اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا کہ لبنان کے خلاف فوجی کارروائیاں جاری رہیںگی اورہم اہم علاقوں پر قبضہ کررہے ہیں۔
مرکزی بیروت میں اسرائیلی حملے میں تباہ ہونےوالی عمارت کا ملبہ دیکھا جاسکتا ہے-تصویر:آئی این این
عالمی سطح پر تنقیدوں کے باوجود لبنان میں اسرائیلی حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے ہیں۔ ایک جانب جنگ بندی مذاکرات جاری ہیں، وہیں دوسری جانب اسرائیل لبنان پر مسلسل حملے کررہا ہے۔رپورٹ کے مطابق بدھ کو بھی جنوبی لبنان کے مختلف حصوں پر اسرائیلی طیاروں نے بمباری کی ہے۔اس دوران ۱۳؍ افراد جاں بحق ہوئے جبکہ درجنوں زخمی ہیں۔
حملے جاری رہیں گے: اسرائیلی فوج
اسرائیل کے اعلیٰ فوجی جنرل ایال زمیر نے لبنان اور ایران میں حملے جاری رکھنے کے منصوبوں کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ نے کہا کہ’’لبنان اور ایران دونوں میں کارروائیوں کے تسلسل کے لیے منصوبوں کی منظوری دے دی گئی ہے۔‘‘انہوں نے کہا کہ فوج نے امریکہ کے ساتھ مل کر ایران پر حملے کیے ہیں، انہیں سخت نقصان پہنچایا، ان کی دفاعی صلاحیتوں کو ختم کر دیا اور انہیں کمزور کر دیا ہے۔لبنان کے حوالے سے، زمیر نے کہا کہ اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حملے جاری ہیں۔ ہم اہم علاقوں پر قبضہ کر رہے ہیں، انہیں صاف کر رہے ہیں اور شمالی بستیوں سے خطرات کو ختم کر رہے ہیں۔‘‘
اسرائیل نے عارضی جنگ بندی کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا
اسرائیل نے لبنان میں عارضی جنگ بندی کا امریکی مطالبہ مسترد کردیا ہے۔اسرائیلی میڈیا کا کہنا ہے کہ لبنان میں عارضی جنگ بندی مطالبے کو حزب اللہ کے حملوں کے باعث مسترد کیا۔عرب میڈیا کے مطابق اسرائیلی فوج کی جنوبی لبنان پر بمباری جاری ہے، اسرائیلی فوج نے۲۴؍ گھنٹوں میں لبنان میں حزب اللہ کے۲۰۰؍ سے زائد اہداف کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔اسرائیلی فوج نے قصبے عبا، حاروف، قصیبہ اور بریقع پر ڈرون طیاروں سے حملے کیے۔
اسرائیل اور لبنان کے درمیان تین دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات
لبنان اور اسرائیل نے تین دہائیوں سے زائد عرصے کے بعد اپنی پہلی سفارتی بات چیت کی ہے۔ بی بی سی کی بدھ کی رپورٹ کے مطابق، یہ ملاقات اسرائیل اور ایران کے حمایت یافتہ گروپ حزب اللہ کے درمیان جاری لڑائی کو ختم کرنے کے مقصد سے کی گئی ہے۔ مذاکرات کی اہم تفصیلات کے مطابق اس بات چیت کی ثالثی امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی، جنہوں نے اسے حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کا ایک تاریخی موقع قرار دیا۔ امریکہ کے مطابق دونوں فریق ایک طے شدہ وقت اور مقام پر براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے پر متفق ہو گئے ہیں، جبکہ مطالبات کے تحت اسرائیل نے تمام غیر سرکاری مسلح گروہوں، خصوصاً حزب اللہ، کو غیر مسلح کرنے کا مطالبہ کیا ہے اور لبنان نے فوری جنگ بندی کے ساتھ انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا ہے۔
دونوں ممالک کے درمیان آخری بار براہِ راست اعلیٰ سطح کے مذاکرات۱۹۹۳ء میں ہوئے تھے، جبکہ حالیہ کشیدگی میں۲؍مارچ کو لبنان میں اسرائیلی فوجی آپریشن شروع ہونے کے بعد سے اب تک۲؍ سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔