Updated: May 03, 2026, 4:06 PM IST
| Mumbai
موجودہ چیمپئن چین کا مقابلہ تھامس کپ کے فائنل میں پہلی بار فائنل تک پہنچنے والی فرانس کی ٹیم سے ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے سیمی فائنل میں سیدھے گیمز میں کامیابی حاصل کی، جس سے ایک روایتی مضبوط ٹیم اور ایک ابھرتی ہوئی یورپی ٹیم کے درمیان دلچسپ مقابلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
ہندوستانی ٹیم۔ تصویر:ایکس
موجودہ چیمپئن چین کا مقابلہ تھامس کپ کے فائنل میں پہلی بار فائنل تک پہنچنے والی فرانس کی ٹیم سے ہوگا۔ دونوں ٹیموں نے سیمی فائنل میں سیدھے گیمز میں کامیابی حاصل کی، جس سے ایک روایتی مضبوط ٹیم اور ایک ابھرتی ہوئی یورپی ٹیم کے درمیان دلچسپ مقابلے کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
عالمی چیمپئن اور دنیا کے نمبر ایک کھلاڑی شی یوکی نے ہفتہ کو صرف ۴۴؍ منٹ میں دنیا کے نمبر تین کھلاڑی اینڈرس اینٹنسن کو۱۶۔۲۱، ۵۔۲۱؍سے شکست دے کر چین کو شاندار آغاز دلایا۔ شی، جو شدید گیسٹرو اینٹرائٹس کے باعث پچھلے دو گروپ میچ نہیں کھیل سکے تھے، نے کہا کہ وہ اب تقریباً مکمل صحت یاب ہو چکے ہیں۔ ۳۰؍ سالہ کھلاڑی نے کہاکہ ’’دو گروپ میچ نہ کھیلنے سے مجھے آرام کا موقع ملا، جو میرے لیے فائدہ مند رہا۔ میری سب سے بڑی طاقت میرا فوکس برقرار رکھنا اور ٹیم کو۰۔۱؍ کی برتری دلانے کا عزم تھا۔‘‘
ڈبلز میں لیانگ وی کِنگ اور وانگ چانگ نے کم ایسٹروپ اور اینڈرس اسکارپ راسموسن کو۳۴؍ منٹ میں۱۸۔۲۱، ۱۷۔۲۱؍ سے شکست دے کر چین کی برتری کو مزید مضبوط کیا۔ وانگ نے کہاکہ ’’ہم میزبان کھلاڑیوں کے خلاف سخت مقابلے کے لیے تیار تھے، جو تجربہ کار ہیں اور انہیں گھریلو شائقین کی بھرپور حمایت حاصل تھی۔ خاص طور پر پہلے گیم کے اختتام پر جب اسکور بہت قریب تھا، ہمیں دباؤ محسوس ہوا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:۹؍ ریاستوں میں بارش، کئی مقامات پر ژالہ باری
اس کے بعد دنیا کے نمبر ۷؍ کھلاڑی لی شیفینگ نے دوسرے گیم میں ہار کے باوجود واپسی کرتے ہوئے میگنس جوہانسن کو۷۳؍ منٹ میں۱۹۔۲۱، ۲۱۔۱۸، ۹۔۲۱؍ سے شکست دے کر چین کو فائنل میں پہنچا دیا۔ لی نے کہاکہ ’’میں زیادہ جارحانہ کھیلنا چاہتا تھا، لیکن مجھے صبر سے کام لینا پڑا اور ایک ایک پوائنٹ حاصل کرنا پڑا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:نرگس نیشنل ایوارڈ حاصل کرنے والی پہلی اداکارہ تھیں
دوسرے سیمی فائنل میں ابھرتے ہوئے اسٹار ایلیکس لانیئر اور پوپوف برادران کی قیادت میں فرانس کی نوجوان ٹیم نے ہندوستان کو ۰۔۳؍ سے شکست دے کر پہلی بار تھامس کپ کے فائنل میں جگہ بنائی۔ فرانس کے ٹیم منیجر کرسٹوف ژینژین نے کہاکہ ’’ہم شروع سے ہی مسابقتی ذہنیت کے ساتھ میدان میں اترے، اور ٹیم کا ماحول بہت مثبت رہا۔ تمام میچ کافی قریب رہے۔ ہمیں کچھ مشکل لمحات کا سامنا کرنا پڑا، لیکن مجموعی طور پر ہم نے اچھا کھیل پیش کیا۔‘‘ فائنل کے حوالے سے انہوں نے کہاکہ ’’اچھی طرح آرام کریں، اپنی روٹین پر عمل کریں اور مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتریں۔ یہ ایک سخت مقابلہ ہوگا، ہم صرف اپنا بہترین کھیل پیش کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ چین اتوار کو دن میں پہلے اوبر کپ کے فائنل میں جنوبی کوریا کا سامنا کرے گا، جس کے بعد شام کو تھامس کپ کا فائنل کھیلے گا۔‘‘