Updated: June 03, 2026, 8:57 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار بوبی دیول نے ٹی وی شو آپ کی عدالت میں اپنے بچپن اور والد دھرمیندر کے ساتھ گہرے تعلق پر جذباتی انداز میں گفتگو کی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وہ ۱۴؍ سال کی عمر تک اپنے والدین کے بیڈ روم میں سوتے رہے اور دھرمیندر محبت سے انہیں ’’کدو‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ بوبی نے اپنے والد کی شخصیت، محبت، شفقت اور اثرات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسا انسان کوئی نہیں ہو سکتا۔
بوبی دیول والد دھرمیندر کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ اداکار بوبی دیول ان دنوں اپنی آنے والی فلم ’’بندر‘‘ کی ریلیز کی تیاریوں میں مصروف ہیں، لیکن حالیہ دنوں میں ان کی ایک اور وجہ سے بھی خوب چرچا ہو رہا ہے۔ مقبول ٹی وی پروگرام ’’آپ کی عدالت‘‘ میں گفتگو کے دوران بوبی نے اپنے والد، لیجنڈری اداکار دھرمیندر، کے ساتھ وابستہ کئی یادیں شیئر کیں اور اس دوران جذباتی بھی ہو گئے۔ گفتگو کے دوران بوبی دیول نے بتایا کہ بچپن میں ان کے گول مٹول گالوں اور موٹے جسم کی وجہ سے دھرمیندر نے ان کا عرفی نام ’’کدو‘‘ رکھ دیا تھا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے بتایا کہ ایک مرتبہ وہ اپنے والد کے ساتھ ایک فارم پر گئے جہاں مختلف سبزیاں اگائی جا رہی تھیں۔ وہاں انہوں نے ایک بڑا گول کدو دیکھا اور اپنے والد سے اس کے بارے میں پوچھا۔ دھرمیندر نے جواب دیا کہ یہ ’’کدو‘‘ ہے، اور پھر اسی دن سے وہ محبت سے اپنے بیٹے کو بھی ’’کدو‘‘ کہنے لگے۔
یہ بھی پڑھئے: عالیہ بھٹ ’’الفا‘‘ میں پیشہ ور قاتل کا کردار ادا کررہی ہیں
بوبی نے اپنی زندگی کے سب سے قیمتی لمحات یاد کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ وہ ۱۴؍ سال کی عمر تک اپنے والدین کے بیڈ روم میں ہی سوتے تھے۔ ان کے مطابق، وہ خود کو خوش قسمت سمجھتے ہیں کہ انہیں بچپن کے اتنے برس اپنے والدین کے اتنا قریب گزارنے کا موقع ملا۔ انہوں نے کہا کہ دھرمیندر اکثر رات گئے شوٹنگ سے واپس آتے تھے اور وہ جاگ کر ان کا انتظار کیا کرتے تھے۔ جب کبھی وہ بیمار ہوتے تو دھرمیندر اپنی انتہائی مصروفیات کے باوجود ان کا خاص خیال رکھتے تھے۔ بوبی کے مطابق ان لمحوں نے ان کے دل میں والد کے لیے بے پناہ محبت اور احترام پیدا کیا۔
اداکار نے بتایا کہ ان کی والدہ اکثر انہیں سمجھاتی تھیں کہ اب وہ بڑے ہو رہے ہیں اور انہیں اپنے کمرے میں جانا چاہیے، لیکن انہیں والدین سے اتنی وابستگی تھی کہ اس تبدیلی کو قبول کرنے میں انہیں ۱۴؍ سال لگ گئے۔ بوبی نے ایک دلچسپ عادت کا بھی ذکر کیا جو انہیں اپنے والد سے ورثے میں ملی۔ انہوں نے بتایا کہ دھرمیندر کو سوتے وقت کمرے میں ہلکی روشنی پسند تھی اور چونکہ وہ برسوں تک ان کے ساتھ سوتے رہے، اس لیے انہیں بھی یہی عادت پڑ گئی۔ بعد ازاں شادی کے بعد اس معاملے پر ان کی اہلیہ کے ساتھ ہلکے پھلکے اختلافات بھی ہوتے رہے، لیکن وقت کے ساتھ وہ بھی اس کی عادی ہو گئیں۔
یہ بھی پڑھئے: اہان پانڈے اور موہت سوری پھر ساتھ، یش راج فلمز کی نئی رومانوی فلم کی تیاری
شو کے دوران جب ایک ناظر نے سوال کیا کہ اگر دھرمیندر کی بائیوپک بنائی جائے تو ان کا کردار کون ادا کر سکتا ہے؟ تو بوبی دیول جذباتی ہو گئے۔ انہوں نے جواب دیا، ’’کوئی نہیں۔ کوئی بھی ان جیسا نہیں ہو سکتا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ دھرمیندر ایسے انسان تھے جو کسی کی بے عزتی یا ناانصافی برداشت نہیں کر سکتے تھے۔ اگرچہ وہ کبھی کبھار غصے میں سخت ردعمل بھی دیتے تھے، لیکن بعد میں اسی شخص کو عزت کے ساتھ اپنے پاس بٹھاتے، کھانا کھلاتے اور اس کی مدد بھی کرتے تھے۔ بوبی کے مطابق یہی ان کے والد کی اصل شخصیت تھی۔
اداکار نے کہا کہ بچپن سے ہی جب وہ لوگوں کو دھرمیندر کی تعریف کرتے سنتے تھے تو ان کے دل میں بھی اداکار بننے کا خواب پیدا ہوا۔ ان کے مطابق، ان کے والد نے نہ صرف ان کے کریئر بلکہ ذاتی زندگی پر بھی گہرا اثر ڈالا۔ یاد رہے کہ رواں سال اپریل میں دھرمیندر کو چیتک اسکرین ایوارڈز ۲۰۲۶ء میں لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ اس موقع پر بوبی دیول نے اپنے والد کی جانب سے ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ایک جذباتی خطاب بھی کیا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ دھرمیندر نے اپنی محبت اور سادگی سے کروڑوں لوگوں کے دل جیتے۔
یہ بھی پڑھئے: یَش چوپڑہ فاؤنڈیشن نے ہندی فلم انڈسٹری کے ورکرز کے بچوں کیلئے اسکالرشپ کا اعلان کیا
گفتگو کے دوران بوبی نے ایک اور دلچسپ انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ ان کا اصل نام وجے سنگھ دیول ہے جبکہ ان کے بڑے بھائی سنی دیول کا اصل نام اجے سنگھ دیول ہے۔ کام کے محاذ پر بوبی دیول جلد ہی ہدایتکار انوراگ کشیپ کی فلم ’’بندر‘‘ میں نظر آئیں گے، جو ۵؍ جون کو ریلیز ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ ان کے پاس YRF کی جاسوسی فلم ’’الفا‘‘ بھی ہے، جس میں عالیہ بھٹ اور شروری مرکزی کردار ادا کر رہی ہیں، جبکہ تمل فلم ’’جنا نایگن‘‘ بھی ان کے آنے والے منصوبوں میں شامل ہے۔