Updated: June 27, 2026, 8:15 PM IST
| Mumbai
فلم ’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے گرد جاری قانونی تنازع کے درمیان اداکار سونو مشرا نے فلم سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ مشرا، جو فلم میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار ادا کرنے والے تھے، کا کہنا ہے کہ انہیں محسوس ہوا کہ فلم ایک سپر اسٹار اور راجستھان کی ثقافت کو بدنام کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جس کے باعث انہوں نے اخلاقی بنیادوں پر منصوبہ چھوڑنے کا فیصلہ کیا۔
سلمان خان اور سونو مشرا۔ تصویر: آئی این این
’’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگیسی‘‘ کے گرد جاری تنازع میں ایک نئی پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں اداکار سونو مشرا نے اعلان کیا ہے کہ وہ فلم سے الگ ہو گئے ہیں۔ یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب فلم سلمان خان کی درخواست پر دہلی ہائی کورٹ میں قانونی جانچ کا سامنا کر رہی ہے۔ سونو مشرا کو ابتدائی طور پر فلم میں سلمان خان سے متاثر ایک کردار ادا کرنے کے لیے منتخب کیا گیا تھا، تاہم اب انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ فلم کے مقاصد پر شکوک پیدا ہونے کے بعد انہوں نے اس منصوبے سے خود کو الگ کر لیا۔ اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے سونو مشرا نے کہا کہ ’’میں سلمان خان کا کردار ادا کرنے والا تھا۔ جب مجھے محسوس ہوا کہ یہ فلم ایک سپر اسٹار کے نام اور راجستھان کی ثقافت کی ساکھ کو داغدار کرنے کے لیے بنائی جا رہی ہے تو میری اخلاقیات نے مجھے کسی سینئر اداکار کے خلاف پروپیگنڈے کا حصہ بننے کی اجازت نہیں دی۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: اکشے کمار اور سیف علی خان کی تھریلر ’’حیوان‘‘ ۱۱؍ ستمبر کو ریلیز ہوگی
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ فلم کی تیاری کے دوران انہیں کبھی مکمل اسکرین پلے فراہم نہیں کیا گیا۔ سونو مشرا نے بشنوئی برادری سے متعلق قیاس آرائیوں کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’بشنوئی برادری کی طرف سے کسی دھمکی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ یہ میری اپنی برادری ہے۔ میرا ماننا ہے کہ اگر برادری کی فلاح و بہبود اور مثبت کردار پر فلم بنائی جائے تو میں خوشی سے اس کا حصہ بنوں گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’حکم امتناع کی درخواست پر سماعت یکم جولائی کو ہونے والی ہے۔ ہمیں عدالتی نظام پر اپنا اعتماد برقرار رکھنا چاہیے۔‘‘
یہ تنازع اس وقت شدت اختیار کر گیا جب فلم سازوں نے ’’کالا ہرن‘‘ کا ٹیزر اور تشہیری مواد جاری کیا، جس میں ایک ایسا کردار دکھایا گیا جس کی شکل و شباہت سلمان خان سے ملتی جلتی تھی۔ اس کے بعد سلمان خان کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم میں پیش کیا گیا کردار واضح طور پر ان کی شخصیت سے متاثر ہے اور فلم ان کے بارے میں ایک گمراہ کن بیانیہ پیش کرتی ہے۔ اگرچہ فلم سازوں کا کہنا ہے کہ فلم کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں، تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ کہانی ۱۹۹۸ء کے کالے ہرن شکار کیس سے متاثر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سمانتھا کی ’’ما انتی بنگارم‘‘ کے سیکوئل پر کام جاری ہے: راج ندیمورو کی تصدیق
تشہیری مواد سامنے آنے کے بعد سلمان خان نے دہلی ہائی کورٹ میں درخواست دائر کرتے ہوئے فلم کی ریلیز پر روک لگانے کی استدعا کی۔ ان کی قانونی ٹیم نے مؤقف اختیار کیا کہ فلم ان کے حوالے سے ایک ’’واضح اشارہ‘‘ دیتی ہے اور ان کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس ماہ کے آغاز میں دہلی ہائی کورٹ نے فلم سازوں کی جانب سے جواب داخل کرنے کے لیے مزید وقت مانگنے پر سلمان خان کی درخواست کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔ اب حکم امتناع کی درخواست پر یکم جولائی کو دوبارہ سماعت متوقع ہے۔ دوسری جانب فلم ساز مسلسل یہ مؤقف اختیار کر رہے ہیں کہ فلم کسی حقیقی شخصیت کی سوانح یا سرکاری دستاویز نہیں بلکہ ایک تخلیقی اور فرضی پیشکش ہے، جبکہ عدالت میں اس معاملے کا حتمی فیصلہ ابھی آنا باقی ہے۔