوزیشن نے مہایوتی حکومت کو گھیرا، وزیراعلیٰ پر سخت تنقید


حکومتِ ہند پر سنگین الزامات
وِنیش نے کہا کہ آج بھی برج بھوشن کہتا ہے کہ کشتی فیڈریشن پر اسی کا کنٹرول ہے اور اس نے اپنے ہی لوگوں کو تعینات کیا ہوا ہے، پھر بھی کھیل فیڈریشن یا حکومت کوئی قدم نہیں اٹھاتی۔ اگر میں مقابلہ کرتی ہوں تو میرے ساتھ میری ٹیم اور ہمارے خیر خواہ بھی ہوں گے۔ اگر کسی کے ساتھ کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو میں سب کو بتانا چاہتی ہوں کہ اس کی ذمہ دار صرف حکومتِ ہند ہوگی، کیونکہ برج بھوشن خود کیمرے پر کہتا ہے کہ اس نے ایک شخص کا قتل کیا تھا اور اسے پھر بھی سزا نہیں ملی۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ وہ کیسا انسان ہے اور وہ کیا کروا سکتا ہے۔ وہ کسی کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ میں اپنے لیے کوئی خاص سلوک نہیں چاہتی، میں صرف یہ چاہتی ہوں کہ ہر کھلاڑی کی جیت یا ہار کا فیصلہ اس کی محنت کی بنیاد پر ہو، نہ کہ کسی غنڈے یا بدمعاش کے اثر و رسوخ پر۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK