Updated: March 30, 2026, 6:05 PM IST
| Mumbai
ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپیہ پیر کے روز پہلی بار ۹۵؍کی سطح کو عبور کرتے ہوئے ۲ء۹۵؍ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔تاہم، دن کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ۸۳ء۹۴؍ کی سطح پر بند ہوا، جو جمعہ کے بند ۸۱ء۹۴؍ کے مقابلے میں۳ء۰؍ فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
روپیہ میں گراوٹ۔ تصویر:آئی این این
ڈالر کے مقابلے میں ہندوستانی روپیہ پیر کے روز پہلی بار ۹۵؍کی سطح کو عبور کرتے ہوئے ۲ء۹۵؍ کی نئی کم ترین سطح پر پہنچ گیا۔تاہم، دن کے دوران ڈالر کے مقابلے میں روپیہ۸۳ء۹۴؍ کی سطح پر بند ہوا، جو جمعہ کے بند ۸۱ء۹۴؍ کے مقابلے میں۳ء۰؍ فیصد کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث ڈالر کے مقابلے میں روپے میں مسلسل کمزوری دیکھی جا رہی ہے اور صرف مارچ کے مہینے میں امریکی کرنسی کے مقابلے میں ہندوستانی کرنسی میں ۴ء۴؍فیصد کی گراوٹ آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:گرین کے گیند بازی نہ کرنے پر کرکٹ آسٹریلیا سے پوچھیے : رہانے
انڈین ریزرو بینک (آر بی آئی) کی جانب سے بینکوں کے لیے اوور نائٹ نیٹ اوپن پوزیشن لمٹ کو کم کرکے ۱۰۰؍ ملین ڈالر کرنے کے بعد، روپیہ مضبوطی کے ساتھ کھلا تھا، لیکن سیشن کے دوران اس نے اپنی برتری گنوا دی اور ابتدائی سطح سے۱۶۰؍ پیسے گر گیا۔ اس کے علاوہ، گزشتہ ہفتے روپے میں تقریباً ایک فیصد کی کمی آئی، جو اسی سطح کی مسلسل چوتھی ہفتہ وار گراوٹ تھی اور یہ ڈالر کے مقابلے میں۸۴ء۹۴؍ کی ریکارڈ کم ترین سطح پر بند ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھئے:امریکہ-ایران بحران کی وجہ سے شاہ رخ کی ’’کنگ‘‘ کی دبئی کی شوٹنگ منسوخ
جمعہ کو بازار بند ہونے کے بعد، مرکزی بینک نے کہا کہ بینکوں کو یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ۱۰؍اپریل تک، ہر کاروباری دن کے اختتام پر، گھریلو بازار میں ان کی نیٹ اوپن روپیہ پوزیشن ۱۰۰؍ ملین ڈالر سے زیادہ نہ ہو۔اندازوں کے مطابق، ان سرمایہ کاریوں کا حجم ۲۵؍ ارب ڈالر سے لے کر ۵۰؍ ارب ڈالر سے زیادہ تک ہے۔ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث روپے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی شیئر بازار میں بھی گراوٹ دیکھی جا رہی ہے اور مارچ۲۰۲۶ء میں نفٹی میں ۱۰؍ فیصد سے زیادہ کی کمی آئی ہے، جو ماہانہ بنیاد پر کورونا دور کے دوران مارچ ۲۰۲۰ء کے بعد سب سے بڑی گراوٹ ہے۔جاری مالی سال (۲۶۔۲۰۲۵ء) کے آخری کاروباری سیشن میں ہندوستانی شیئر بازار میں پیر کو بڑی گراوٹ دیکھی گئی۔