Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’لکڑبگھا۲: دی منکی بزنس‘‘ کی خصوصی اسکریننگ کانز فلم فیسٹیول میں ہوگی

Updated: May 12, 2026, 3:10 PM IST | Mumbai

اداکار اور ہدایتکارانشومن جھا کی فلم ’’لکڑبگھا۲: دی منکی بزنس‘‘ کو کانز کے مارچے دو فلم میں خصوصی مارکیٹ اسکریننگ کے لیے منتخب کیا گیا ہے ۔

Film Poster.Photo:INN
فلم پوسٹر۔ تصویر:آئی این این

اداکار اور ہدایتکارانشومن جھا کی فلم ’’لکڑبگھا۲: دی منکی بزنس‘‘ کو کانز کے مارچے دو فلم میں خصوصی مارکیٹ اسکریننگ کے لیے منتخب کیا گیا ہے کیونکہ فلم اپنی آفیشل عالمی پریمیئر سے قبل بین الاقوامی تقسیم (distribution) کے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اس فلم کی نمائندگی جرمن پروڈکشن کمپنی ویب فلم لینڈ پروڈکشنزکر رہی ہے اور یہ کانز میں پیش کی جانے والی چند ایشیائی ایکشن فلموں میں شامل ہے۔
انشومن جھا کی بطور ہدایتکار دوسری فلم، جسے دنیا کی پہلی ’’جانوروں سے محبت کرنے والے ویجیلانٹے‘‘ (vigilante) فلم فرنچائز قرار دیا جا رہا ہے، عالمی ڈسٹری بیوٹرز اور بڑے اسٹوڈیوز جیسے توہو،کینو اور دی جوکرس فلمز کی توجہ حاصل کرنے کی امید رکھتی ہے۔ یہ کمپنیاں ہندوستان کی اس منفرد ایکشن پراپرٹی کا جائزہ لینے کے لیے جمع ہو رہی ہیں۔
انڈونیشیاکے پس منظر میں بنائی جانے والے یہ فلم ہندوستان کی جانب سے پیش ہونے والی انتہائی خام اور حقیقت سے قریب ہینڈ ٹو ہینڈ ایکشن فلموں میں شمار کی جا رہی ہے، جو ایکشن کوریوگرافی اور کہانی سنانے کے انداز میں نئی حدود قائم کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:’’ویلکم ٹودی جنگل ‘‘:اکشے کمار کی بڑی تیاری شروع، مئی میں دھماکہ کرنے والے ہیں


یہ فلم ایک اہم سنگِ میل بھی ہے کیونکہ یہ پہلی باضابطہ ہندوستان-انڈونیشیا مشترکہ پروڈکشن ہے، جس میں ایشیائی اداکاروں کی ایک مضبوط ٹیم شامل ہے۔فلم کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت کے حوالے سےجینیفرپینگل   نے کہاکہ ’’لکڑبگھا‘‘ہم نے پہلی بار کو ۲۰۲۳ءکے اسٹٹگارٹ فلم فیسٹیول میں دکھایا گیا تھا، جہاں اس نے  وژن ورلڈ جیتا تھا اور تب سے ہم اس فرنچائز پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ عالمی سنیما میں جانوروں سے محبت کرنے والے ویجیلانٹے کا تصور موجود نہیں  اورہندوستان نے بھی اس میدان میں ابھی تک کوئی عالمی مارشل آرٹس اسٹار متعارف نہیں کروایا۔ یہ فلم دونوں چیزیں پیش کرتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے:گزشتہ سال اوپن اے آئی کے ۶۰۰؍ سے زائد ملازمین ایک دن میں کروڑ پتی بنے: رپورٹ


انشومن جھا کی اداکاری میں بروس لی جیسی نیت، خلوص اور خام توانائی موجود ہے۔ اس فلم کو خاص بنانے والی بات یہ ہے کہ اس کا ایکشن صرف دکھاوا نہیں بلکہ ایک مقصد رکھتا ہے۔ یہ بے زبانوں کی آواز بنتی ہے۔ یہ ایشیائی مارشل آرٹس سنیما کے لیے ایک اہم قدم محسوس ہوتا ہے۔ یہ صرف ایکشن نہیں بلکہ روح کے ساتھ ایکشن ہے اور ہمیں یقین ہے کہ یورپ میں ایکشن فلموں کے شائقین اور جانوروں سے محبت کرنے والے لوگ اسے بے حد پسند کریں گے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK