Updated: April 14, 2026, 6:02 PM IST
| Mumbai
لیجنڈری گلوکارہ آشا بھوسلے کے انتقال نے پوری موسیقی دنیا کو غم میں مبتلا کر دیا ہے۔ معروف گلوکار طلعت عزیز نے ان کے ساتھ اپنی آخری گفتگو کو یاد کیا، جس میں انہوں نے بتایا کہ بیماری کے باوجود آشا بھوسلے نے ویڈیو کال پر گانا گایا اور اپنی آواز کے بارے میں رائے طلب کی۔
آشا بھوسلے اور طلعت عزیز۔ تصویر: آئی این این
ہندوستانی موسیقی کی عظیم آواز آشا بھوسلے کے انتقال سے ملک بھر میں سوگ کی فضا قائم ہے۔ ان کے انتقال کے بعد کئی معروف شخصیات نے خراج عقیدت پیش کیا، جن میں ممتاز غزل گلوکار طلعت عزیز بھی شامل ہیں۔ ایک حالیہ گفتگو میں انہوں نے آشا بھوسلے کے ساتھ اپنی آخری بات چیت کو یاد کرتے ہوئے جذباتی لمحات شیئر کیے۔ طلعت عزیز کے مطابق ۳؍ اپریل کو انہیں آشا بھوسلے کی جانب سے ایک ویڈیو کال موصول ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ’’میں نے پوچھا، آپ کیسی ہیں؟ تو انہوں نے کہا، آج کل ذرا طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔ ہم نے چند پرانی فلمی شخصیات، اور لتا منگیشکر جی کے بارے میں بھی بات چیت کی۔ انہوں نے کہا، جب تم ماریشس سے واپس آؤ تو آکر ملنا، بیٹھ کر بات کریں گے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آدتیہ دھر نہیں، آنجہانی ہدایتکار کی تلاش تھی ’’دُھرندھر‘‘، فلم کے کریڈٹ سینز میں رازپوشیدہ
انہوں نے مزید کہا کہ قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا، ’میں ۹؍ یا ۱۰؍ اپریل کو واپس آیا اور ۱۱؍ اپریل کو مجھے معلوم ہوا کہ ان کی طبیعت زیادہ بگڑ گئی ہے۔ ‘‘ طلعت عزیز نے بتایا کہ ۱۲؍ اپریل کو انہوں نے آشا بھوسلے کی بہو سے بات کی، جنہوں نے ان کی تشویشناک حالت کے بارے میں آگاہ کیا۔ کچھ ہی دیر بعد ان کے انتقال کی خبر موصول ہوئی، جس نے انہیں شدید صدمے میں مبتلا کر دیا۔ انہوں نے ایک اور حیران کن اور جذباتی لمحہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ شدید علالت کے باوجود آشا بھوسلے کا حوصلہ بلند تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ان کا رویہ زندگی کے لیے بہت مثبت تھا۔ وہ فون پر گانا گا رہی تھیں اور پوچھ رہی تھیں، میری آواز کیسی لگ رہی ہے؟ میں نے کہا، ‘آپ بالکل ٹھیک گا رہی ہیں، سر بھی برابر لگ رہا ہے، کمال ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: پاکستان میں ٹیلی ویژن پر آشا بھوسلے کو خراجِ عقیدت پیش کرنے پر پابندی عائد
واضح رہے کہ آشا بھوسلے کی موت کی تصدیق ڈاکٹروں نے کی، جن کے مطابق وہ متعدد اعضاء کی خرابی کے باعث انتقال کر گئیں۔ ان کے انتقال پر فلم اور موسیقی کی دنیا کی جانب سے بڑے پیمانے پر تعزیت کا اظہار کیا جا رہا ہے، اور انہیں ہندوستانی موسیقی کی تاریخ کی سب سے بااثر آوازوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ سات دہائیوں سے زائد پر محیط اپنے شاندار کریئر میں، آشا بھوسلے نے ہزاروں گانے مختلف زبانوں میں ریکارڈ کیے۔ انہوں نے کلاسیکی، غزل، پاپ، کیبرے اور فلمی موسیقی سمیت متعدد اصناف میں اپنی منفرد شناخت قائم کی۔ ان کا انتقال کے بعد نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا بھر میں ان کے مداح اور فنکار انہیں خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔ ان کی آواز، ان کا انداز اور ان کا فن ہمیشہ زندہ رہے گا، اور موسیقی کی دنیا میں ان کا مقام ہمیشہ ناقابلِ فراموش رہے گا۔