ایس آئی آر کی آخری تاریخ ۲۹؍جولائی ہے ، باقی بچے۱۵؍ دنو ں میںفارم بھرنے کاعمل پورا کرنا مشکل۔
EPAPER
Updated: July 15, 2026, 12:15 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
ایس آئی آر کی آخری تاریخ ۲۹؍جولائی ہے ، باقی بچے۱۵؍ دنو ں میںفارم بھرنے کاعمل پورا کرنا مشکل۔
بوتھ لیول آفیسر( بی ایل او) بھی تاریخ میںتوسیع کے خواہاں ہیں۔ وہ بہت زیادہ پریشان ہیںکیونکہ وہ الیکشن کمیشن کی جانب سے اسپیشل انٹینسیو رویژن (ایس آئی آر) کے لئے مقررہ کردہ آخری تاریخ ۲۹؍ جولائی کے بچے ہوئے ۱۵؍ دنو ں میں فارم بھرنے کا عمل پورا کرنا مشکل ہی نہیںناممکن بتارہے ہیں۔
دوسری جانب ان مسائل کے برخلاف ریاست میں ایس آئی آر کے تعلق سے حتمی ووٹر لسٹ جاری کرنے کی تاریخ کا بھی تعین کیاجاچکا ہے۔ حالانکہ ملّی اور سماجی تنظیمیں اور سیاسی جماعتیں تاریخ بڑھوانے کےلئے کوشاں ہیں، چیف الیکٹورل آفیسر سے ملاقات اورمیمورنڈم دینے کےساتھ دیگر طریقوں سے بھی کوشش کی اور مزید کوشش جاری ہے مگر اب تک الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی جواب نہیںدیا گیاہے ۔ اس لئے پس وپیش کی کیفیت ہے کہ تاریخ میں توسیع کی جائے گی یا ۲۹؍جولائی ہی آخری تاریخ ثابت ہوگی ۔
یادرہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے مرحلہ وار جو تاریخیںمقرر کی گئی ہیں اس کےحساب سے ۵؍ اگست کو ڈرافٹ ووٹر لسٹ جاری ہوگی۔اس میںکسی کمی صورت میں رائے دہندگان کے نام نوٹس جاری ہوگا اور ان کو ضروری دستاویز فراہم کرنے ہوں گے۔ اس کے بعد ۵؍اگست سے ۴؍ ستمبر کے دوران اعتراضات اور تجاویز قبول کی جائیںگی۔ایس آئی آر کا آخری مرحلہ ۷؍اکتوبر کو حتمی ووٹر لسٹ جاری کئے جانےپرختم ہوگا ۔
یہ بھی پڑھئے: سونیترا پوار کو دئیے گئے نوٹس میں کوئی ٹھوس بات اور سچائی نہیں ہے: سنیل تٹکرے
شہری اوربی ایل اودونوں پریشان ہیں
شہریوں کی پریشانی یہ ہےکہ بی ایل او کا ایک جگہ ملنا مشکل ہورہا ہے ۔صحافی عمیربزمی نے بتایاکہ ’’ ہمارے بی ایل او کا نام غالباً بھگوان ہے، ابھی تک ہمیںفارم نہیںملا ہے، اس کی تلاش میںنکلے ہوئے ہیں۔‘‘ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’ بی ایل او کے ساتھ ایک دشواری یہ بھی ہےکہ اس کےبیٹھنے کےلئے کوئی معقول نظم نہیںکیا گیا ہے جس سےاسے کام کرنے میں اور دشواری پیش آرہی ہے۔ اس کےلئے الیکشن کمیشن کی جانب سےپہلے سے ہی نظم کیا جاناچاہئے تھاجو نہیں کیا گیا۔‘‘گوونڈی میںمقیم حاجی محمدالیاس قادری نے بتایا کہ ’’ لوگ پریشان ہیں، بی ایل کوڈھونڈ رہے ہیں ، کسی کے پاس ۲۰۰۲ء کی لسٹ نہیںہے توکسی کےساتھ کوئی اور پریشانی ہے۔ اس طرح لوگ کام کاج چھوڑ کرکاغذ تلاش کرنے میںلگے ہوئے ہیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی بتایاکہ’’ بہت سے لوگ اس لئے خوفزدہ ہیںکہ کہیںانکا نام نہ کٹ جائے جیساکہ بہار ، مغربی بنگال اوریوپی وغیرہ میںکروڑوں رائے دہندگان کے نام حذف کردیئےگئےاور اب وہ پریشان ہیں۔‘‘