ہندی فلم انڈسٹری میں یوں تو ایک سےبڑھ کر ایک موسیقار آئے لیکن مدن موہن نے غزلوں کے بادشاہ کے طور پر اپنی ایک الگ اور انمٹ پہچان بنائی۔ ان کی برسی کے موقع پر موسیقی کے دیوانے ان کے لازوال گیتوں کو یاد کر رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 11:54 AM IST | Mumbai
ہندی فلم انڈسٹری میں یوں تو ایک سےبڑھ کر ایک موسیقار آئے لیکن مدن موہن نے غزلوں کے بادشاہ کے طور پر اپنی ایک الگ اور انمٹ پہچان بنائی۔ ان کی برسی کے موقع پر موسیقی کے دیوانے ان کے لازوال گیتوں کو یاد کر رہے ہیں۔
ہندی فلم انڈسٹری میں یوں تو ایک سےبڑھ کر ایک موسیقار آئے لیکن مدن موہن نے غزلوں کے بادشاہ کے طور پر اپنی ایک الگ اور انمٹ پہچان بنائی۔ ان کی برسی کے موقع پر موسیقی کے دیوانے ان کے لازوال گیتوں کو یاد کر رہے ہیں۔
مدن موہن کی پیدائش ۲۵؍جون، ۱۹۲۴ءکو عراقی کردستان کے مقام ’ایربیل‘میں ہوئی ۔ ان کے والد رائے بہادر چنی لال فلمی کاروبار سے وابستہ تھے اور بامبےٹاکیز اور فلمستان جیسے بڑے فلم اسٹوڈیو میں بحیثیت کاروباری شراکت دار تھے۔
یہ بھی پڑھئے: میرے پاس دو ہی راستے تھے یا تو ٹوٹ جاتا یا اسے کہانی بنا دیتا: منور فاروقی
گھر میں فلمی ماحول ہونے کی وجہ سے مدن موہن بھی فلموں میں کام کرکے بڑا نام کمانا چاہتے تھے لیکن والدکےکہنےپر انہوں نے فوج میں بھرتی ہونے کافیصلہ کرلیااور دہرہ دون میں ملازمت شروع کر دی۔ کچھ دنوں بعد ان کا تبادلہ دہلی ہو گیا۔کچھ عرصہ بعد وہ فوج کی نوکری چھوڑکرلکھنؤآ گئے اور ریڈیو کے لیے کام کرنےلگےجہاں انھوں نے طلعت محمود، استاد فیاض علی خان،استاد اکبر علی خان اور بیگم اختر سے موسیقی کے رموز سیکھے۔ان کا اردو کا لہجہ بہت ہی اچھا تھا۔ اردو لکھتے بھی اچھی تھے۔بہت اچھی اردو میں گفتگو بھی کرتے تھے۔ممبئی آنے کے بعد مدن موہن کی ملاقات ایس ڈی برمن، شیام سندر اور سی رامچندر جیسےمشہور موسیقاروں سے ہوئی اور وہ ان کے اسسٹنٹ کے طور پر کام کرنے لگے۔ ۱۹۵۰ءمیںریلیزفلم ’آنکھیں‘کے ذریعےبطورموسیقار وہ فلم انڈسٹری میں اپنی شناخت بنانےمیںکامیاب ہوئے۔اس فلم کے بعد لتا منگیشکر، مدن موہن کی ہر دلعزیز گلوکارہ بن گئیں اور وہ اپنی ہر فلم کے لئے انہیں ہی گانے کی پیشکش کیا کرتے تھے۔ لتا بھی مدن موہن کی موسیقی سے کافی متاثر تھیں۔ انہوں نےمدن موہن کو ’غزلوں کا شہزادہ‘ کا لقب دیا تھا۔
۵۰ءکی دہائی میںفلم انڈسٹری میں یہ بات زوروں پر تھی کہ مدن موہن صرف خواتین گلوکاراؤں کیلئے ہی موسیقی دے سکتے ہیں وہ بھی خاص طور پر لتا منگیشکرکیلئے،لیکن ۱۹۵۷ءمیں آئی فلم ’دیکھ کبیرا رویا‘ میںگلوکار منا ڈے کے لئے’کون آیا میرے من کے دوارے‘جیسی دل کو چھو لینے والی موسیقی دے کر انہوں نے اپنے بارے میں اس تاثرکو غلط ثابت کردیا۔ ۱۹۶۵ءمیں فلم ’حقیقت‘میں محمد رفیع کی آواز میں مدن موہن کی موسیقی سے مزین نغمہ ’کر چلے ہم فدا جان و تن ساتھیو اب تمہارے حوالے وطن ساتھیو‘ آج بھی حب الوطنی کے جذبےکوبلند کر دیتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: فوٹوگرافر کی بدتمیزی پر زرین خان نے سخت ردعمل کا اظہار کیا
۱۹۷۰ءمیں آئی فلم ’دستک‘کیلئےمدن موہن بہترین موسیقار کے قومی ایوارڈسےنوازے گئے۔ انہوں نے اپنے طویل فلمی کریئر میںتقریبا ۱۰۰؍فلموں کیلئےموسیقی دی۔ اپنی موسیقی سے سامعین کے دل میں خاص جگہ بنا لینے والا یہ موسیقار۱۴؍جولائی ۱۹۷۵ءکو اس دنیا سے الودا کہہ گیا۔مدن موہن کے انتقال کے بعد ۱۹۷۵ءمیں ہی ان کی موسم اور لیلی مجنوںیسی فلمیں جلوہ گر ہوئیں جن کی موسیقی کا جادو آج بھی سامعین کومسحور کرتا ہے۔ مدن موہن کے بیٹے سنجیو کوہلی نے اپنےوالد کی بغیر استعمال کی ہوئی ۳۰؍دھنیں یش چوپڑا کو سنائیں جن میں۸؍کااستعمال انہوں نے اپنی فلم ’ویر زارا‘کے لئے کیا ہے۔ اس فلم کے نغمے بھی سامعین کے درمیان کافی مقبول ہوئے۔