Inquilab Logo Happiest Places to Work

لیاری کے باشندوں نے ’’دُھرندھر ۲‘‘ کی ۷۰؍ سے ۸۰؍ فیصد کمائی کا مطالبہ کیا

Updated: March 30, 2026, 7:07 PM IST | Karachi

ابتدائی طور پر پاکستان میں پابندی کے باوجود، ’’دُھرندھر ۲‘‘ نے پڑوسی ملک میں کافی مقبولیت حاصل کی جب یہ نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی۔ فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے، لوگ منقسم تھے کہ یہ لیاری اور ہندوستان کے ہمسایہ ملک کو کس انداز میں پیش کرے گی۔

Dhurandhar Movie.Photo:INN
دُھرندھر۔ تصویر:آئی این این

ابتدائی طور پر پاکستان میں پابندی کے باوجود،  ’’دُھرندھر ۲‘‘ نے پڑوسی ملک میں کافی مقبولیت حاصل کی جب یہ نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی۔ فلم کے ریلیز ہونے سے پہلے، لوگ منقسم تھے کہ یہ  لیاری  اور ہندوستان  کے ہمسایہ ملک کو کس انداز میں پیش کرے گی۔صحیح نمائندگی کے باوجود، ایک اور مسئلہ سامنے آ رہا ہے۔’’دُھرندھر ۲‘‘ باکس آفس پر مسلسل کامیاب ہو رہی ہے اور اب  لیاری  کے لوگ معاوضہ چاہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:ڈالر کے مقابلے میں روپیہ پہلی بار ۹۵؍ سے تجاوز کر گیا


لیاری اپنے سڑکوں کی مرمت کے لیے ’’دُھرندھر ۲‘‘کا پیسہ چاہتی ہے

 آدتیہ دھر نے لیاری کی پوری تفصیل درست طریقے سے فلم میں پیش کی، بغیر پاکستان کے کسی شہر میں قدم رکھے۔ اس کے باوجود لیاری کے رہائشی اب مطالبہ کر رہے ہیں کہ فلم کی کمائی کا۸۰۔۷۰؍فیصد حصہ ان کے حوالے کیا جائے۔ یوٹیوب چینل  کمپریزن ٹی وی  نے شہر کے لوگوں کی رائے طلب کی ، جب کہ’’دُھرندھر ۲‘‘ نے عالمی باکس آفس پر۱۱۰۰؍ کروڑ کا ہندسہ عبور کر لیا۔ بہت سے لوگوں کے مطابق، انہیں معاوضہ ملنا چاہیے کیونکہ یہ ان کا شہر ہے جو پیش کیا گیا ہے۔انہوں نے کہاکہ  ’’اگر ۱۰۰۰؍ کروڑ مل رہے ہیں تو ۵۰۰؍کروڑ لیاری  والوں کو دے دو۔ آدھی کمائی دے دو تو یہ سڑکیں بنیں، بچے جاتے ہیں تو پاؤں سے دانے نکلتے ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:اسپنرز کے جال میں پھنسی ویسٹ انڈیز کی خاتون ٹیم کی شکست، آسٹریلیا کا سیریز پر قبضہ


ایک اور شخص نے کہاکہ ’’ تقریباً کروڑوں تو ملنے چاہیے۔۸۰۔۷۰؍فیصد تک  ملنا چاہیے۔ آمدنی کہاں سے آئی ہے؟ لیاری کے نام سے اور اس کی صورتحال استعمال کر کے آئی ہے، تو انہیں اتنا ڈونیٹ کرنا چاہیے۔‘‘ انہوںنے مزید کہاکہ لیاری پر بنی فلم، یہ بہت  وی آئی پی  فلم ہے اور اس نے بہت پیسہ کمایا۔ لیاری  ترقی کرے۔‘‘ ’’دُھرندھر ایک اور ۲‘‘دونوں فلمیں  کافی پذیرائی حاصل کر چکی ہیں، حالانکہ بہت سے لوگ سیاست سے متفق نہیں تھے۔ تاہم، یہ مطالبہ حیران کن ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK