لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال نے دنیا بھر میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہندوستان سمیت عالمی برادری نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ امریکی اداکار اور ریسلر جان سینا کا خاموش انداز خاص توجہ کا مرکز بن گیا۔
EPAPER
Updated: April 14, 2026, 7:20 PM IST | Mumbai
لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال نے دنیا بھر میں غم کی لہر دوڑا دی ہے۔ ہندوستان سمیت عالمی برادری نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا، جبکہ امریکی اداکار اور ریسلر جان سینا کا خاموش انداز خاص توجہ کا مرکز بن گیا۔
ہندوستان کی عظیم گلوکارہ آشا بھوسلے کا ۱۲؍ اپریل کو ۹۲؍ سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال ہو گیا، جس کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے چاہنے والوں کے درمیان گہرے غم اور صدمے کی فضا قائم ہو گئی۔ کئی دہائیوں پر محیط ان کا کریئر موسیقی کی تاریخ کا ایک سنہری باب سمجھا جاتا ہے، جس میں ہزاروں گانے، متعدد زبانیں اور بے شمار لازوال دھنیں شامل ہیں۔ ان کی وفات کے بعد عالمی سطح پر ردعمل سامنے آیا، جس نے یہ واضح کر دیا کہ آشا بھوسلے کی مقبولیت صرف برصغیر تک محدود نہیں تھی بلکہ انہوں نے بین الاقوامی سطح پر بھی اپنی شناخت قائم کی تھی۔ مختلف ممالک سے فنکاروں، مداحوں اور عوامی شخصیات نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا اور ان کی موسیقی کو اپنی زندگی کا حصہ قرار دیا۔
اسی سلسلے میں امریکی اداکار اور ریسلر جان سینا کا ردعمل خاص طور پر نمایاں رہا۔ جان سینا، جو عموماً اپنے انسٹاگرام پر مزاحیہ یا بے ترتیب مواد شیئر کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں، نے اس بار ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ انہوں نے آشا بھوسلے کی ایک تصویر بغیر کسی کیپشن یا وضاحت کے پوسٹ کی۔ یہ خاموش خراجِ عقیدت اپنی سادگی میں انتہائی معنی خیز ثابت ہوا۔ سوشل میڈیا صارفین، خاص طور پر ہندوستانی مداحوں نے اس پوسٹ کو بڑے پیمانے پر سراہا۔ کئی صارفین نے کمنٹس میں لکھا کہ کسی الفاظ کے بغیر بھی یہ پوسٹ احترام اور عقیدت کا ایک مضبوط پیغام دیتی ہے۔ کچھ مداحوں نے اسے اس بات کی علامت قرار دیا کہ آشا بھوسلے کی شخصیت اور فن کسی تعارف کے محتاج نہیں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: آخری مرتبہ آشا جی سے بات ہوئی تو وہ بیمار تھیں مگر گنگنا رہی تھیں: طلعت عزیز
یہ واقعہ اس وسیع اثر کی بھی عکاسی کرتا ہے جو آشا بھوسلے نے دنیا بھر میں چھوڑا۔ ایک ایسی گلوکارہ جنہوں نے مختلف زبانوں اور موسیقی کی اصناف میں کام کیا، وہ مغربی دنیا کے ایک بڑے پاپ کلچر آئیکن کو بھی متاثر کرنے میں کامیاب رہیں۔ ان کا فن ثقافتی اور جغرافیائی حدود سے کہیں آگے نکل چکا تھا۔ ممبئی میں ان کی آخری رسومات مکمل سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔ شیواجی پارک میں منعقدہ تقریب میں ان کے جسد خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا، جو ان کی خدمات کے اعتراف کا مظہر تھا۔ ان کے بیٹے آنند بھوسلے نے آخری رسومات ادا کیں، جبکہ ان کی پوتی زنائی بھوسلے اور متعدد فلمی و سماجی شخصیات بھی اس موقع پر موجود تھیں۔
تقریب میں شریک افراد نے آشا بھوسلے کی زندگی، ان کے فن اور ان کے اثرات کو یاد کیا۔ کئی فنکاروں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی آواز نے نسلوں کو جوڑا اور موسیقی کو ایک نئی جہت دی۔ آشا بھوسلے کا انتقال نہ صرف ایک عظیم فنکار کے سفر کا اختتام ہے بلکہ ایک ایسے دور کا خاتمہ بھی ہے جس نے ہندوستانی موسیقی کو عالمی سطح پر شناخت دلائی۔ تاہم، ان کی گائی ہوئی دھنیں، ان کی آواز اور ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا اور آنے والی نسلوں کو متاثر کرتا رہے گا۔