اکثر ایسا ہوتا ہے کہ بچے اپنے دوستوں سے متاثر ہو کر غلط راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ ایسی صورتحال سے نمٹنے کے لئے والدین کو سختی کے بجائے محبت سے بچے سے بات کرنی چاہئے، تاکہ وہ کھل کر اپنی بات کہہ سکے۔ اس سے والدین بچے کی سوچ کو بہتر طریقے سے سمجھ پاتے ہیں۔
بچوں کو غلط صحبت سے بچانے کیلئے ان سے بات چیت کیجئے۔ تصویر: آئی این این
مجھ سے والدین اکثر شکایت کرتے ہیں کہ ان کا بچہ دوستوں کی صحبت میں غلط عادتیں سیکھ رہا ہے اور ایسے میں ان کی سمجھ نہیں آتا کہ وہ کیا کریں ؟اس معاملے میں میرا ماننا ہےکہ جب بچے بڑے ہوتے ہیں تو وہ اکثر ہم عمروں کے دباؤمیں آجاتے ہیں ۔ اس وجہ سے وہ کئی بار غلط عادتیں بھی سیکھ لیتے ہیں، جیسے امتحان میں نقل کرنا یا دوسروں کو تنگ کرنا جیسی عادتیں اپنا لیتے ہیں، حالانکہ ایسے وقت میں بچوں پر کڑی نظر رکھنے یا ڈانٹے کے بجائے انہیں اپنے کام کے نتائج کے بارے میں سوچنے کی عادت ڈالنی چاہئے۔ ساتھ ہی یہ بھی سمجھانا چاہئے کہ کسی کی نقل کرنے سے پہلے تھوڑا رک کر خودسے سوچنا بھی ضروری ہے۔
ہم عمروں کا اثر بچپن میں ایک عام بات ہے۔ جب بچے اپنے دوستوں اور کلاس فیلوز کے ساتھ زیادہ وقت گزارنے لگتے ہیں تو وہ گروپ میں شامل ہونے کے لئے ان کے جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ اثر مثبت بھی ہو سکتا ہے اور منفی بھی۔
ہم عمروں کے اثرکے نقصانات
اگر بچہ غلط صحبت میں پڑ جائے تو وہ سگریٹ نوشی، منشیات یا دیگر خطرناک عادتوں کی طرف جا سکتا ہے۔ اس کا اثر اس کی پڑھائی اور ذہنی صحت پر بھی پڑتا ہے، اور کئی بار والدین کو دیر سے معلوم ہوتا ہے۔
ہم عمروں کےاثرکےفائدے بھی ہوتے ہیں
یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہر اثربرا نہیں ہوتا۔ اچھے دوست بچوں کو پڑھائی، کھیل اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نتائج کا دباؤ: طلبہ کے اہل خانہ کو کیا نہیں کرنا چاہئے؟
سوشل میڈیا:ایک نئی وبا
آج کل دباؤ صرف اسکول تک محدود نہیں، بلکہ سوشل میڈیا بھی بچوں کو متاثر کرتا ہے۔ آن لائن دوست اور انفلوئنسرز نئے رجحانات پیش کرتے ہیں جنہیں بچے اپنانے لگتے ہیں اور دوسروں سے موازنہ کرنے لگتے ہیں۔
غلط صحبت کی نشانیاں کیا ہیں ؟
اگرآ پ کا بچہ اچانک بدل جائے، باتیں چھپانے لگے، زیادہ خاموش ہو جائے یا اس کی پڑھائی میں دلچسپی کم ہوجائے تو یہ تشویش کی بات ہو سکتی ہے۔
والدین کے لئے اہم طریقے
(۱) بچے کے دوستوں اور رویے پر نظر رکھیں اور اس سے کھل کر بات کریں تاکہ اعتماد قائم ہوسکے۔ اس سے بچہ اپنے اسکول، دوستوں اور مسائل کے بارے میں خوف کے بغیر بات کرپائے گااور والدین یہ سمجھ سکیں گے کہ وہ کسی دباؤ میں تو نہیں ہے۔
(۲) بچے کو اپنے خیالات کی اہمیت سمجھائیں اور سوچ سمجھ کر فیصلے کرنا سکھائیں اور انہیں یہ سکھانا چاہئے کہ وہ اپنے کاموں کے نتائج کوسمجھیں۔ اس سے ان کی خود اعتمادی بڑھتی ہے اور ان میں فیصلہ کرنےکی صلاحیت مضبوط ہوتی ہے۔
(۳) بچوں کو یہ عادت ڈالنی چاہئے کہ وہ کسی کی نقل کرنے سے پہلے تھوڑا رک کر سوچیں۔ اس سے وہ درست فیصلے کرپائیں گےاور غلط ساتھیوں کے اثر سے بچ سکیں گے۔
۴) بچے کو سکھائیں کہ وہ خراب صورتحال سے دور رہے اور ضرورت پڑنے پر کسی بھروسے مند بڑے سے مدد لے۔
والدین اس بات کا دھیان رکھیں
والدین ہمیشہ اس با ت کاخیال رکھیں کہ بچوں سے کھل کر با ت چیت کرنا بہت ضروری ہے۔ ا س سے بچے درست فیصلے کرنا سیکھتے ہیں اور غلط صحبت سے بچتےہیں ۔