Inquilab Logo Happiest Places to Work

’مٹکا کوئین‘کریتیکا کامرا کے۷۰ء کی دہائی سے متاثر انداز موضوعِ بحث بن گئے

Updated: April 23, 2026, 12:02 PM IST | Mumbai

اب جبکہ ’’مٹکا کنگ‘‘ امیزون پرائم ویڈیو پر دستیاب ہے، اداکارہ کریتیکا کامرا اپنی اسکرین پر شاندار تبدیلی کی وجہ سے خاصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے کردار کا انداز، جو ۱۹۷۰ء کی دہائی کی ہیروئنس سے گہرا تعلق رکھتا ہے۔

Kritika Kamra.Photo:INN
کریتیکاکامرا۔ تصویر:آئی این این

اب جبکہ ’’مٹکا کنگ‘‘ امیزون پرائم ویڈیو پر دستیاب ہے، اداکارہ کریتیکا کامرا اپنی اسکرین پر شاندار تبدیلی کی وجہ سے خاصی توجہ حاصل کر رہی ہیں۔ ان کے کردار کا انداز، جو ۱۹۷۰ء کی دہائی کی ہیروئنس سے گہرا تعلق رکھتا ہے، اس سیریز کا سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والا پہلو بن چکا ہے، جس کی بدولت انہیں’مٹکا کوئین‘ کا خطاب بھی دیا جا رہا ہے۔


شو میں ‘گلرخ’ کے روپ میں کریتیکا کی شخصیت دراصل ماضی کی معروف اداکاراؤں جیسے زینت امان، پروین بابی، شرمیلا ٹیگور اور ریکھا کے لازوال گلیمر کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔ جرات مندانہ پولکا ڈاٹ ڈریسز سے لے کر خوبصورت پارسی ساڑیوں تک، مٹکا کنگ  میں ہر لباس اس دور کے فیشن کے گہرے شعور کی عکاسی کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ ہر انداز حقیقت کے قریب ہونے کے ساتھ ساتھ فلمی رنگ بھی رکھتا ہے، جو ۷۰ء کی دہائی کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے کہانی میں خوبصورتی سے گھل مل جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:پرشانت نیل اور جونیئر این ٹی آر کی فلم ۱۱؍ جون ۲۰۲۷ء کو ریلیز ہوگی


یہ اسٹائلنگ صرف ملبوسات تک محدود نہیں۔ بالوں، میک اپ اور لوازمات کو بھی نہایت باریکی سے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے کہ وہ اس دہائی کی سادگی اور انفرادیت کو نمایاں کریں۔ چاہے نمایاں ہیئر اسٹائل ہوں، ریٹرو پرنٹس یا ونٹیج سلویٹس—کریتیکا کا پورا انداز اس دور کی روح کو قید کرتا ہے، جس سے ناظرین کے لیے یہ ایک بصری طور پر دلکش تجربہ بن جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:امریکی نمائندے نے ورلڈکپ میں ایران کی جگہ اٹلی کو شامل کرنے کی تجویز پیش کی


اپنے تجربے کو بیان کرتے ہوئے کریتیکا نے کہا’’ہماری ٹیم نے اس دور اور خاص طور پر میرے کردار گلرخ کے انداز کو سمجھنے میں کافی وقت صرف کیا۔ یہ سب پروین بابی کی ایک تصویر سے شروع ہوا جو ناگراج سر نے شیئر کی تھی اور پھر ہم نے زینت امان، شرمیلا ٹیگور اور ریکھا جیسے لیجنڈز سے بھی تحریک لی۔ ہماری کاسٹیوم ڈیزائنر پریانکا دوبے نے میرے ساتھ کئی بار ٹرائلز کیے۔ بالوں سے لے کر جوتوں اور لوازمات تک ہر چیز پر غور کیا گیا اور بڑی احتیاط سے منتخب کیا گیا۔ ہم نے نہ صرف اس دور کی اداکاراؤں کو دیکھا بلکہ جاز کلبز، ریسز اور پارسی تقریبات کی حقیقی تصاویر بھی دیکھیں۔ کاسٹیوم، ہیئر اور میک اپ نے اس کردار کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور مجھے گلرخ کے وقار کو سمجھنے میں بہت مدد دی۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK