مانچسٹر سپر جائنٹس نے سدرن بریو کو شکست دے کر اس کی ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی امیدیں تقریباً ختم کردیں اور خود بھی ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن ہفتے میں جگہ بنانے کی دوڑ میں برقرار رہے۔
EPAPER
Updated: August 09, 2026, 4:11 PM IST | Manchester
مانچسٹر سپر جائنٹس نے سدرن بریو کو شکست دے کر اس کی ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی امیدیں تقریباً ختم کردیں اور خود بھی ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن ہفتے میں جگہ بنانے کی دوڑ میں برقرار رہے۔
مانچسٹر سپر جائنٹس نے سدرن بریو کو شکست دے کر اس کی ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی امیدیں تقریباً ختم کردیں اور خود بھی ٹورنامنٹ کے فیصلہ کن ہفتے میں جگہ بنانے کی دوڑ میں برقرار رہے۔ سپر جائنٹس نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے ۶۳؍ گیندوں پر ۱۱۹؍ رنز تک کوئی وکٹ نہیں گنوائی تھی لیکن اس کے بعد ٹیم کی پوزیشن تیزی سے خراب ہوئی اور اس نے ۱۴۹؍ رنز پر ۸؍ وکٹ گنوا دیں تاہم جوش ٹنگ، گس اٹکنسن، لیام ڈاسن اور پہلی مرتبہ ٹیم میں شامل نیوزی لینڈ کے مائیکل بریس ویل کی عمدہ گیندبازی نے سدرن بریو کی کمزور بیٹنگ کو قابو میں رکھا۔
A little pace, a little spin, a lot of trouble 🔥 pic.twitter.com/GbGjAXnzfu
— Manchester Super Giants (@ManchesterSG100) August 8, 2026
پال والٹر نے اپنی صرف دوسری میچ میں شاندار بلے بازی کرتے ہوئے چھ چوکے اور چار چھکے لگائے اور ۶۴؍ رنز کی فیصلہ کن اننگز کھیلی۔ دوسری جانب ٹم سیفرٹ نے ۳۴؍ گیندوں پر ۵۵؍ رنز بنائے، تاہم معین علی کی براہ راست تھرو نے ان کی جارحانہ اننگز کا خاتمہ کردیا۔ بعد میں معین علی اور عادل رشید نے عمدہ گیندبازی کرتے ہوئے آخری مرحلے میں صرف۳۸؍ رنز دیے، جس سے سدرن بریو کو جیت کے لیے ۱۵۰؍ رنز کا ہدف ملا۔
یہ بھی پڑھئے:سعودی، ترکی اور پاکستان معاہدہ کی عالمی میڈیا میں گونج
ہدف کے تعاقب میں جیمی اسمتھ نے ۲۵؍ گیندوں پر ۲۶؍رنز بنائے۔ اس کے بعد ٹرسٹن اسٹبس اور مارکس اسٹوئنس نے چھکے لگاتے ہوئے بریو کو مقابلے میں برقرار رکھا۔ ۲۵؍ گیندوں پر۵۶؍ رنز درکار تھے، لیکن جوش ٹنگ کی عمدہ سست گیند پر اسٹوئنس آؤٹ ہوگئے۔ اس کے بعد ڈیوڈ ملر نے اسٹبس کا ساتھ دیا اور اسٹبس نے۳۷؍ گیندوں پر نصف سنچری مکمل کی۔ بریو کو آخری ۱۲؍ گیندوں پر ۴۰؍ رنز درکار تھے لیکن لیوس ڈو پلوی کے شاندار کیچ پر ملر کے آؤٹ ہونے سے میزبان ٹیم کی امیدیں تقریباً ختم ہوگئیں۔
نکھل چودھری کی جارحانہ بلے بازی نے مقابلے میں کچھ سنسنی برقرار رکھی۔ آخری پانچ گیندوں پر بریو کو۱۹؍ رنز درکار تھے، لیکن گس اٹکنسن نے بہترین یارکرز کرتے ہوئے مانچسٹر سپر جائنٹس کو کامیابی دلا دی۔ ٹورنامنٹ کا آغاز خراب کرنے والی سپر جائنٹس اب منگل کو سن رائزرز لیڈز کے خلاف میدان میں اترے گی۔ جیت، خصوصاً بڑے مارجن سے کامیابی، اسے ناک آؤٹ مرحلے میں پہنچنے کی مضبوط پوزیشن میں لے جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:پہلی فلم میں ہیما مالنی ڈر کی وجہ سے ڈائیلاگ بھی صحیح نہیں بول پارہی تھیں
میچ کے بہترین کھلاڑی پال والٹر نے کہا کہ ٹیم نتیجے سے خوش ہے اور اب آخری میچ پر توجہ مرکوز ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی اننگز بہترین نہیں تھی، لیکن کم اسکور والے میدان کو دیکھتے ہوئے وہ تیز شروعات کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے کہا کہ ٹیم کو اگلے مرحلے میں پہنچنے کا موقع برقرار رکھنے کے لیے تینوں میچ جیتنا ضروری تھا اور ۱۵۰؍ رنز کا اسکوردفاع کے لیے اچھا ہدف ثابت ہوا۔ انہوں نے گیندبازوں کی کارکردگی کو شاندار قرار دیتے ہوئے کہا کہ اب اگلے اہم مقابلے میں کامیابی کے لیے ٹیم پُرامید ہے۔