Inquilab Logo Happiest Places to Work

قادر خان نے جتنی شہرت اداکاری سے حاصل کی، اس سے زیادہ نام اپنے مکالموں سے کمایا

Updated: May 24, 2026, 1:58 PM IST | Anees Amrohi | Mumbai

مکالمہ نویس کے طورپر اُن کے فلمی کریئر کا آغاز رمیش بہل کی فلم ’جوانی دیوانی‘ سے ہوا تھا، منموہن دیسائی کی فلم ’روٹی‘ سے شہرت ملی اور پھر اپنے کریئر میں تقریباً ۲۰۰؍ فلموں کے مکالمے لکھے، جن میں قُلی، شرابی، پرورش، لاوارث، سہاگ اور مقدر کا سکندر کے نام اہم ہیں۔

Kader Khan, who entertains the audience with his excellent dialogues and makes the film brilliant. Photo: INN
اپنے بہترین مکالموں سے ناظرین کو محظوظ کرنے اور فلم کو شاندار بنانے والے قادر خان۔ تصویر: آئی این این

قادر خان ہماری فلمی دُنیا کے ایک ایسے کثیر الجہات قسم کے فنکار تھے، جنہوں نے فلموں میں کہانی کار، مکالمہ نگار، ویلن، معاون اداکار اور مزاحیہ اداکار کے طور پر اپنے فن کا مظاہرہ کیا اور فلمی شائقین سے اپنی صلاحیتوں کی داد بھی وصول کی  ہے۔ ۲۲؍اکتوبر ۱۹۳۷ء کو وہ  افغانستان کے مشہورشہر کابل میں پیدا ہوئے تھے۔ قادر خان کے والد کا نام عبدالرحمان تھا۔ والدہ کا نام اقبال بیگم تھا۔ قادر خان کا تعلق پشتون خاندان کے ککر قبیلے سے تھا۔ جس وقت اُن کی عمر لگ بھگ آٹھ برس کی تھی، اُن کے والدین میں علاحدگی ہو گئی تھی،اس کے بعد اُن کے نانا نے اُن کی والدہ کا دُوسرا نکاح کرا دیا تھا۔ قادر خان کے تین بھائی تھے، شمس الرحمان، فضل الرحمان اور حبیب الرحمان۔ قادر خان کی ابتدائی تعلیم ممبئی کے مقامی میونسپل اسکول میں ہوئی۔ اس کے بعدانہوں نے اسماعیل یوسف کالج سے انٹر پاس کیا۔ انہوں نے ہندوستان میں ممبئی یونیورسٹی سے گریجویشن تک تعلیم حاصل کی اور انسٹی ٹیوشن آف سول انجینئرس سے ماسٹر ڈپلوما کیا۔ گریجویشن کرنے کے بعد ۱۹۷۰ء سے ۱۹۷۵ء کے درمیان اُن کی تقرری بمبئی کے صابو صدیق کالج آف انجینئرنگ میں لیکچرار کی حیثیت سے ہوئی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’انڈسٹری میں بہت زیادہ مقابلہ آرائی ہے لیکن اصل مسئلہ بجٹ کا ہے‘‘

ملازمت کے دوران قادر خان اُسی کالج کے ڈراموں میں حصہ لینے لگے جہاں وہ پڑھاتے تھے۔ ایک بار کالج کے سالانہ پروگرام میں شہنشاہِ جذبات اداکار دلیپ کمار بھی موجود تھے۔ دلیپ کمار کی موجودگی میں قادر خان کو اسٹیج پر ایک ڈرامے میں پرفارمنس کرنے کا موقع ملا۔ یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس نے ان کی زندگی کا رُخ ہی موڑ دیا۔ اس ڈرامے میں قادر خان کی اداکارانہ صلاحیتوں کو دلیپ کمار نے پسند کیا اور اپنی زیر تکمیل دو فلموں ’سگینہ ماہتو‘ اور’بیراگ‘ میں اداکاری کی پیشکش بھی کر دی۔

فلم’سگینہ ماہتو‘ ۱۹۷۴ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس کے ہدایت کار تپن سنہا تھے۔ اس فلم میں ایک چھوٹا سا کردار کرنے کے بعد قادر خان کو بمبئی کی کئی فلموں میں چھوٹے چھوٹے کردار ملے اور وہ اپنی مسلسل جد و جہد سے اپنی پہچان بنانے میں لگے رہے۔ فلم ’بے نام، عمر قید، اناڑی اوربیراگ‘ جیسی فلموں میں انہوں نے کام کیا، مگر وہ اپنی شناخت قائم نہ کر سکے۔ اِن فلموں سے اُن کے کریئر کو بھی کوئی خاطر خواہ فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ فلم ’سگینہ‘ کے تین سال بعد  ۱۹۷۷ء میں آئی فلم ’خون پسینہ‘ اور’پرورش‘ میں اُن کے کام کو کافی سراہا گیا۔ان دو فلموں کے بعد کسی حد تک قادر خان کی شناخت قائم ہو گئی۔اس کے بعد انہیں کئی بڑے فلمسازوں کی  فلمیں ملیں  جن کی کامیابی سے ان کے کریئر کی گاڑی چل پڑی۔ ۱۹۷۸ء میں امیتابھ بچن کے ساتھ فلم ’مقدر کا سکندر‘ میںانہوں نے ایک درویش بابا کا کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ اس کے بعد ۱۹۷۹ء میں فلم ’مسٹر نٹورلال‘ اور’سہاگ‘ میں بھی امیتابھ کے ساتھ کردار ادا کرکے فلم کی کامیابی کا حصہ بنے اور پھر قادر خان لگاتار کامیابیاں حاصل کرتے چلے گئے۔

۱۹۸۰ء میں فلم ’دو اور دو پانچ، لوٹ مار، جیوتی بنے جوالا اور قربانی‘ میں انہوں نے یادگار کردار ادا کرکے شہرت حاصل کی۔ ۱۹۸۱ء میں ’لاوارث، کالیا اورنصیب‘ جیسی کامیاب فلموں  نے ان کے کریئر کو اور عروج بخشا۔ ۱۹۸۱ء میں ایک فلمساز کی حیثیت سے انہوں نے فلم’شمع‘ بنائی تھی، جو زیادہ کامیاب نہ ہو سکی۔منموہن دیسائی کی فلم ’قلی‘ ۱۹۸۳ء میں نمائش کیلئے پیش کی گئی۔ اس فلم میں وہ ایک بار پھر امیتابھ  کے ساتھ تھے۔ یہ فلم امیتابھ بچن کے چوٹ لگنے کی وجہ سے ریلیز ہونے سے پہلے ہی شہرت حاصل کر چکی تھی لہٰذا قادر خان کو بھی اس کی کامیابی کا فائدہ ہوا۔۸۰ء کی دہائی میں  انہوں نے ’پاتال بھیروی، میرا جواب، انصاف کی آواز،بیوی ہو تو ایسی اورجیسی کرنی ویسی بھرنی‘ جیسی فلموں میں اداکاری کی۔

یہ بھی پڑھئے: وعدہ ہے، چھپ کر شادی نہیں کروں گی: شادی کی افواہوں پر کنگنا رناوت کا بیان

۱۹۹۱ء میں قادر خان کی۸؍ فلمیں ریلیز ہوئیں، جن میں ’ہم، خون کا قرض، قرض چکانا ہے، دو متوالے، ناچنے والے گانے والے، سورگ یہاں نرک یہاں، اندرجیت اور ساجن‘ شامل ہیں۔ اِن میں سے بیشتر فلمیں کامیاب رہیں۔اس کے بعد  وہ فلموں کا ایک اہم حصہ سمجھے جانے لگے تھے۔ خاص بات یہ بھی تھی کہ قادر خان نے کبھی ایک طرح کےرول نہیں کیے بلکہ انہوں نے ایک ہی وقت میں منفی اور مثبت، دونوں طرح کے کردار ادا کیے۔ ان کی مقبولیت  کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ۱۹۹۲ء میں ان کی۱۷؍ فلمیں ریلیز ہوئیں اور اگلے ہی برس انہوں نے ۲۴؍فلموں میں کام کیا، جن میں ’انگار، آنکھیں، ظالم، زخمی اوردھنوان‘ جیسی فلموں میں ان کی اداکاری کافی پسند کی گئی۔ اِن میں سے اتنی فلمیں ضرور کامیاب ہو جاتی تھیں کہ قادر خان کی مقبولیت بنی رہتی تھی۔ ۱۹۹۴ء میں ۱۸؍فلموں میں وہ نظر آئے جن میں سے فلم ’خوددار، چھوٹی بہو، راجہ بابو، میں کھلاڑی تو اناڑی، اولاد اور گھر کی عزت‘ میں اُن کے کردار پسند کیے گئے۔ ۹۶-۱۹۹۵ء  میں ۲۲؍فلموں میں قادر خان نے کام کیا۔ اس درمیان قادر خان فلموں کے مکالمے بھی بڑی تعداد میں لکھ رہے تھے، لہٰذا اُن کی مصروفیت کافی تھی۔ اداکار گووِندہ کے ساتھ اُن کی مزاحیہ جوڑی اچھی بن گئی تھی، لہٰذا انہوں نے گووِندہ کے ساتھ کئی مزاحیہ کردار بڑی خوبی سے ادا کیے اور اُن کے مکالموں میں طنز اور ظرافت کے پہلو زیادہ نمایاں ہونے لگے تھے۔ شکتی کپور کے ساتھ بھی مزاحیہ اداکار کے طور پران کی جوڑی کافی مقبول ہوئی۔ دونوں نے تقریباً ۱۰۰؍ فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔۱۹۹۷ء میں۱۴؍ فلموں  اور ۱۹۹۸ء  میں ۱۰؍ فلموں میں قادر خان نے اداکاری کی جن میں ’صنم، جڑواں، بھوت بنگلہ، بنارسی بابو، جدائی، ہیرو نمبر ون، ایک پھول تین کانٹے، مسٹر اینڈ مسز کھلاڑی، دولہے راجہ اوربڑے میاں چھوٹے میاں‘ جیسی فلمیں رہیں۔ اُن کے برجستہ اور ذومعنی مکالموں پر سنیما ہال میں تالیاں بجتی رہیں۔

ایک قلمکار کے طور پر قادر خان کی فلمی زندگی کی شروعات رمیش بہل کی فلم ’جوانی دیوانی‘ کے مکالمہ نگار کے طور پر ہوئی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے منموہن دیسائی کی فلم ’روٹی‘ کے مکالمے تحریر کیے تھے جو بے حد پسند کئے گئے تھے۔ ایک  رپورٹ کے مطابق قادر خان نے دو سو سے زیادہ فلموں کے مکالمے لکھے ہیں۔ قادر خان پرکاش مہرہ اور منموہن دیسائی کے پسندیدہ مکالمہ نگار رہے ہیں۔ اُن کی فلموں،’گنگا جمنا سرسوتی، شرابی، قلی، دیش پریمی، لاوارث، سہاگ، مقدر کا سکندر، پرورش اورامر اکبر انتھونی‘ کی کامیابی میں قادر خان کے لکھے ہوئے مکالموں کا بڑا دخل ہے۔ امیتابھ بچن کے ہیرو والی اور قادر خان کے لکھے مکالموں والی دوسری بے حد کامیاب فلمیں،’مسٹر نٹور لال، خون پسینہ، دو اور دو پانچ، ستے پہ ستّا، انقلاب، گرفتار، ہم اوراگنی پتھ‘ وغیرہ نے کافی شہرت حاصل کی تھی۔ قادر خان کے لکھے ہوئے مکالموں والی مزید دوسری کامیاب فلموں میں ’ہمت والا، قلی نمبر ون، میں کھلاڑی توُ اَناڑی، قانون اپنا اپنا، خون بھری مانگ، کرما، سلطنت، سرفروش، جسٹس چودھری اور’دھرم ویر‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ اس کے بعد وہ ہدایتکار ڈیوڈ دھون کے پسندیدہ اداکار و مکالمہ نویس بن گئے۔ اِن کی جوڑی امیتابھ بچن، جتیندر، فیروز خان اور گووندہ کے ساتھ خوب جمتی تھی۔

یہ بھی پڑھئے: انسپکٹر اویناش ۲: یوپی کے پس منظر میں جرائم پر مبنی ایک اور ویب سیریز

قادر خان کو ۱۹۸۲ء میں پہلی بار فلم ’میری آواز سنو‘ کیلئے بطور بہترین مکالمہ نگار فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ ۱۹۹۱ء میں ریلیز ہوئی فلم ’باپ نمبری بیٹا دس نمبری‘ میں بہترین مزاحیہ اداکار کا فلم فیئر ایوارڈ بھی ملا۔ ۱۹۹۳ء میں فلم ’انگار‘ میں بہترین مکالمہ نگار اور۲۰۰۴ء میں فلم ’مجھ سے شادی کروگی‘ کیلئے بہترین معاون اداکار کے فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔  ۹؍فلموں میں بہترین مزاحیہ اداکار کیلئے فلم فیئر ایوارڈ کیلئے بھی قادر خان کو نامزد کیا گیا۔

سنیما کے بڑے پردے کے ساتھ ہی قادر خان نے ٹیلی ویژن کے چھوٹے پردے پر بھی اپنی فنکارانہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ٹی وی پر ’اسٹار پلس‘ چینل کیلئے ایک کامیڈی سیریل ’ہنسنا مت‘ میں بھی اداکاری کر چکے تھے۔ ’سہارا وَن‘ چینل کیلئے ایک اور کامیڈی سیریل ’ہائے پڑوسی کون ہے دوشی‘ بھی بنایا تھا۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مشہور زمانہ فلم ’شالیمار‘ میں ہالی ووڈ کے مقبول اداکار ریکس ہیریسن کیلئے قادر خان کی آواز میں ہی مکالمے ڈب کیے گئے تھے۔قادر خان کے تین بیٹے، سرفراز خان، شاہ نواز خان اور عبدالقدوس خان کناڈا میں رہتے ہیں۔ خود قادر خان کے پاس بھی کناڈا کی شہریت تھی۔سرفراز بھی کچھ فلموں میں اداکاری کر چکا ہے۔ فلم اداکارہ اور ماڈل زرین خان کا خاندانی تعلق بھی قادر خان سے ہے۔

۲۰۱۲ء کے بعد قادر خان کی فلموں کی تعداد کا گراف لگاتار کم ہوتا گیا۔ ۲۰۱۴ء میں انہوںنے صرف چار فلموں میں کام کیا۔ اس درمیان اُن کی کچھ اچھی فلمیں بھی آئیں مگر زیادہ تر اوسط درجے کی ہی فلمیں تھیں جن میں انہوں نے اپنے ماضی کے کرداروں کو دہرایا تھا۔ ۲۰۱۶ء میں قادر خان نے صرف ایک فلم ’امن کے فرشتے‘ میں کام کیا اور پھر اُن کی طبیعت خراب رہنے لگی، لہٰذا اس کے بعد ان کی کوئی فلم ریلیز نہیں ہوئی۔ کل ملاکر قادر خان نے تین سو سے زائد فلموں میں اداکاری کی۔

یہ بھی پڑھئے: ’شاہجہاں‘ سے مجروح سلطانپوری نے انڈسٹری میں قدم رکھا اور پہلی ہی فلم سے چھا گئے

۳۱؍دسمبر۲۰۱۸ء کوشام کے وقت۸۱؍برس کی عمر میں کناڈا کے ایک اسپتال میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ کافی عرصے سے بیمار تھے اور کناڈا میں ہی زیر علاج تھے۔ قادر خان کی تدفین یکم جنوری ۲۰۱۹ء کو کناڈا ہی کے  ایک قبرستان میں عمل میں آئی۔قادر خان  مذہبی قسم کے اِنسان تھے اور وہ حج بیت اللہ کی سعادت بھی حاصل کر چکے تھے۔ ان کے تعلق سے کہا جاتا ہے کہ وہ بچپن میں ہی حافظ قرآن ہو گئے تھے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK