Updated: October 23, 2026, 8:05 PM IST
| Dubai
دبئی میں مقیم ہند نژاد ماڈل، کاروباری شخصیت اور ماڈل ٹرینر انکیتا جین بھاٹیا نے ’مسز یو اے ای ورلڈ ۲۰۲۶ء‘ کا خطاب جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انکیتا کے لیے اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکاراؤں اور سابق عالمی حسن مقابلوں کی فاتحین ایشوریہ رائے بچن اور سشمیتا سین سے متاثر رہی ہیں۔
دبئی میں مقیم ہند نژاد ماڈل، کاروباری شخصیت اور ماڈل ٹرینر انکیتا جین بھاٹیا نے ’مسز یو اے ای ورلڈ ۲۰۲۶ء‘ کا خطاب جیت کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ انکیتا کے لیے اس کامیابی کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بالی ووڈ اداکاراؤں اور سابق عالمی حسن مقابلوں کی فاتحین ایشوریہ رائے بچن اور سشمیتا سین سے متاثر رہی ہیں۔ ان دونوں ہندوستانی حسیناؤں نے ۱۹۹۴ء میں عالمی سطح پر ہندوستان کا نام روشن کیا تھا؛ سشمیتا سین نے مس یونیورس اور ایشوریہ رائے نے مس ورلڈ کا خطاب حاصل کیا تھا۔ انکیتا نے ان کی کامیابیوں سے حوصلہ حاصل کرتے ہوئے اپنے لیے بھی ایک الگ شناخت بنانے کا خواب دیکھا۔ اب وہ متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرتے ہوئے عالمی حسن مقابلے میں حصہ لینے کی تیاری کر رہی ہیں۔
انکیتا جین بھاٹیا کا فیشن اور ماڈلنگ سے تعلق نوعمری میں قائم ہوا۔ ہندوستان میں دسویں جماعت کے امتحانات کی تیاری کے دوران ایک پڑوسی ڈیزائنر نے انہیں فوٹو شوٹ میں حصہ لینے کی پیشکش کی۔ ان کے والدین نے ان کی دلچسپی کی حوصلہ افزائی کی، جس کے بعد انہوں نے ماڈلنگ کی دنیا میں قدم رکھا اور ایلیٹ ماڈلنگ ایجنسی کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ سفر کا آغاز کیا۔ وقت کے ساتھ انکیتا نے فیشن کی صنعت میں اپنی جگہ بنائی اور ماڈلنگ کے خواہش مند افراد کی تربیت بھی شروع کردی۔ اس طرح انہوں نے صرف ایک ماڈل کے طور پر ہی نہیں بلکہ ایک تربیت کار کی حیثیت سے بھی تجربہ حاصل کیا۔ ان کا یہ سفر دو دہائیوں سے زیادہ عرصے پر محیط ہے۔
شادی کے بعد متحدہ عرب امارات منتقل ہونے کے باوجود انہوں نے اپنے پیشے کو ترک نہیں کیا۔ دبئی میں بھی انہوں نے ماڈلز کی تربیت کا سلسلہ جاری رکھا اور اپنے تجربے کو نئے مواقع میں تبدیل کیا۔ ان کے مطابق، کسی نئے ملک میں منتقل ہونا ان کے لیے اپنے خوابوں کو روکنے کے بجائے انہیں آگے بڑھانے کا موقع ثابت ہوا۔
انکیتا جین بھاٹیا اپنی کامیابی کا سہرا اپنے شوہر کی حمایت کو بھی دیتی ہیں۔ ان کی شادی کو تقریباً ۱۵؍ سال ہوچکے ہیں اور ان کا چھ سالہ بیٹا بھی ان کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ انکیتا کے مطابق، شوہر نے ان کے خوابوں کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے بیٹے نے بھی حسن مقابلے میں ان کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کیا۔انکیتا کا ماننا ہے کہ شادی اور ماں بننے کے بعد بھی خواتین اپنے پیشہ ورانہ خواب پورے کرسکتی ہیں۔ ان کے خیال میں گھر، خاندان اور کام کے درمیان توازن قائم کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور مستقل مزاجی ضروری ہے، لیکن خاندانی ذمہ داریاں کسی خاتون کی صلاحیتوں یا عزائم کے خاتمے کا سبب نہیں بننی چاہئیں۔
وہ حسن مقابلوں کو خواتین کے لیے اپنی بات دوسروں تک پہنچانے اور اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرنے کا ایک پلیٹ فارم بھی سمجھتی ہیں۔ ان کے مطابق، ایسے مقابلوں کے ذریعے خواتین کو اپنی شخصیت، اعتماد اور سماجی مقاصد کو نمایاں کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ انکیتا کے مطابق، متحدہ عرب امارات نے انہیں اپنے پیشہ ورانہ سفر کو آگے بڑھانے کے لیے اعتماد، آزادی اور نئے مواقع فراہم کیے۔ ہندوستان سے دبئی منتقل ہونے کے بعد انہوں نے ماڈلنگ کی تربیت جاری رکھی اور کاروباری سرگرمیوں میں بھی اپنی دلچسپی بڑھائی۔
یہ بھی پڑھئے:چین میں دھوم مچانے کو تیار مارول کی فلم ’’ایونجرز: ڈومز ڈے‘‘
وہ ہر روز اپنے لیے اہداف مقرر کرتی ہیں اور انہیں حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ کسی بھی کامیابی کے لیے مسلسل محنت اور آگے بڑھنے کا جذبہ ضروری ہے۔ اب وہ ’مسز یو اے ای ورلڈ ۲۰۲۶ء‘ کا خطاب حاصل کرنے کے بعد بین الاقوامی سطح پر متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرنے کی تیاری کر رہی ہیں۔ انکیتا کی یہ کامیابی ان خواتین کے لیے بھی حوصلہ افزا مثال ہے جو شادی، بچوں کی پرورش اور خاندانی ذمہ داریوں کے ساتھ اپنے پیشہ ورانہ خوابوں کو زندہ رکھنا چاہتی ہیں۔
حسن مقابلے کے علاوہ انکیتا جین بھاٹیا خواتین کی حفاظت کو بھی ایک اہم سماجی مسئلہ سمجھتی ہیں۔ انہوں نے دہلی میں پرورش پائی اور دبئی میں خواتین کو حاصل نقل و حرکت کی آزادی اور تحفظ کے احساس کو سراہا ہے۔ انکیتا چاہتی ہیں کہ انہیں حاصل ہونے والی شہرت اور عوامی توجہ کو خواتین کی حفاظت سے متعلق آگاہی اور تعلیمی اقدامات کے لیے استعمال کیا جائے۔ ان کا ارادہ ہے کہ مستقبل میں اس شعبے میں کوئی ایسا منصوبہ شروع کریں جس کے ذریعے خواتین کو زیادہ محفوظ ماحول فراہم کرنے کی کوشش کی جاسکے۔ ان کے مطابق، معاشرتی مسائل کو ایک ہی دن میں ختم نہیں کیا جاسکتا، لیکن مسلسل کوششوں اور آگاہی کے ذریعے مثبت تبدیلی کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ ان کا مقصد صرف حسن کا خطاب حاصل کرنا نہیں بلکہ اس کے ذریعے کسی بامعنی سماجی مقصد کو بھی آگے بڑھانا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:بین اسٹوکس نے ایشیز میں واپسی کی خبروں کو گمراہ کن قرار دے دیا
انکیتا اپنی جسمانی صحت اور ظاہری رکھ رکھاؤ کے لیے باقاعدہ معمول پر عمل کرتی ہیں۔ ان کے روزمرہ معمول میں ورزش، طاقت بڑھانے والی مشقیں اور کھلی فضا میں دوڑنا شامل ہیں۔ وہ اپنی جلد، غذا اور مجموعی صحت کا بھی خیال رکھتی ہیں۔انہوں نے اپنے صبح کے معمول کے بارے میں بتایا کہ وہ مختلف مشروبات استعمال کرتی ہیں، جن میں نیم گرم پانی، چیا کے بیج، شہد اور لیموں، سونف اور زیرے سے تیار کردہ مشروب، آملہ کا رس اور ہلدی و گھی ملا نیم گرم پانی شامل ہیں۔ وہ ان مشروبات کو اپنے معمول کا حصہ قرار دیتی ہیں، تاہم یہ ان کا ذاتی معمول ہے، کسی طبی مشورے کا متبادل نہیں۔ انکیتا کے مطابق، حسن مقابلے کی تیاری میں متوازن غذا، ورزش، اعتماد اور اسٹیج پر خود کو پیش کرنے کا انداز اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ انتہائی سخت غذائی پابندیوں کے بجائے اپنی مجموعی صحت اور جسمانی سرگرمیوں پر توجہ دیتی ہیں۔
انکیتا نے بتایا کہ ایشوریہ رائے کی خوبصورتی اور شخصیت نے انہیں متاثر کیا، جبکہ سشمیتا سین کی کامیابی بھی ان کے لیے حوصلے کا ذریعہ رہی۔ دونوں اداکاراؤں نے ۱۹۹۴ء میں بین الاقوامی حسن مقابلوں میں کامیابی حاصل کرکے ہندوستانی خواتین کے لیے نئی مثال قائم کی تھی۔ تاہم انکیتا کا کہنا ہے کہ وہ فی الحال بالی ووڈ میں کام کرنے کے بجائے اپنی الگ شناخت اور ایک دیرپا وراثت قائم کرنے پر توجہ دینا چاہتی ہیں۔ ان کے لیے ’مسز یو اے ای ورلڈ‘ کا خطاب ایک نئے سفر کی ابتدا ہے، جس کے ذریعے وہ اپنی صلاحیتوں کو عالمی سطح پر پیش کرنے اور خواتین کی حوصلہ افزائی کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ انکیتا جین بھاٹیا کو ۱۰؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو دبئی میں منعقدہ تقریب میں ’مسز یو اے ای ورلڈ ۲۰۲۶ء‘ کا تاج پہنایا گیا۔ اب وہ عالمی مقابلے میں متحدہ عرب امارات کی نمائندگی کرنے کے لیے تیاری کریں گی۔ بعض رپورٹس میں عالمی مقابلے کے لیے ۲۰۲۷ء کا ذکر کیا گیا ہے، اس لیے ان کی بین الاقوامی شرکت کی حتمی تاریخ اور مقام کی تصدیق متعلقہ منتظمین کے اعلان سے کی جانی چاہیے۔