درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں کی کھدائی نے شاہ پور کا توازن بگاڑ دیا، رکن پارلیمان کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔
میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
کبھی سرسبز پہاڑوں، گھنے جنگلات اور خوشگوار موسم کیلئے مشہور شاہ پور تعلقہ اب شدید ماحولیاتی بحران کی زد میں آتا جارہا ہے۔ اس سال درجۂ حرارت ۴۶؍ڈگری تک پہنچنے سے شہریوں میں تشویش بڑھ گئی ہے۔ جنگلات میں آگ، بے تحاشہ درختوں کی کٹائی اور پہاڑوں کی کھدائی نے علاقے کے قدرتی توازن کو متاثر کیا ہے۔اسی مسئلہ پر ’ماحولیات تحفظ منچ‘ نے بھیونڈی لوک سبھا حلقہ کے رکن پارلیمان سریش مہاترے عرف بالیا ماما کو میمورنڈم پیش کرکے ریاستی و مرکزی حکومت سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔ اس موقع پر شنکر کھاڈے، سنتوش شندے، نندکمار موگرے، گیانیشور تلپاڑے، کمل بھوئیر، کشور دنکر، سندھیا پاٹیکر اور دیگر ماحولیات دوست موجود تھے۔
میمورنڈم میں کہا گیا کہ ممبئی۔آگرہ شاہراہ، سمردھی مہامارگ اور دیگر منصوبوں کیلئے بڑے پیمانے پر درخت کاٹے گئے، جس سے شاہ پور کی قدرتی ٹھنڈک ختم ہوتی جارہی ہے۔ ماحولیات کارکنوں نے الزام لگایا کہ ایک درخت کے بدلے ۱۰؍ درخت لگانے کا اصول صرف کاغذوں تک محدود ہوکر رہ گیا ہے۔اس دوران شاہ پور کو خصوصی ’ایکو زون‘ قرار دینے، شاہراہوں کے اطراف سایہ دار درخت لگانے، جنگلاتی آگ روکنے کیلئے جدید نظام قائم کرنے، مقامی نوجوانوں کو جنگل محافظ کے طور پر روزگار دینے اور پہاڑوں کی کھدائی پر سخت پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا۔
رکن پارلیمان سریش مہاترے نے کہا کہ شاہ پور، بھیونڈی، واڑہ اور مرباڈ علاقوں میں بڑھتا درجۂ حرارت انتہائی سنگین مسئلہ ہے۔ انہوں نے یقین دلایا کہ میمورنڈم کے مطابق ضلع انتظامیہ سے بات چیت کرکے آئندہ کی حکمت عملی طے کی جائے گی۔ شہریوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کئے گئے تو شاہ پور مستقل گرمی کے بحران کا شکار ہوسکتا ہے۔