Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران نے امریکی واسرائیلی یونیورسٹیوں کو جائزہدف قراردیا

Updated: March 31, 2026, 12:31 PM IST | Agency | Tehran

ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں قائم تمام امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو اپنے لیے جائز اہداف قرار دیتے ہوئے وہاں موجود طلبہ اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے۔

There are many American universities located in Middle Eastern countries.Photo: INN
مشرق وسطیٰ کے ممالک میں امریکہ کی کئی یونیورسٹیاںو اقع ہیں۔-تصویر:آئی این این
 ایرانی پاسداران انقلاب نے مشرق وسطیٰ میں قائم تمام امریکی اور اسرائیلی یونیورسٹیوں کو اپنے لیے جائز اہداف قرار دیتے ہوئے وہاں موجود طلبہ اور عملے کو فوری طور پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت جاری کر دی ہے تاکہ کسی بڑے جانی نقصان سے بچا جا سکے ۔ پاسداران انقلاب کا یہ بیان تہران یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اور اصفہان یونیورسٹی پر ہونے والی حالیہ بمباری کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان حملوں کا ذمہ دار امریکی اور اسرائیلی افواج کو ٹھہراتے ہوئے اسے تعلیمی مراکز کے خلاف کھلی جارحیت قرار دیا ہے۔واضح رہےکہ ایران نے امریکہ کو انتباہ دیا تھا کہ اگر اس نے پیر کی دوپہر تک ایران کے اسکول پرحملے کی باضابطہ مذمت نہیںکی تومشرق وسطیٰ میں اس  کے تعلیمی اداروں پرحملہ ایران کیلئے جائز ہوگا۔
 
 
پاسداران انقلاب نے مزید کہا کہ خطے میں موجود امریکی یونیورسٹیوں کے اساتذہ، طلبہ اور مقامی   باشندوں کو چاہیے کہ وہ اپنی جانوں کے تحفظ کے لیے ان مقامات سے کم از کم ایک کلومیٹر دور رہیں۔ یہ دھمکی تب تک برقرار رہے گی جب تک اتحادی افواج تعلیمی مراکز پر حملے نہیں روکتی ۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ان واقعات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کا اصل مقصد ایران کی سائنسی اور ثقافتی بنیادوں کو تباہ کرنا ہے ۔ انہوں نے مزید کہا کہ جوہری پروگرام کا بیانیہ محض ایک بہانہ ہے جس کا مقصد اپنے گھناؤنے عزائم کو چھپانا ہے۔ 
 
 
اسماعیل بقائی نے یہ بھی کہا کہ تعلیمی اداروں اور تحقیقی مراکز کو جان بوجھ کر نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ملک کی علمی ترقی کو روکا جا سکے۔ ایران نے واضح کیا کہ وہ اپنی سائنسی اور تعلیمی روایات کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد تک جانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے ۔ حکام کے مطابق ایرانی  اسکولوں اوریونیورسٹیوں کو نشانہ بنانا دراصل ملک کی ترقی یافتہ نسل کو کمزور کرنے کی ایک منظم کوشش ہے۔ تہران نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ تعلیمی اداروں پر ہونے والی ان کارروائیوں کا نوٹس لے تاکہ خطے میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK