Inquilab Logo Happiest Places to Work

منوج باجپئی ہر کردار کو انتہائی شدت سے ادا کرتے ہیں

Updated: April 23, 2026, 11:12 AM IST | Agency | Mumbai

ہندی سنیماکی بھیڑ میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے،لیکن اپنی خاموش شدت سے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ منوج باجپئی انہی میں سے ایک ہیں۔ایک ایسا فنکار جس نے ثابت کیا کہ اداکاری محض چہرے کی چمک نہیں، بلکہ روح کی گہرائی کا نام ہے۔

Manoj Bajpayee.Photo:INN
منوج پاجپئی۔ تصویر:پی ٹی آئی
ہندی سنیماکی بھیڑ میں کچھ چہرے ایسے ہوتے ہیں جو شور نہیں مچاتے،لیکن اپنی خاموش شدت سے دلوں میں گھر کر لیتے ہیں۔ منوج باجپئی انہی میں سے ایک ہیں۔ایک ایسا فنکار جس نے ثابت کیا کہ اداکاری محض چہرے کی چمک نہیں، بلکہ روح کی گہرائی کا نام ہے۔
منوج باجپئی ۲۳؍اپریل ۱۹۶۹ءکوبہار کے ضلع مغربی چمپارن کےگاؤں بیلوا میں پیدا ہوئے۔ وہ۶؍بہن بھائیوں میں دوسرے نمبر پر تھے۔ والد رادھا کانت باجپئی کسان تھے۔ منوج نے ابتدائی تعلیم کرائسٹ راجا ہائی اسکول بیتیا سے حاصل کی۔ بارہویں تک تعلیم مہارانی جانکی کالج سے کی۔ بچپن سے ہی امیتابھ بچن کی فلمیں دیکھ کر اداکار بننے کا خواب دیکھا۔ ۱۷؍سال کی عمر میں صرف ۱۲۰؍روپے لے کر دہلی آ گئے۔ وہاں ستیہ وتی کالج اور پھر رامجس کالج، دہلی یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ نیشنل اسکول آف ڈراما میں داخلے کیلئے ۴؍ بار کوشش کی مگر ہر بار مسترد ہوئے۔اسی دوران تھیٹر گروپ سے جڑے اور بیری جان کے ایکٹنگ اسکول میں داخلہ لیا۔ بیری جان ان کی صلاحیت سے اتنے متاثر ہوئے کہ انہیں اپنا اسسٹنٹ بنا لیا۔
تھیٹر میں نام کمانے کے بعد ۱۹۹۴ءمیںممبئی آگئے۔پہلا بریک گووند نہلانی کی فلم ’دروہ کال‘۱۹۹۴ءمیں ایک منٹ کے کردار سےملا۔ اسی سال شیکھر کپور کی ’بینڈت کوئین میں ڈاکو مان سنگھ کا کردار کیا۔ شیام بینیگل نے انہیں دوردشن کے سیریل ’امراوتی کی کتھائیں‘میں موقع دیا۔ لیکن۴؍سال تک لگاتار آڈیشنز میں مسترد ہوتےرہے۔ ایک دن میں۴؍پروجیکٹس سے نکالے گئے۔
 
 
رام گوپال ورما نے ’بینڈت کوئین‘ میں ان کی آنکھوں کی شدت دیکھی اور متاثر ہوئے۔’دوڑ‘ ۱۹۹۷ءمیں ایک چھوٹا رول دیا۔ اسی دوران’ستیہ‘۱۹۹۸ءبن رہی تھی۔ ورما نے پہلے انہیں ٹائٹل رول دینے کا وعدہ کیا تھا، مگر بعد میں بھیکو مہاترے کا کردار دیا۔ منوج مایوس ہوئےلیکن مان گئے۔’ستیہ‘ میں گینگسٹر بھیکو مہاترے کا کردار کلٹ بن گیا۔’’ممبئی کا کنگ کون؟ بھیکو مہاترے‘‘ ڈائیلاگ امر ہو گیا۔ اس فلم نے نہ صرف منوج کو راتوں رات اسٹار بنا دیا بلکہ ہندی سنیما کی زبان بدل دی۔ اس کے لیے انہیں بہترین معاون اداکار کا نیشنل ایوارڈ اور فلم فیئر کریٹکس ایوارڈ ملا۔
 
 
’ستیہ‘ کے بعد ولن کے رولز کی لائن لگ گئی۔ منوج نے ضد کر کے سب ٹھکرا دیے۔اس کے بعد انہوں نے ہر طرح کے کردار کیے۔ ’کون؟۱۹۹۹ءمیں سائیکو کلر،’شول۱۹۹۹ءمیں ایماندار انسپکٹر سمر پرتاپ سنگھ، جس پر دوسرا فلم فیئر کریٹکس ایوارڈ ملا، ’زبیدہ ۲۰۰۱ءمیں شہزادہ،’’دی فیملی مین۲۰۱۹ءمیں سری کانت تیواری کا کردار گھر گھر مقبول ہوا۔ اس پر فلم فیئر او ٹی ٹی ایوارڈ ملا۔ اس کے علاوہ ’صرف ایک بندہ کافی ہے۲۰۲۳ء،گل مہر۲۰۲۳ء،جورام ۲۰۲۳ء،بھیّا جی ۲۰۲۴ءمیں الگ الگ کردار کیے۔’بھوسلے۲۰۲۰ءپر بہترین اداکار کا نیشنل ایوارڈ ملا۔منوج کو۴؍ نیشنل فلم ایوارڈ،۴؍فلم فیئر ایوارڈ اور۲۰۱۹ءمیںپدم شری سے نوازا گیا۔ پہلی شادی ناکام رہی۔ دوسری شادی اداکارہ شبانہ رضا عرف نیہاسے کی جن سے ایک بیٹی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK