Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایک ٹیچر والے اسکولوں کی تعداد میں اضافہ

Updated: July 15, 2026, 12:25 PM IST | Saadat Khan | Mumbai

تازہ رپورٹ کےمطابق مہاراشٹر میں ۹؍ہزار ۲۷۴؍ ایسے اسکول ہیں جن میں ایک ٹیچر تدریسی اورغیر تدریسی ذمہ داریاں نبھا رہاہے۔

Single-teacher schools are causing educational losses for students and the pressure of teaching and administrative work on a single teacher is increasing. (File photo)
سنگل ٹیچر اسکول سےطلبہ کا تعلیمی نقصان ہورہا ہےاور ایک ہی استاد پر تدریس کے ساتھ انتظامی کام کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔(فائل فوٹو)

ریاست میں اساتذہ کی بھرتی اور تعلیمی اصلاحات کے اعلانات کے درمیان حکومت کے سارے دعوئوں کی قلعی خود حکومت کے ذریعے جاری کردہ رپورٹ سے کھل گئی ہے۔ مرکزی وزارت تعلیم کی یوڈائس پلس کی ۲۶۔۲۰۲۵ء کی رپورٹ کے مطابق مہاراشٹر میں تقریباً ۹؍ ہزار۲۷۴؍ اسکولوں میں صرف ایک ٹیچر مامور ہے جو تدریسی اور غیر تدریسی دونوں ذمہ داریاں نبھا رہا ہے ۔ان اسکولوں میں ایک لاکھ۷۹؍ہزار ۷۱؍ طلبہ زیر تعلیم ہیں ۔ٹیچروں کی کمی سے ان طلبہ کاتعلیمی نقصان ہو رہا ہے ۔ ان میں ممبئی کے بھی ۱۷۰؍ اسکول شامل ہیں ۔کوکن اور ودربھ کے کئی اضلاع میں سیکڑوں اسکول ابھی تک صرف ایک استاد کی بنیاد پر کام کر رہے ہیں ۔

ریاست کے ان اسکولوں میں سے ہر ایک میں، ایک استاد پر بہت سی ذمہ داریوں کا بوجھ ہے جس میں تدریس، پرنسپل شپ، انتظامی کام، مختلف سرکاری اسکیموں کا نفاذ، آن لائن معلومات بھرنا اور والدین کے ساتھ ہم آہنگی شامل ہےجس کی وجہ سے طلبہ کا تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہے ۔ یو ڈائس پلس کی رپورٹ یہ بھی بتاتی ہے کہ ریاست میںایک ٹیچر والے اسکولوں کی تعداد پچھلے کچھ برسوں میں کم ہونے کے بجائے بڑھ رہی ہے ۔

یہ بھی پڑھئے: بی ایل او بھی تاریخ میں توسیع کے خواہاں

۲۵۔۲۰۲۴ء میںایسے ۸؍ہزار ۱۵۲؍ اسکول تھے جبکہ صرف ایک سال میں اس طرح کے اسکول کی تعداد میں ایک ہزار ۱۲۲؍ اسکولوں کا اضافہ ہوا ہےجس سے یہ تعداد ۹؍ہزار ۲۷۴؍ ہوگئی لہٰذا، یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ دور دراز علاقوں میں اساتذہ کی بھرتی اور انسانی وسائل کی منصوبہ بندی کو درپیش چیلنجز اب بھی برقرار ہیں ۔

یوڈائس کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ممبئی شہر اور مضافات میں ۱۷۰؍ ایسے اسکول ہیں جہاں صرف ایک ٹیچر تدریسی اور غیر تدریسی ذمہ داری نبھا رہا ہے ، اس لئے سنگل ٹیچر اسکولوں کا مسئلہ صرف دیہی یا قبائلی علاقوں تک ہی محدود نہیں ہے بلکہ میٹروپولیٹن علاقوں میں بھی برقرار ہے۔

سنگل ٹیچر اسکول طلبہ کو تعلیمی نقصان پہنچا رہے ہیں اور ایک ہی استاد پر تدریس کے ساتھ انتظامی کام کرنے کا دباؤ بڑھ رہا ہے۔ یہ صورتحال ریاست میں اسکولی تعلیم کو درپیش ایک سنگین چیلنج کی نشاندہی کرتی ہے۔ حکومت کو اساتذہ کی دستیابی، اساتذہ کی کم ہوتی ہوئی تعداد، اسکولوں کی ایڈجسٹمنٹ اور بعض مقامات پر اسکول بند ہونے کے عمل کے مسائل پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ بصورت دیگر طلبہ کی تعلیم کی بنیاد کمزور ہونے کا خطرہ مزید بڑھ سکتا ہے ۔

  اس سلسلےمیںاکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے جنرل سیکریٹری ساجد نثار نے انقلاب کو بتایا کہ ’’ایک ہی استاد پر متعدد جماعتوں کی تدریس، اسکولی انتظامی امور اور مختلف غیر تدریسی ذمہ داریاں عائد ہونے کی وجہ سے طلبہ کو معیاری تعلیم فراہم کرنا دن بہ دن مشکل ہوتا جا رہا ہے ۔ خاص طور پر دیہی، قبائلی اور دوردراز علاقوں کے اردو میڈیم اسکولوں میں یہ مسئلہ مزید سنگین ہو چکا ہے جس کے باعث طلبہ کی تعلیمی کارکردگی اور مستقبل متاثر ہو رہا ہے ۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: شاہ رخ خان کو راحت: سپریم کورٹ نے ’’منت‘‘ کی توسیع کے خلاف درخواست مسترد کردی

انہوں نےیہ بھی کہا کہ ’’ اس سنگین مسئلے کے حل کیلئے فوری اور مؤثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ریاست میں اساتذہ کی تمام خالی اسامیوں کو جلد از جلد پُر کیا جائے۔ طلبہ کی تعداد کے مطابق ہر اسکول میں مطلوبہ اساتذہ فراہم کئے جائیں۔’ سنچ مانیتا پالیسی‘ پر نظر ثانی کرتے ہوئے دیہی اور اردو میڈیم اسکولوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کوختم کیا جائے اور اساتذہ پر عائد غیر تدریسی کاموں کا بوجھ کم کر کے انہیں تدریس کیلئے معقول وقت فراہم کیا جائے۔‘‘

انہوںنے مزید کہاکہ’’ حکومت سے اپیل ہے کہ یو ڈائس پلس رپورٹ کا سنجیدگی سے نوٹس لیتے ہوئے فوری اقدامات کئے جائیں تاکہ ریاست کے ہر طالب علم کو معیاری تعلیم کی آئینی ضمانت عملی طور پر فراہم کی جا سکے ۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK