Updated: June 30, 2026, 8:05 PM IST
| Caracas
وینزویلا کی حزب اختلاف کی جلاوطن لیڈر ماریا کورینا مشادو نے فوری وطن واپسی کا اعلان کیا ہے، ان کے مطابق واپسی کا مقصد ملک کو تباہ کرنے والے دوہرے زلزلوں کے تباہ کن اثرات میں مدد فراہم کر نا ہے، ساتھ ہی انہوں نے اس انسانی بحران کے دوران ملک کے عوام کے ساتھ کھڑے رہنے کا عہد بھی کیا ہے۔
وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مشادو۔ تصویر: ایکس
نوبل امن انعام یافتہ اور وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا مشادو نے پیر کو اعلان کیا کہ وہ بہت جلد اپنے وطن واپس لوٹنے کا ارادہ رکھتی ہیں تاکہ گزشتہ ہفتے ملک کو تباہ کرنے والے دوہرے زلزلوں کے تباہ کن اثرات میں عوام کو مدد فراہم کر سکیں۔ مشادو نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر پوسٹ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا،’’ یہ میرا فرض ہے کہ میں اپنے لوگوں کے ساتھ کھڑی ہوں، وقت آ گیا ہے،ہمیں ایک ساتھ رہنا ہے، ایک دوسرے کو گلے لگانا ہے، ایک ساتھ رونا اور سوگ منانا ہے، لیکن ان مشکل وقتوں میں ایک دوسرے کو حوصلہ بھی دینا ہے۔‘‘بعد ازاں مشادو نے زور دیا کہ فوری بعد کے مرحلے میں سیاسی تقسیم کو ایک طرف رکھنا چاہیے، اور اولین ترجیح پھنسے ہوئے شہریوں کو بچانا اور ہزاروں بے گھر افراد کو تسلی دینا ہے۔ہم دعا کرتے ہیں کہ خدا ہمیں آگے بڑھنے اور اپنا کام کرنے کی طاقت دے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: برطانیہ میں وزیر اعظم اتنی عجلت میں کیوں تبدیل ہورہے ہیں؟
دریں اثناء مشادونے قائم مقام صدر ڈیلسی روڈریگیز کی حکومت پر الزام لگایا کہ اس نے ان کے داخلے کو روکنے کے لیے فضائی حدود بند کر دی ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا،’’میرے پیارے وینزویلین، میں پاناما سٹی میں ہوں، جہاں سے میں نے وینزویلا جانے کا منصوبہ بنایا تھا۔ حکومت نے میرے داخلے کو روکنے کی کوشش میں ملک کی فضائی حدود بند کر دی ۔‘‘ ساتھ ہی اپوزیشن لیڈر نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ملک کے اندر اور باہر ہزاروں وینزویلین نے زلزلے کے متاثرین کی مدد کے لیے متحرک ہونے کی کوشش کی ہے، لیکن حکام کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں کی مذمت کی جو انسانی امداد اور ماہر عملے کی آمد میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ ’’حکومت ہزاروں ہم وطنوں کو روکنا چاہتی ہے جو وینزویلا سے جا کر مدد کرنا چاہتے ہیں، بالکل اسی طرح جیسے اس نے ہزاروں شہریوں کی فیاضانہ کوششوں کو روکنے کی کوشش کی ہے جو ملک بھر میں خوراک اور دوائیاں تقسیم کرتے ہیں، اور بالکل اسی طرح جیسے اس نے ہوائی اڈوں پر پھنسی بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کے سفر کو روکا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’میکسیکن بیٹ مین‘ موٹر سائیکل چوروں کو پکڑ کر کھمبے سے باندھ دیتا ہے؛ پولیس بیٹ مین کی تلاش میں
واضح رہے کہ اپوزیشن لیڈر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب بین الاقوامی شہری تلاش اور بچاؤ دستے ملبے تلے دبے ہوئے افراد کو تلاش کرنے کے لیے نازک مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ سنیچر تک سرکاری رپورٹوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد۱۷۱۹؍ سے تجاوز کر چکی تھی، جبکہ دسیوں ہزار افراد لاپتہ ہیں۔یہ بھی یاد رہے کہ وینزویلا واپسی کا راستہ علاقائی جغرافیائی سیاست کی وجہ سے پیچیدہ ہے۔ اتوار کو یہ بات سامنے آئی کہ سابق کانگریس خاتون نے بدھ کو زلزلے کے فوری بعد ہی وینزویلا میں ہنگامی دوبارہ داخلے کا منصوبہ بنانے کی کوشش کی تھی۔وہ دسمبر سے ملک سے باہر ہیں، جب وہ ایک انتہائی خفیہ آپریشن میں اوسلو میں۲۰۲۵ء کا نوبل امن انعام وصول کرنے کے لیے گئی تھیں، یہ تمغہ جو انہوں نے بعد میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو پیش کیا۔تاہم جنوری میں اس آپریشن کے بعد جس میں امریکی افواج نے صدر نکولس مادورو کو گرفتار کیا، مشادو نے ملک میں کردار ادا کرنے کے لیے واپس آنے کا ارادہ کیا تھا۔ تاہم، ٹرمپ اور سیکرٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو نے مبینہ طور پر انہیں غیر مستحکم حفاظتی نظم کی وجہ سے ایسا نہ کرنے کا مشورہ دیا۔