Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند، نیوزی لینڈ معاہدہ کو نیوزی لینڈ کے وزیر نے ’بٹر چکن سونامی‘ قرار دیا، تنازع

Updated: April 22, 2026, 7:06 PM IST | Wellington

نیوزی لینڈ ہندوستان معاہدہ کو نیوزی لینڈ کے وزیر کے ذریعے ’’بٹر چکن سونامی‘‘ قرار دیئے جانے نے تنازع کا رخ اختیار کر لیا ہے، ان کے اس غیر ذمہ دارانہ اور نسل پرستی پر مبنی بیان کی چو طرفہ مذمت کی جا رہی ہے، ناقدین کا کہنا ہے کہ ان کی زبان حد سے تجاوز کر گئی۔

New Zealand Senior Minister Shane Jones. Photo: X
نیوزی لینڈ کے سینئر وزیر شین جونزتصویر: ایکس
نیوزی لینڈ کے ایک سینئر وزیر شین جونز ہندوستان کے ساتھ مجوزہ آزاد تجارتی معاہدے کا مذاق اڑاتے ہوئے اسے ’’بٹر چکن سونامی‘‘ کہنے پر شدید تنقید کی زد میں ہیں۔ توقع ہے کہ نیوزی لینڈ اگلے ہفتے نئی دہلی میں یہ تجارتی معاہدہ طے کر لے گا۔ حالانکہ نیوزی لینڈ حکومت نے اسےنسل میں ایک بار ملنے والا موقع قرار دیا ہے جو دنیا کے سب سے زیادہ آبادی والے ملک ہندوستان میں بہت بڑے کاروباری مواقع فراہم کرسکتا ہے۔لیکن اتحادی حکومت میں شامل ایک جماعت کی شدید مخالفت کے بعد یہ معاہدہ سیاسی تنازع کا شکار ہو گیا ہے۔ جونز نے بعد میں اپنے متنازع تبصرے کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ وہ سیاسی مباحثوں میں توجہ حاصل کرنے کے لیے پرجوش زبان استعمال کرتے ہیں۔
 
 
ریڈیو نیوزی لینڈ کے مطابق، جونز نے کہا کہ بعض ارکان پارلیمان نے ان سے کہا ہے کہ وہ اپنی گفتگو کا لہجہ نرم کریں، لیکن ان کا ماننا ہے کہ سخت الفاظ ان کی بات کو اثرانداز ہونے میں مدد دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’میں مبالغہ آرائی کے ذریعے مباحثوں میں اپنی بات منواتا ہوں۔‘‘ بعد ازاں آن لائن گردش کرتی ایک ویڈیو میں، نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی کے نائب سربراہ نے کہا کہ ان کی جماعت ہندوستان کے ساتھ تجارتی معاہدے کو کبھی قبول نہیں کرے گی۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس معاہدے کے تحت ’’بے لگام امیگریشن‘‘ سے اجرت کم ہوں گی، سڑکوں پر ہجوم میں اضافہ ہوگا، اوراسپتالوں اور عوامی خدمات پر دباؤ پڑے گا۔ جونز نے کہا، ’’مجھے اس کی پرواہ نہیں کہ ہم پر کتنی تنقید ہوتی ہے۔ میں کبھی اس بات پر راضی نہیں ہوں گا کہ نیوزی لینڈ پر بٹر چکن سونامی آئے۔‘‘ 
دریں اثناء اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے جونز نے اس معاہدے کے نتیجے میں ہونے والی امیگریشن پر خدشہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے عوام اسے برداشت نہیں کریں گے، ساتھ ہی انہوں نے  اس معاہدے کے نتیجے میںنیوزی لینڈ کے بنیادی ڈھانچے اور ثقافت کی تباہی کی بھی پیش گوئی کی ہے۔حالانکہ جونز نے تسلیم کیا کہ متعدد اراکین پارلیمان نے نجی طور پر ان سےزبان کے استعمال میں احتیاط برتنے کو کہا تھا۔ تاہم لیبر پارٹی نے تبصرے کو نسل پرستانہ قرار دیا، پارٹی کے لیڈر کرس ہپکنز نے مارننگ رپورٹ پروگرام میں انٹرویو کے دوران ان تبصروں پر شدید تنقید کی۔انہوں نے کہا کہ یہ تبصرے ’’کم از کم نسل پرستانہ ہیں‘‘اور وزیراعظم کرسٹوفر لکسن پر زور دیا کہ وہ ان کے خلاف مزید سخت موقف اختیار کریں۔ 
 
 
جبکہ وزیراعظم نے تبصرے کو’’غیرمعاون‘‘ قرار دیا۔پیر کو کابینہ کے بعد کی پریس کانفرنس میں، وزیراعظم لکسن نے کہا کہ انہوں نے جونز کے مکمل تبصرے نہیں دیکھے تھے لیکن ان کا ماننا ہے کہ یہ اس تجارتی معاہدے کی ’’انتہائی غلط ترجمانی‘‘ ہے۔ساتھ ہی امیگریشن کے بارے پیدا ہونے والے خوف و ہراس کی بات کو جھوٹا قرار دیا۔آر این زیڈ کے مطابق، لکسن نے کہا، ’’ہم انہیں اعداد و شمار سے آگاہ کر چکے ہیں، ہم انہیں اس معاہدے کی تفصیلات سے آگاہ کر چکے ہیں۔ ہم ایسا کرتے رہیں گے، کیونکہ ہم چاہیں گے کہ وہ اپنے موقف پر نظرثانی کریں۔‘‘ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے  آزاد تجارتی معاہدوں کا دفاع کیا۔تاہم جب ان سے براہ راست پوچھا گیا کہ کیا وہ ان تبصروں کو نسل پرستانہ سمجھتے ہیں، تو لکسن نے واضح طور پر ہاں یا نہیں میں جواب نہیں دیا۔ بلکہ انہوں نے کہا کہ ’’یہ ٹھیک نہیں لگتا،‘‘ اور اس زبان کو ’’خوف پھیلانے والی‘‘ اور ’’غیرمعاون‘‘ قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK