ٹی وی اداکارہ آنچل کھرانہ کا کہنا ہے کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں خود ایک شوپروڈیوس کرتی، آج کسی اداکار سے ایکٹنگ سے پہلے انسٹاگرام اکاؤنٹ اور اس کی لنک کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔
EPAPER
Updated: May 24, 2026, 12:49 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai
ٹی وی اداکارہ آنچل کھرانہ کا کہنا ہے کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں خود ایک شوپروڈیوس کرتی، آج کسی اداکار سے ایکٹنگ سے پہلے انسٹاگرام اکاؤنٹ اور اس کی لنک کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔
ٹی وی شو ’سپنے سہانے لڑکپن کے‘ میں چارو کا کردار نبھانےوالی آنچل کھرانہ نے انڈسٹری میں ۱۵؍ سال سے زائد وقت گزارا ہے اور فی الحال ’تو جولیٹ جٹ دی‘ سے وابستہ ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ نئے پروجیکٹس کی تلاش میں ممبئی بھی آنے والی ہیں۔ نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ نے اپنے کریئر میں کریش نامی ایک ویب سیریز میں بھی کام کیاہے لیکن اس سے وہ زیادہ خوش نہیں تھیں۔ انہوں نے اپنے کریئر میں ساودھان انڈیا نامی شوز کے بہت سے ایپی سوڈ کئے ہیں۔ انہوں نے اپنے کریئرکاآغاز ۲۰۱۱ء میں ایم ٹی وی روڈیز سے کیا تھا اور پھر وہ ٹی وی شوز میں مسلسل مصروف رہیں۔ اس دوران انہوں نے الگ الگ اور دلچسپ کردار نبھائے۔ نمائندہ انقلاب نے نئی دہلی سے تعلق رکھنے والی اداکارہ آنچل کھرانہ سے بات چیت کی جسے یہاں پیش کیا جارہا ہے:
اس وقت آپ کس شو میں مصروف ہیں؟
ج:ابھی کام تھوڑا سست رفتاری سے آگے بڑھ رہا ہے، اسلئے میں زیادہ مصروف نہیں ہوں۔ میں ’توجولیٹ جٹ دی‘ میں کام کر رہی تھی، لیکن بظاہر پچھلے کچھ دنوں سے ٹریک لکھا ہی نہیں گیا، یا پھر مہینے میں صرف سات آٹھ دن ہی شوٹ ہو رہا ہے۔ چندی گڑھ میں شوٹنگ سے میں واقعی بہت تنگ آ گئی تھی، اسی لیے میں دہلی اپنے والدین کے پاس چلی گئی ۔ اب میرا منصوبہ ہے کہ جلد از جلد واپس ممبئی پہنچ جاؤں اور کوئی ایسا پروجیکٹ کروں جو زیادہ فائدہ مند ہو۔ ممبئی کے ایک پروڈکشن ہاؤس کے دو نئے آنے والے شوز کے لیے میرا آڈیشن ہوا تھا اور میں شارٹ لسٹ بھی ہوئی ہوں۔ اب دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ہندو مسلم زاویے کے سبب ’’چھاوا‘‘ میں اورنگ زیب کا کردار نہیں ادا کیا: رندیپ ہڈا
کیا آپ کسی اداکار سے شادی کرنےوالی ہیں؟
ج:میں ہمیشہ جانتی تھی کہ ایک اداکار کی زندگی اتار چڑھاؤ سے گزرتی رہتی ہے ، اسی لیے میں نے فیصلہ کیا تھا کہ کبھی کسی اداکارسے شادی نہیں کروں گی کیونکہ اس کام میں کچھ بھی طے شدہ نہیں ہوتا۔ شو ملتا ہے، ہم شو کرتے ہیں، لیکن اداکار ہونے کے ناطے ہم صرف وہی شوٹ کرتے ہیں جو لکھا جاتا ہے۔ رائٹرز اور پروڈیوسرز کی اپنی سوچ ہوتی ہے، اگرچہ ہم سب آپس میں بات چیت کرتے رہتے ہیں کہ کہانی بہتر ہونی چاہئے، یہ ہونا چاہئے، وہ ہونا چاہئے لیکن سامنے کوئی نہیں کہتا۔ بہرحال میں کسی اداکار سے شادی نہیں کروں گی۔
انڈسٹری میں ۱۵؍سال کا سفر کیسا رہا ہے ؟
ج: جب میں نے ۱۵؍ سال پہلے انڈسٹری میںشمولیت اختیار کی تھی، تب ٹی وی شوز کی ٹی آر پی بہت اچھی ہوا کرتی تھی۱۰، ۹، ۷؍ تک۔ اب تو ۰ء۷، ۰ء۸، ۰ء۹؍ پر ہی جدوجہد ہورہی ہے۔ لاک ڈاؤن کے بعد بجٹ بھی بہت کم ہو گئے ہیں۔ اب پروڈیوسرز کو صرف نئے چہرے چاہئے... ۱۶۔۱۷؍ سال کے لڑکے لڑکیاں یا سوشل میڈیا انفلوئنسرز۔ انہیں ۶۰۔۷۰؍ ہزار یا ایک لاکھ دے کر مہینے کے ۳۰؍ دن، ۱۴۔۱۴؍گھنٹے کام کرواتے ہیں کیونکہ یہ ان کے بجٹ میں آتا ہے۔
آپ کا پسندیدہ شو کون سا ہے؟
ج:میرا پہلا شو لوگ آج تک یاد کرتے ہیں۔’سپنے سہانے لڑکپن کے‘میں میرا کردارچارو گرگ کو شائقین آج بھی یاد کرتے ہیں۔ انسٹاگرام پر یا جہاں بھی لوگ ملتے ہیں، وہ مجھے اسی شو کے نام سے بلاتے ہیں۔ یہ سوچ کر اچھا لگتا ہے کہ میں نےٹی وی میں ایک اچھا شو کیا۔ پھر ایک شو میں مجھے بالکل میری اپنی شخصیت جیسا کردار ملا اور وہ میرا پہلا مثبت کردار تھا جسے لوگوں نے بہت پسند کیا کیونکہ ٹی وی میں اگر آپ نے منفی کردارادا کر لیا تو پھرآپ کواسی طرز کے رول ملتے رہتے ہیں۔ میرے نقش اورلہجے کی وجہ سے مجھے اکثر منفی کردار ہی ملتے تھے۔ میںسمجھتی تھی کہ خوبصورت ہونا اچھی بات ہے، لیکن اگر آپ بہت خوبصورت ہوں اور آپ کے نقش تیز ہوں تو آپ کو زیادہ منفی کردار ہی ملتے ہیں کیونکہ مرکزی کردار کیلئےبھولے اور سادہ چہروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ میں ویسی نہیں لگتی۔ میںمنفی کردارادا کرکے تھک چکی ہوں۔ اب میں مثبت اورمرکزی کردار ادا کرنا چاہتی ہوں۔
یہ بھی پڑھئے: باڈی شیمنگ پر سارہ تینڈولکر کا سخت ردعمل، پاپارازی کو آڑے ہاتھوں لیا
آپ نے کبھی فلموں میںکام کرنے کی کوشش نہیں کی؟
ج: فلموں میں کام کرنے کا خاص شوق نہیں ہے۔ میرے پاس کاسٹنگ ڈائریکٹرس کے نمبر تک نہیں ہیں۔ میں کبھی آڈیشن کیلئے نہیں گئی ہوں، نہ ہی کسی پروڈکشن ہاؤس میں اپنا کارڈ چھوڑا ہے۔ ان سبھی کاموں کیلئے میں نے کبھی جدوجہد نہیں کی۔ ٹیلی ویژن بہت شہرت اور پیسہ دیتاہے ۔ اس کے ساتھ ہی مسلسل کام بھی ہوتا ہے، اسی لیے مجھے ٹی وی پسند تھا۔ ایسا نہیں کہ فلموں میں کام کی پیشکش ہوتو میں نہ کروں لیکن میں فلموںمیں کام کرنے کیلئے الگ سے جدوجہد نہیں کرنا چاہتی۔
آپ نے صرف ایک ہی ویب سیریز میں کام کیا، اس کے بعد کیوں نہیں؟
ج: ویب سیریز میںبھی اتفاق سے کام کیا ہے حالانکہ میرا دل اس کیلئے راضی نہیں تھا، لیکن میرے قریبی لوگوں کا کہنا تھا کہ تم اس لُک میں اس رول کیلئے فٹ ہو۔ پھر وہی پروجیکٹ بعد میں میرے لیے فائدہ مند ثابت ہواکیونکہ اسی ڈائریکٹر نے بعد میں مجھے ایک اور شو کیلئے یاد رکھا۔ ایک میٹنگ میں انہوں نے اپنی ٹیم کے سامنے میری تعریف کی اور اس دن صرف میری تعریف ہوتی رہی جبکہ باقی سبھی کو ڈانٹ پڑی تھی۔ میں اتنی نروس ہو گئی تھی کہ یقین ہی نہیں آ رہا تھا۔ اس کے بعد مجھے ایک بار پھر ویب سیریز کیلئے کال آیا تھا۔مجھے لگا تھا کہ بالاجی کے ساتھ کام شروع ہوگا تو مسلسل کال آئیں گے، لیکن پھرانڈسٹری ہی زوال پزیر ہوگئی۔ حال ہی میں مجھے ایک فون آیا تھاکہ ایک ۵۳؍ سالہ ماں کا کردار نبھانا ہے۔ میں نے کہا کہ یہ کیا مذاق ہے؟ میں اب یہ نہیں کرنا چاہتی۔
ورٹیکلزکے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ج:اگر کوئی اچھا کردار ملے تو میں آڈیشن دینے اور شوٹ کرنے کیلئے ہمیشہ تیار ہوں، لیکن اب میں قطار میں کھڑے ہو کر نئی ویب سیریز یا فلموں کیلئے جدوجہد نہیں کرنا چاہتی۔ ورٹیکلز کیلئے ہفتے میں دو تین کالز آئے تھے لیکن میں چنڈی گڑھ میںشوٹنگ کر رہی تھی اس لیے کچھ نہیں کرپائی۔ اگر میں مستقل رہائش کیلئے دوبارہ ممبئی آ گئی توورٹیکلز بھی کرنا چاہوں گی کیونکہ ممبئی میں قیامکیلئے پیسہ چاہیے اور اگر مہینے میں دو ورٹیکلز بھی مل جائیں تو گزارا ہو جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دھرندھر‘‘ پر قانونی تنازع، دہلی ہائی کورٹ نے مرکز سے جواب طلب کیا
کیا انڈسٹری میں بہت زیادہ مقابلہ آرائی ہے؟
ج:انڈسٹری میں ہر کوئی کہتا ہے کہ مواقع بہت ہیں، لیکن سچ یہ ہے کہ ہر کوئی کام چاہتا ہے۔ مقابلہ آرائی بہت زیادہ ہے اور اصل مسئلہ بجٹ کا ہے۔ کئی بارپروڈکشن ہاؤس آپ کاآڈیشن چینل کو بھی نہیں بھیجتے۔ اگر آپ کا بجٹ کم ہوتب بھی وہ چینل کو آڈیشن نہیں بھیجتے۔ اب تو لوگ ایکٹنگ سے زیادہ آپ کاانسٹاگرام دیکھتے ہیں۔کاسٹنگ ڈائریکٹرس آڈیشن سے پہلےانسٹاگرام لنک مانگتے ہیں۔ جتنے زیادہ فالوورس ہوں گے، اتنی آڈینس ملے گی، یہی کاسٹنگ ڈائریکٹرس کی سوچ ہے۔
ایکٹنگ کے ساتھ اور کیا کرنا پسند ہے؟
ج: کورونا کے وقت میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رہتی تھی، وہ بھی غیرشادی شدہ تھے، اسلئے گھر کی ذمہ داری کا ذہنی دباؤ نہیں تھا۔ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ امریکہ آ جاؤ، ماسٹرس کرو اورسیٹل ہو جاؤ، وہاںکریئر نہیں ہے۔ لیکن مجھے لگتا ہے کہ ایکٹنگ کے علاوہ میں کچھ اور نہیں کر سکتی۔
کہا جاتا ہے کہ ٹی وی شوز کا معیار کم ہوتا جارہا ہے؟ آپ کا کیا خیال ہے؟
ج:ٹی وی شوز میں آج کل کہانی ہر وقت بدلتی رہتی ہے۔ جس شو میں میں تھی، وہاں ایپی سوڈ ٹیلی کاسٹ ہو نے کے بعدٹریک بدل دیتے تھے۔ ہر وقت تجربات ہوتے تھے لیکن اب کچھ نئے چینلز اچھا کام کر رہے ہیں، خاص طور پرساؤتھ کے شوز کو ریمیک کیا جارہا ہے۔ وہاں کہانی پہلے سے طے شدہ ہوتی ہے۔جنوبی ہند میں ٹی آر پی پر انحصار نہیں کیا جاتا، اسی لیےایک تسلسل رہتاہے۔
یہ بھی پڑھئے: ورون دھون کی ’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ کا ٹریلر جاری
پاکستانی ڈراموں کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟
ج:آج کل میں پاکستانی ڈرامے ہی دیکھتی ہوں کیونکہ ہندوستان میں آج کل یہی شوز دیکھے جارہے ہیں۔ ان کے شوز اچھے اسلئے لگتے ہیں کیونکہ ان میں کیریکٹرس حقیقت کے قریب ہوتے ہیں۔ وہ ہر وقت زیورات اور ساڑی پہن کر نہیں سوتے۔ وہ عام لوگوں کی طرح زندگی جیتے ہیں، جس سےناظرین سے رابطہ قائم کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔ کبھی سوچتی ہوں کہ اگر میرے پاس دولت ہوتی اور پروڈکشن کی خاطر خواہ معلومات ہوتی تو شاید میں خودپروڈیوسر بن کر ایک شو بنالی لیتی۔