• Sat, 03 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران میں مظاہرے: ۶؍ افراد ہلاک، ٹرمپ نے خبردار کیا کہ مظاہرین کو مارا نہ جائے، موساد بھی میدان میں

Updated: January 02, 2026, 7:03 PM IST | Tehran/Washington

احتجاج کے دوران، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن مواد کی بھرمار ہے۔ ایرانی صارفین اور آزاد مانیٹرنگ اداروں نے اے آئی سے تیار کردہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز کی نشان دہی کی ہے جنہیں احتجاج کے حقیقی مناظر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

ایران میں شدید معاشی بحران کے خلاف احتجاج متعدد شہروں تک پھیل گیا ہے جس کے نتیجے میں ۷ ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ ملک میں جاری حالیہ احتجاج، ۲۳-۲۰۲۲ء کے ملک گیر مظاہروں کے بعد بے چینی کی سب سے سنگین لہر ہے۔ ان احتجاجی مظاہروں کی فوری وجہ ایرانی ریال کی قدر میں بھاری گراوٹ، آسمان کو چھوتی افراطِ زر اور زندگی گزارنے کے بڑھتے اخراجات جیسے مسائل کو قرار دیا جارہا ہے، جنہوں نے ملک بھر میں گھرانوں کو معاشی طور پر نچوڑ کر رکھ دیا ہے۔

ایران کی نیم سرکاری نیوز ایجنسی ’فارس‘ کے مطابق، تہران سے تقریباً ۳۰۰ کلومیٹر جنوب مغرب میں واقع صوبہ لرستان کے شہر ازنا میں احتجاج کے دوران ۳ افراد ہلاک اور ۱۷ دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، تصادم اس وقت شروع ہوا جب مظاہرین نے انتظامی عمارتوں کو نشانہ بنایا، جس کے جواب میں پولیس نے آنسو گیس کا استعمال کیا۔ انٹرنیٹ پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں سڑکوں پر لگی آگ اور گولیوں کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں، جبکہ مظاہرین حکام پر بدعنوانی کے الزامات لگاتے ہوئے نعرے بازی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ایران: عوام کے احتجاج میں شدت، صدر نے اتحاد کی اپیل کی، جلاوطن ولی عہد کا ’نئے ایران کےجنم‘ کا اعلان

اس سے قبل، ’فارس‘ نے بتایا تھا کہ صوبہ چہار محال و بختیاری کے شہر لوردیگان میں ۲ افراد ہلاک ہوئے، جہاں مظاہرین نے مبینہ طور پر سرکاری دفاتر، بینکوں اور دیگر عوامی عمارتوں پر پتھراؤ کیا تھا۔ علیحدہ طور پر، ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن نے تصدیق کی ہے کہ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) سے وابستہ رضاکار فورس `بسیج` کا ایک ۲۱ سالہ اہلکار صوبہ لرستان ہی کے شہر کوہ دشت میں رات گئے ہلاک ہوگیا۔

واضح رہے کہ احتجاج کا آغاز اتوار کے دن ہوا جب تہران کے گرینڈ بازار میں دکانداروں نے اپنی دکانیں بند کرکے معیشت کے حوالے سے حکومتی طرزِ عمل کے خلاف آواز بلند کی۔ اس کے بعد مظاہرے کئی شہروں میں پھیل گئے اور ۱۰ سے زائد یونیورسٹیوں کے طلبہ کی شمولیت کے بعد احتجاج میں مزید تیزی آئی ہے۔ ایران کی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ ملک کا معاشی بحران گزشتہ ایک سال کے دوران شدید تر ہوچکا ہے۔ ریال اپنی قدر کا تقریباً ۷۰ فیصد کھو چکا ہے، افراطِ زر کا تخمینہ ۴۶ فیصد ہے اور پابندیوں کے ساتھ اسرائیل کے ساتھ جون میں ہونے والے تنازع کے اثرات نے سرکاری خزانے پر مزید دباؤ ڈال دیا ہے۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے استحکام کی بحالی کیلئے ہنگامی اقدامات کے طور پر مرکزی بینک کی قیادت میں تبدیلیوں کی اطلاع دی ہے۔ حکومتی یقین دہانیوں کے باوجود، مظاہرین شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ برسوں کی پابندیوں، ناقص انتظام اور سیاسی جبر نے ملک کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ظہران ممدانی کی پہلی تقریر، ٹرمپ پر تنقید، قرآن مجید کے ۳؍ نسخوں پر حلف کیوں؟

صدر کی صورتحال کو پرامن کرنے کی کوشش

ایرانی صدر مسعود پیزشکیان نے صورتحال کو پرامن بنانے کی جانب قدم اٹھاتے ہوئے مظاہرین کے ان مطالبات کو تسلیم کرنے کیلئے رضامندی ظاہر کی جنہیں انہوں نے ”جائز مطالبات“ قرار دیا۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریب میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے خبردار کیا کہ لوگوں کے معاش کے مسائل حل کرنے میں ناکامی کے سنگین نتائج برآمد ہوگے۔ حکومتی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا کہ حکام ٹریڈ یونینوں اور تاجروں کے ساتھ براہِ راست بات چیت کا آغاز کریں گے، اگرچہ اس کی تفصیلات ابھی غیر واضح ہیں۔

ان مصالحتی پیغامات کے باوجود، حکام نے ان کوششوں کے خلاف بھی خبردار کیا جنہیں وہ ’معاشی احتجاج کو عدم استحکام پیدا کرنے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش‘ قرار دیتے ہیں۔ ایران کے پراسیکیوٹر جنرل نے کہا کہ مظاہروں کو تشدد یا عوامی املاک کی تباہی میں بدلنے کی کسی بھی تحریک کو ”فیصلہ کن جواب“ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ ریاست سے وابستہ میڈیا نے بیرونِ ملک دشمن گروہوں سے مبینہ تعلق رکھنے والے ۷ افراد کی گرفتاری کی اطلاع بھی دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: روس یوکرین سے جنگ جیت جائے گا، سال نو کی تقریر میں پوتن کا دعویٰ

ٹرمپ کا ایران کو مظاہرین کو قتل کرنے کے خلاف انتباہ

ایران میں عوامی مظاہروں میں شدت کے درمیان، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے تہران کو ایک سخت انتباہ جاری کیا۔ جمعہ کو اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ٹرمپ نے کہا کہ اگر ایرانی حکام نے پرامن مظاہرین کو قتل کیا تو امریکہ اس کا جواب دینے کیلئے ”لاکڈ اینڈ لوڈڈ“ (مکمل طور پر تیار) ہے۔ ٹرمپ نے لکھا کہ ”اگر ایران پرامن مظاہرین کو گولی مارتا ہے اور پرتشدد طریقے سے قتل کرتا ہے، جو اس کا وتیرہ ہے، تو ریاستہائے متحدہ امریکہ ان کی مدد کیلئے آئے گا۔“

اسرائیلی ایجنسی موساد کا ایرانی مظاہرین کو پیغام: ”ہم آپ کے ساتھ ہیں“

اسرائیلی انٹیلی جنس ایجنسی ’موساد‘ فارسی زبان میں عوامی پیغامات جاری کرکے ایرانیوں کو اپنی حکومت کے خلاف احتجاج جاری رکھنے کی ترغیب دے رہی ہے۔ سوشل میڈیا پر اپنے فارسی پوسٹس میں موساد نے ان ہنگاموں کو ایک فیصلہ کن موڑ قرار دیا اور مظاہرین پر زور دیا کہ وہ سڑکوں پر بنے رہیں۔ اسرائیل آرمی ریڈیو کے مطابق، ایک پیغام میں کہا گیا: ”سب مل کر سڑکوں پر نکلیں۔ وقت آگیا ہے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں۔“ پیغام میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ یہ حمایت صرف لفظی نہیں بلکہ ”زمین پر (عملی طور پر)“ بھی موجود ہے۔ اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق، یہ پیغامات انفرادی بیانات کے بجائے ایک مربوط مہم کا حصہ معلوم ہوتے ہیں جس کا مقصد تہران پر دباؤ بڑھانا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ترکی :نئے سال کے پہلے دن استنبول میں غزہ مارچ ، ۵؍لاکھ افراد کی شرکت

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن مواد کی بھرمار

احتجاج کے دوران، سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گمراہ کن مواد کی بھرمار ہے۔ ایرانی صارفین اور آزاد مانیٹرنگ اداروں نے مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ ایسی تصاویر اور ویڈیوز کی نشان دہی کی ہے جنہیں احتجاج کے حقیقی مناظر کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ اے آئی سے تیار کردہ ان ویڈیوز میں مظاہرین کے خلاف واٹر کینن کے استعمال کے مناظر بھی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس قسم کا مواد غصہ بھڑکانے اور خوف و ہراس پھیلانے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK