نئی نسل اگر سادگی کو اپنائے اور فضول مطالبات کو رد کرے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی و سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور علماء کو چاہئے کہ وہ نکاح کو آسان بنانے کے پیغام کو عام کریں۔
EPAPER
Updated: May 04, 2026, 8:41 PM IST | Dr. Asma Bint Rahmatullah | Mumbai
نئی نسل اگر سادگی کو اپنائے اور فضول مطالبات کو رد کرے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی و سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور علماء کو چاہئے کہ وہ نکاح کو آسان بنانے کے پیغام کو عام کریں۔
شادی انسانی زندگی کا ایک اہم اور فطری مرحلہ ہے جس کا مقصد سکون، محبت اور باہمی تعاون کا حصول ہےمگر بدلتے ہوئے معاشرتی رویوں، غیر ضروری رسم و رواج اور نمود و نمائش کی بڑھتی ہوئی خواہش نے اس آسان عمل کو مشکل اور بوجھل بنا دیا ہے۔ آج نکاح جو کبھی سادگی اور برکت کی علامت تھا، ایک مہنگی تقریب اور سماجی مقابلہ بن چکا ہے۔ کیا اب بھی ہمیں سنجیدگی سے غور نہیں کرنا چاہئے کہ آیا ہم شادی کو واقعی راحت کا ذریعہ بنا رہے ہیں یا خود اپنے ہاتھوں اسے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ میں تبدیل کر رہے ہیں۔
اصل مقصد پس پشت:
دراصل شادی کا مقصد پسِ پشت ڈال دیا گیاہے۔ نکاح کا اصل مقصد سکون اور پاکیزہ رشتہ قائم کرنا ہے۔ سوشل میڈیا کے بڑھتے ہوئے اثر کی وجہ سے شادی کو نمائش بنا دیا گیا ہے جس میں ہر چیز
’پرفیکٹ‘دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے جس سے دوسروں پر غیر ضروری دباؤ پڑتا ہے اور جو مالی اور ذہنی بوجھ کا سبب بنتا ہے۔
جہیز ایک سنگین سماجی مسئلہ :
وقت کے ساتھ جہیز کا رجحان تقویت پا رہا ہے۔ جہیز کو عزت کا معیار بنا دیا گیا ہے، حالانکہ یہ ایک غیر منصفانہ روایت ہے جو لڑکی کے گھر والوں پر ظلم کے مترادف ہے۔
قرض لے کر شادی کرنے کا رجحان :
اپنی حیثیت سے بڑھ کر خرچ کرنا اور اس کیلئے قرض لینا شادی کو خوشی کے بجائے پریشانی میں بدل دیتا ہے۔ ایسا نہیں کہ آج ضرورت ہے تو قرض لے لیا اور دو مہینے بعد لوٹا دیا۔ بہت سے والدین بچوں کی شادیوں کیلئے لیا ہوا قرض کئی کئی سال تک لوٹاتے رہتے ہیں۔ یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے!
یہ بھی پڑھئے: پُرامید سوچ اور مثبت جذبات زندگی کو خوشگوار بنا سکتے ہیں
مہنگائی اور حقیقت پسندی:
موجودہ معاشی حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ ہم سادگی کو اپنائیں اور غیر ضروری اخراجات سے بچیں۔ اگر ہم میں سے کچھ لوگوں کے پاس یا بہت سے لوگوں کے پاس کافی پس انداز شدہ رقم ہے تب بھی سادگی ہی کو اپنانا چاہئے اور تب بھی غیر ضروری اخراجات سے لازمی طور پر بچنا چاہئے۔
اسلامی تعلیمات کی رہنمائی:
دین اسلام نے نکاح کو آسان اور کم خرچ رکھنے کی تلقین کی ہے، جس میں ہمارے تمام مسائل کا حل موجود ہے۔ یاد رہنا چاہئے کہ غیر ضروری شرائط کی وجہ سے شادیاں تاخیر کا شکار ہوتی ہیں، جو معاشرتی اور اخلاقی مسائل کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔ والدین کو چاہئے کہ وہ بچوں کی شادی کو آسان بنائیں اور اپنی انا یا سماجی دباؤ کو اس میں رکاوٹ نہ بننے دیں۔
نوجوانوں کا کردار:
نئی نسل اگر سادگی کو اپنائے اور فضول مطالبات کو رد کرے تو معاشرے میں مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ اس سلسلے میں تعلیمی و سماجی اداروں کے ساتھ ساتھ اساتذہ اور علماء کو چاہئے کہ وہ نکاح کو آسان بنانے کے پیغام کو عام کریں۔
خواتین کا شعور:
اگر خواتین خود جہیز اور غیر ضروری رسومات کے خلاف کھڑی ہوں تو نہ صرف جہیز بلکہ کئی ایسی غیر ضروری رسموں کو ختم کیا جاسکتا۔ اس کیلئے شرط صرف اتنی ہے کہ وہ دُنیا کی طرف نہ دیکھیں اور یہ نہ سوچیں کہ کون کیا کہے گا؟ خواتین کے اقدامات ہی سے تبدیلی آئے گی۔
یہ بھی پڑھئے: دہی بمقابلہ یوگٹ: صحت، فرق اور انتخاب کی مکمل رہنمائی
اجتماعی شادیوں کا مثبت رجحان:
اجتماعی شادیاں ایک بہترین مثال ہیں جو سادگی اور آسانی کو فروغ دیتی ہیں۔ اس نکتے کو ذہن نشین رکھنا چاہئے کہ شادی کی کامیابی کا تعلق اخراجات سے نہیں بلکہ محبت، برداشت اور سمجھ بوجھ سے ہے۔ اگر ہر فرد سادگی کو اپنائے تو آہستہ آہستہ پورا معاشرہ بدل سکتا ہے۔
اس گفتگو کا ماحصل:
یہ فیصلہ ہمیں کو کرنا ہے کہ ہم شادی کو بوجھ بنائیں یا سامانِ راحت۔ اگر ہم سادگی، اعتدال اور شعور کو اپنائیں تو شادی واقعی سکون اور برکت کا ذریعہ بن سکتی ہے، ورنہ یہ ایک ایسا بوجھ بن جائے گی جس کا اثر پوری زندگی پر پڑتا ہے۔ آج کے دور میں ضرورت اس امر کی بھی ہے کہ ہم شادی کو صرف ایک دن یا چند تقریبات تک محدود نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک طویل مدتی ذمہ داری اور شراکت ِحیات کے طور پر دیکھیں، جہاں اصل اہمیت کردار، مزاج کی ہم آہنگی، دینی و اخلاقی اقدار اور باہمی احترام کو دی جائے۔ ہمیں اپنے بچوں کی تربیت اس انداز میں کرنی ہوگی کہ وہ زندگی کے اس اہم فیصلے کو شعور، سادگی اور حقیقت پسندی کے ساتھ قبول کریں، نہ کہ دوسروں کی دیکھا دیکھی یا وقتی جذبات کے زیر اثر۔ میڈیا، ڈراموں اور فلموں میں پیش کی جانے والی غیر حقیقی شادیوں کے تصورات سے نکل کر ہمیں ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہوگا جہاں نکاح کو آسان، پاکیزہ اور بابرکت عمل سمجھا جائے۔