Inquilab Logo Happiest Places to Work

چمبور حادثہ کی رپورٹ ناقابل قبول: ریتو تاؤڑے

Updated: July 15, 2026, 12:29 PM IST | Shahab Ansari | Mumbai

رپورٹ میں روڈ اور گارڈن ڈپارٹمنٹ کے افسران کو کلین چٹ دے دی گئی ہے۔

Mumbai Mayor Ritu Tawde. Photo: INN
ممبئی میئر ریتو تاؤڑے۔ تصویر: آئی این این

چمبور میں اسکول بس پر درخت گرنے سے ایک طالب علم کی موت کی جانچ کی رپورٹ میں بی ایم سی نے اپنے افسران کو کلین چٹ دے دی اور ٹھیکیدار پر جرمانہ عائد کرنے کی تفصیل درج کردی جسے قبول کرنے سے ممبئی میئر ریتو تاؤڑے نے انکار کرتے ہوئے بی ایم سی افسران کو جوابدہ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

یاد رہے کہ ۳۰؍ جون کو شدید بارش کے دوران چمبور میں ایک چلتی اسکول بس پر درخت گر جانے سے ۱۱؍ سالہ طالب علم ویہان سریواستو  کی موت ہوگئی تھی۔ چند دنوں کی موسلا دھار بارش کے دوران ممبئی میں ڈیڑھ ہزار سے زیادہ درخت گر گئے تھے جن کے نیچے دبنے سے چند افراد کی موت ہوئی اور دیگر کچھ زخمی ہوئے تھے لیکن چمبور میں طالب علم کی موت کے بعد یہ معاملہ بی ایم سی ہائوس کی جنرل باڈی میٹنگ میں بھی اٹھایا گیا تھا۔ اس کے علاوہ اس حادثہ کی جانچ کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی جس نے اپنی رپورٹ بی ایم سی کمشنر اشوینی بھڈے کو حال ہی میں سونپ دی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کو راحت: سپریم کورٹ نے ’’منت‘‘ کی توسیع کے خلاف درخواست مسترد کردی

اس رپورٹ میں بی ایم سی افسران کو کلین چٹ دے دی گئی ہے البتہ ٹھیکیداروں پر ۷؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ اس میں اس کام کو کرنے والے ٹھیکیدار پر ۵؍ لاکھ روپے اور سپر وائزر کنسلٹنسی کمپنی پر ۲؍ لاکھ روپے جرمانہ عائد کرنے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔ رپورٹ میں روڈ اور گارڈن ڈپارٹمنٹ کے کسی بھی افسر کو ذمہ دار قرار نہیں دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ ایسے کوئی شواہد نہیں ملے جن سے بی ایم سی افسران کی لاپروائی سامنے آتی ہو۔

اس کمیٹی نے تعمیراتی کام کے دوران درختوں کے تحفظ کیلئے ’ایس او پی‘ (اسٹینڈرڈ آپریٹنگ پروسیجر) طے کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے میئر نے اس رپورٹ کے معتبر ہونے پر شبہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کیا ۷؍ لاکھ روپے معاوضہ کی رقم انصاف کے تقاضا کو پورا کردے گی؟ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ ایسی میئر نہیں ہیں جو بی ایم سی افسران کو بچانے کی کوشش کریں گی۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا وجہ ہے کہ ایک ایک افسر کئی کئی برسوں تک ایک ہی ڈپارٹمنٹ میں ایک ہی عہدے پر فائز رہتا ہے، کیوں ان کا تبادلہ نہیں ہوتا؟ اس کی بھی جانچ ہونی چاہئے۔ ان کے مطابق حادثہ کے بعد انہوں نے جائے حادثہ پر جاکر جائزہ لیا تھا اور انہوں نے دیکھا تھا کہ سیمنٹ درخت کے تنے تک گئی ہوئی تھی اس لئے یہ رپورٹ غلط ہے اور وہ اس کو قبول نہیں کرسکتیں۔

یہ بھی پڑھئے: بی ایل او بھی تاریخ میں توسیع کے خواہاں

اس رپورٹ کی وجہ سے اب یہ سوال بھی اٹھ رہے ہیں کہ کمیٹی کس نے تشکیل دی تھی اور اس کے ممبران کون کون لوگ تھے۔ حادثہ کے ذمہ دار افسران اور ٹھیکیدار کے خلاف قتل غیر عمد کا کیس درج کرنے کا بھی مطالبہ کیا جارہا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK