Updated: July 07, 2026, 8:03 PM IST
| Mumbai
کنگنا رناوت کی سپر ہٹ فلم’’کوئین‘‘ کے مجوزہ سیکوئل ’’کوئین فار ایور‘‘ (کوئین ۲) کی ریلیز سے قبل ایک بڑا قانونی تنازع سامنے آ گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق فینٹم اسٹوڈیوز نے JioStar کے خلاف ۲۵۰؍ کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ سیکوئل کی تیاری کے لیے’’کوئین‘‘ کی دانشورانہ ملکیت (Intellectual Property) کا غیر مجاز استعمال کیا گیا۔ مقدمہ بامبے ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے، جبکہ فلم کی شوٹنگ مکمل ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
۲۰۱۳ء میں ریلیز ہونے والی کنگنا رناوت کی فلم’’کوئین‘‘ نہ صرف ناقدین بلکہ ناظرین کی بھی پسندیدہ فلموں میں شامل ہو گئی تھی۔ اگرچہ فلم نے باکس آفس پر معمولی آغاز کیا، لیکن مثبت تبصروں اور مضبوط ورڈ آف ماؤتھ کی بدولت اس نے دنیا بھر میں تقریباً ۰۴ء۹۵؍ کروڑ روپے کا بزنس کیا اور بعد ازاں ایک کلٹ کلاسک کا درجہ حاصل کر لیا۔ اب، تقریباً ۱۳؍ برس بعد اس کے سیکوئل ’’کوئین فار ایور‘‘ پر کام جاری ہے، تاہم فلم ریلیز سے پہلے ہی ایک بڑے قانونی تنازع میں الجھ گئی ہے۔ مڈ ڈے کی رپورٹ کے مطابق، فینٹم اسٹوڈیوز نے جیو اسٹار کے خلاف ۲۵۰؍ کروڑ روپے ہرجانے کا مقدمہ دائر کیا ہے۔ پروڈکشن ہاؤس کا الزام ہے کہ’’کوئین‘‘ کی انٹلیکچوئل پراپرٹی (IP) کا استعمال سیکوئل کی تیاری میں مناسب اجازت کے بغیر کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مقدمہ بامبے ہائی کورٹ میں دائر کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: گیلکسی سلمان خان کے مداحوں کے لیے ایک مقدس مقام بن چکا تھا
رپورٹ میں ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ قانونی کارروائی سے قبل فینٹم اسٹوڈیوز نے متعدد مرتبہ JioStar اور فلم کے ہدایت کار وکاس بہل سے رابطہ کیا اور مبینہ کاپی رائٹ خلاف ورزی پر اعتراض اٹھایا۔ ذرائع کے مطابق ’’فینٹم اسٹوڈیوز نے پہلے کئی مرتبہ تحریری طور پر آگاہ کیا، عوامی نوٹس بھی جاری کیا اور تصفیے کے لیے بات چیت کی کوشش بھی کی، لیکن مناسب جواب نہ ملنے پر آخرکار عدالت سے رجوع کرنا پڑا۔‘‘ رپورٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ پروڈکشن ہاؤس نے اس وقت مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ کیا جب اسے معلوم ہوا کہ فلم کی شوٹنگ مکمل ہو چکی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: زی ۵؍ سے ’’ستلج‘‘ ہٹانے پر کنال کامرا کا سی بی ایف سی پر زبانی حملہ
رپورٹس کے مطابق ’’کوئین فار ایور‘‘ کی شوٹنگ ۲۰۲۶ء کے اوائل میں شروع ہوئی تھی اور حال ہی میں اس کی فلم بندی مکمل کی گئی ہے۔ تاہم، جاری قانونی تنازع کے باعث اب فلم کی آئندہ ریلیز اور تقسیم کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ اصل فلم’’کوئین‘‘ کو فینٹم فلمز نے پروڈیوس کیا تھا، جس کے شریک مالکان میں انوراگ کشیپ، وکرمادتیہ موٹوانے، وکاس بہل اور مدھو منتینا شامل تھے۔ یہ پروڈکشن ہاؤس ۲۰۱۸ء میں تحلیل ہو گیا تھا۔ بعد ازاں ۲۰۲۱ء میں اسے فینٹم اسٹوڈیوز کے نام سے دوبارہ قائم کیا گیا، جس کی ملکیت اس وقت شیتل ونود تلوار کے پاس ہے۔ اب دیکھنا یہ ہوگا کہ عدالت اس تنازع پر کیا فیصلہ دیتی ہے اور آیا ’’کوئین فار ایور‘‘ اپنی طے شدہ ریلیز کے مطابق سنیما گھروں تک پہنچ پاتی ہے یا نہیں۔