• Mon, 02 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

علامتی پارلیمان میں ’اسپیکر‘ میرا کمار کیلئے پنڈت نہرو کی کرسی رکھی گئی!

Updated: November 02, 2026, 12:24 PM IST | Agency | New Delhi

کانگریس کے لیڈر پون کھیڑا نے ایکس پر کہا کہ یہ کرسی ملک کی تاریخ کے کئی اہم ترین فیصلوں کی گواہ رہی ہے۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف سنیچر کوانڈیا اتحاد کے ’عوامی مواخذے‘ کیلئے منعقدہ علامتی پارلیمان کے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار جس کرسی پر بیٹھی تھیں، اس پر کبھی ملک کے پہلے وزیر اعظم پنڈت جواہر لعل نہرو بیٹھا کرتے تھے۔ یہ اطلاع کانگریس کے میڈیا اور پبلسٹی ڈپارٹمنٹ کے سربراہ پون کھیڑا نے دی، جو اس علامتی عوامی مواخذے کے انعقاد میں شامل تھے۔ پون کھیڑا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا، ’’آج چیف الیکشن کمشنر کے خلاف عوامی مواخذے کی کارروائی کے دوران میرا کمار جس کرسی پر بیٹھی تھیں، اس پر کبھی ہندوستان کے اولین وزیر اعظم جواہر لعل نہرو بیٹھا کرتے تھے، جو راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کے پردادا تھے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’وزیر اعظم کے طور پر اپنے پورے دور میں یہ نہرو جی کی کرسی رہی۔ یہ کرسی ملک کی تاریخ کے کئی اہم ترین فیصلوں کی گواہ رہی ہے اور یہ اپنے ساتھ اس وراثت کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: پنچکولہ اسکول معاملہ: بچی کی حالت خطرے سے باہر، ملزم بچے کو آبزرویشن ہوم بھیجا گیا

پون کھیڑا کے مطابق، آج اسی کرسی پر بیٹھ کر سابق اسپیکر لوک سبھا میرا کمار نے نہرو جی کے نظریات اور روح کا حوالہ دیتے ہوئے گیانیش کمار کو ہندوستان کے چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے نااہل قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’گیانیش کمار کو ہندوستان کے عوام مسترد کر چکے ہیں۔ اب ان کی رخصتی محض وقت کی بات ہے۔‘‘

خیال رہے کہ سنیچر کے روز انڈیا بلاک نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف علامتی عوامی مواخذے کی کارروائی کی۔ اپوزیشن نے ان پر انتخابات میں دھاندلی کے لئے ووٹ حذف کرنے کا الزام عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ ان کے خلاف غداری کے مقدمے میں عدالتی کارروائی کی جائے اور انہیں جیل بھیجا جائے۔ اس غیر معمولی پروگرام میں اپوزیشن کے اراکین  پارلیمنٹ اورلیڈران کیساتھ سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کی۱۰؍ راج جی مارگ واقع رہائش گاہ کے لان میں پارلیمانی کارروائی سے مشابہ ماحول میں ایک اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت لوک سبھا کی سابق اسپیکر میرا کمار نے کی۔ اس دوران گیانیش کمار کے خلاف ’مواخذے‘ کی قرارداد منظور کی گئی۔ کھرگے نے الزام لگایا کہ ووٹ دینے کا حق خطرے میں ہے، کیونکہ الیکشن کمیشن وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے اشاروں پر کام کر رہا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کا عوامی مواخذہ ایک ’’سیاسی ہتھیار‘‘ ہے، جس کا نشانہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے عوام کے ووٹوں کو تباہ کرنے کی سازش میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK