نیپال نے سرکاری ملازمین کے لیے ماہانہ تنخواہ کو تبدیل کرکے پندرہ روزہ ادائیگی کا اعلان کیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نقدی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 10:59 AM IST | Kathmandu
نیپال نے سرکاری ملازمین کے لیے ماہانہ تنخواہ کو تبدیل کرکے پندرہ روزہ ادائیگی کا اعلان کیا ہے، حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نقدی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔
نیپال نے سرکاری ملازمین کے لیے ماہانہ تنخواہ کے نظام کو تبدیل کرکے پندرہ روزہ ادائیگی کا اعلان کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے ملک میں معاشی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور نقدی کے بہاؤ میں بہتری آئے گی۔ واضح رہے کہ یہ فیصلہ جمعہ کو وزارت خزانہ نے کیا، اور متعلقہ سرکاری اداروں کو اس پر عملدرآمد کی تیاریوں کے لیے حکم نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ دریں اثناءنئے نظام کے تحت سرکاری ملازمین اور دیگر ریاستی عملے کو روایتی ماہانہ نظام کے بجائے مہینے میں دو بار تنخواہ دی جائے گی۔حکام کے مطابق اس پالیسی کا مقصد معیشت کو زندہ کرنا ہے تاکہ ملازمین کو زیادہ بار رقم ملے، جس سے وہ باقاعدگی سے زیادہ خرچ کریں۔ ان کا کہنا ہے کہ بہتر نقدی بہاؤ معاشی گردش کو برقرار رکھنے میں مدد دے گا، خاص طور پر ایسے ملک میں جہاں سرکاری شعبے میں ملازمت رسمی افرادی قوت کا اہم حصہ ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بلغاریہ : عام انتخابات میں سابق صدر رادیف کی پارٹی کو بڑی کامیابی، وزیراعظم بننا یقینی
بعد ازاں حکام کا خیال ہے کہ اس اقدام سے کھپت پر مثبت اثر پڑے گا، کیونکہ بار بار تنخواہ ملنے سے اخراجات میں استحکام آئے گا۔ اگرچہ عالمی سطح پر یہ عام نہیں، لیکن یہ طریقہ کار امریکہ، برازیل اور آسٹریلیا جیسے ممالک میں رائج ہے جہاں دو ہفتہ یا پندرہ روزہ ادائیگیاں زیادہ عام ہیں۔تاہم جنوبی ایشیا میں نیپال کا یہ فیصلہ عمومی نظام سے واضح انحراف ہے۔یاد رہے کہ ہندوستان ،پاکستان، بنگلہ دیش، بھوٹان، سری لنکا اور مالدیپ سمیت دیگر ممالک میں سرکاری ملازمین کو ماہانہ تنخواہ کا نظام جاری ہے۔علاوہ ازیں اس پالیسی کے اعلان کے باوجود اس کے نفاذ میں قانونی مسائل درپیش ہیں۔جبکہ نیپال کا سول سروس ایکٹ فی الحال ماہانہ تنخواہ لازمی قرار دیتا ہے، جس کی دفعہ۲۸؍ کے مطابق سرکاری ملازمین کو ماہ مکمل ہونے کے بعد ہی تنخواہ اور الاؤنس مل سکتے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ نئے نظام کے مکمل نفاذ سے پہلے موجودہ قانون میں ترامیم کی ضرورت ہوگی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران جنگ بندی : کیا دنیا نئے معاشی بحران کی جانب بڑھ رہی ہے؟
تاہم فنانشل کنٹرولر جنرل آفس کے ترجمان دیپک لامی چھانے نے کہا کہ اس تبدیلی میں کوئی تکنیکی رکاوٹ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا، ’’تکنیکی طور پر ہمارے لیے یہ نظام نافذ کرنے میں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’سرکاری ملازمین، نیپالی فوج، پولیس اور مسلح پولیس فورس کی تنخواہیں کسی بھی وقت جاری کی جا سکتی ہیں۔تاہم انہوں نے قانونی پابندیوں کو تسلیم کرتے ہوئے کہا، کہ شاید حکومتی فیصلے کو جلد نافذ کرنے کے لیے کوئی راستہ نکالا جا سکتا ہے۔‘‘ تاہم پارلیمان کا اجلاس جاری نہ ہونے کی وجہ سے حکومت اس عمل کو نافذ کرنے کے لیے آرڈیننس لانے پر غور کر سکتی ہے۔ جبکہ حکام نے کہا کہ اس فیصلے پر عملدرآمد کے طریقہ کار پر بات چیت جاری ہے، لیکن ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ نیا ادائیگی نظام کب رسمی طور پر نافذ ہوگا۔