’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ کی کامیابی کے بعد ہدایتکار جیمس کیمرون نے کہا ہے کہ ’’اوتار۴‘‘ زیر غور ہے۔ اگر یہ فلم بنتی ہے تو اس میں وہ غلطیاں نہیں کی جائیں گی جو پہلی فلموں میں ہوئی ہیں۔
EPAPER
Updated: March 11, 2026, 6:11 PM IST | Los Angeles
’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ کی کامیابی کے بعد ہدایتکار جیمس کیمرون نے کہا ہے کہ ’’اوتار۴‘‘ زیر غور ہے۔ اگر یہ فلم بنتی ہے تو اس میں وہ غلطیاں نہیں کی جائیں گی جو پہلی فلموں میں ہوئی ہیں۔
جیمز کیمرون نے اوتار سیریز کی چوتھی فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر اگلا حصہ بنایا گیا تو وہ پچھلی تین فلموں سے حاصل ہونے والے تجربات سے ضرور سیکھیں گے۔ ان کے مطابق ابھی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، لیکن فرنچائز کے مستقبل پر غور جاری ہے۔ ہدایت کار کے مطابق ’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ کی کامیابی کے بعد ٹیم اس بات پر بھی غور کر رہی ہے کہ اگلی فلم میں کچھ کرداروں کو مزید نمایاں کیا جائے، کیونکہ ناظرین کے ردعمل نے کہانی کے بعض عناصر کو خاص طور پر مقبول بنا دیا ہے۔
فلمساز جیمز کیمرون نے ۲۰۰۹ء میں فلم ’’اوتار‘‘ کی ہدایت کاری کی تھی جس نے باکس آفس کے تقریباً تمام ریکارڈ توڑ دیے تھے۔ اس فلم نے دنیا بھر میں تقریباً ۹۲ء۲؍ ارب ڈالر کی کمائی کی اور اب تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔ اس کے بعد ۲۰۲۲ء میں ’’اوتار: دی وے آف واٹر‘‘ ریلیز ہوئی جس نے عالمی باکس آفس پر تقریباً ۳۳ء۲؍ ارب ڈالر کمائے اور یہ تاریخ کی تیسری سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی۔ اس کے تین سال بعد جیمز کیمرون فرنچائز کی تیسری قسط ’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ کے ساتھ واپس آئے۔ اس فلم نے دنیا بھر میں تقریباً ۵ء۱؍ ارب ڈالر کی کمائی کی اور اس وقت یہ اب تک کی پندرہویں سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم شمار کی جا رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’کالکی ۲۸۹۸؍ اے ڈی‘‘ میں کمل ہاسن کی مبینہ ۱۵۰؍ کروڑ فیس پر نئی بحث
فلم کی ریلیز کے چند دن بعد جب جیمز کیمرون سے چوتھی فلم کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے مزاحیہ انداز میں جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ جیسے کوئی عورت ابھی بچے کو جنم دینے کے بعد فوراً اگلے بچے کے بارے میں سوال سننا نہیں چاہتی، ویسے ہی وہ بھی ابھی نئی فلم ریلیز کرنے کے بعد فوراً اگلے حصے کے بارے میں بات نہیں کرنا چاہتے۔ بعد میں سیٹرن ایوارڈز کی ایک پریس کانفرنس میں جب ان سے دوبارہ پوچھا گیا کہ کیا وہ آئندہ فلموں میں کوئی تبدیلیاں کرنے کا سوچ رہے ہیں تو انہوں نے کہا کہ ابھی تک اگلے مرحلے پر باضابطہ فیصلہ نہیں کیا گیا۔ تاہم اگر اگلی فلم بنائی جاتی ہے تو ٹیم یقیناً پچھلی تین فلموں سے حاصل ہونے والے تجربات کو مدنظر رکھے گی۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ نئی فلم میں بعض کرداروں کو زیادہ نمایاں کیا جا سکتا ہے۔ ان کے مطابق فائر اینڈ ایش میں ورنگ نامی کردار کو کہانی میں اپنی جگہ بنانے کے لیے کچھ زیادہ توجہ کی ضرورت ہو سکتی ہے کیونکہ فلم میں کئی کردار اور کہانی کے مختلف پہلو ایک ساتھ چل رہے تھے۔ جیمز کیمرون نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ ناظرین کے ردعمل سے انہیں مستقبل کی کہانیوں کے بارے میں اشارے ملتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ دی وے آف واٹر میں ناظرین نے پایاکن نامی کردار کو بہت زیادہ پسند کیا تھا اور وہ فلم کے مقبول ترین کرداروں میں سے ایک بن گیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: عامر خان نے ’’لاہور ۱۹۴۷ء‘‘ کا عنوان بدلنے کی افواہوں کی تردید کر دی
اگرچہ ’’اوتار: فائر اینڈ ایش‘‘ فرنچائز کی سب سے کم کمائی کرنے والی فلم رہی، لیکن یہ اب بھی دنیا کی سب سے کامیاب فلموں میں شامل ہے۔ اوتار فرنچائز میں کئی معروف اداکار شامل ہیں جن میں سیم ورتھنگٹن، زوئی سالڈانا، سیگورنی ویور، اسٹیفن لینگ، کیٹ ونسلیٹ اور اونا چپلن شامل ہیں۔ ان اداکاروں کی پرفارمنس اور جیمز کیمرون کی بصری کہانی سنانے کی صلاحیت نے اس سیریز کو عالمی سنیما کی سب سے کامیاب فرنچائزز میں شامل کر دیا ہے۔