تنقید اور آن لائن مذاق کے درمیان، امریکی خاتونِ اول میلانیہ ٹرمپ پر امیزون ایم جی ایم کی نئی ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم نے روٹن ٹماٹوز پر نہایت کم، صرف ۸؍ فیصد ریٹنگ کے ساتھ آغاز کیا ہے۔
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 9:04 PM IST | New Delhi
تنقید اور آن لائن مذاق کے درمیان، امریکی خاتونِ اول میلانیہ ٹرمپ پر امیزون ایم جی ایم کی نئی ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم نے روٹن ٹماٹوز پر نہایت کم، صرف ۸؍ فیصد ریٹنگ کے ساتھ آغاز کیا ہے۔
تنقید اور آن لائن مذاق کے درمیان، امریکی خاتونِ اول میلانیہ ٹرمپ پر امیزون ایم جی ایم کی نئی ریلیز ہونے والی دستاویزی فلم نے روٹن ٹماٹوز پر نہایت کم، صرف ۸؍ فیصد ریٹنگ کے ساتھ آغاز کیا ہے۔ بریٹ ریٹنر کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم کو بڑے بازاروں میں پیشگی ٹکٹوں کی فروخت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جہاں برطانیہ، امریکہ اور کنیڈا کے مختلف حصوں میں شوز یا تو خالی رہے یا بہت کم بکنگ ہوئی۔۱۰۴؍ منٹ دورانیے پر مشتمل یہ دستاویزی فلم ۳۰؍ جنوری ۲۰۲۶ءکو امریکہ اور برطانیہ میں ریلیز کی گئی۔
دی گارجین کے مطابق جمعہ کو لندن میں ہونے والے پریمیئر سے قبل آئزلنگٹن کے ایک سنیما میں دوپہر کے شو کے لیے صرف ایک ٹکٹ فروخت ہوا، جبکہ اسی مقام پر شام کے شو کے لیے محض دو ٹکٹ خریدے گئے۔ بڑے ملٹی پلیکس سنیما گھروں کی صورتحال اس سے بھی زیادہ خراب رہی، جہاں لندن میں ویو سنیما کے تمام طے شدہ شوز کے لیے پیشگی فروخت صفر رہی۔کریگ لسٹ پر ایک وائرل اشتہار، جس میں فلم دیکھنے والوں کو مفت ٹکٹ کے ساتھ ۵۰؍ امریکی ڈالر کی پیشکش کی گئی، نے فلم کی کمزور باکس آفس کارکردگی کے باعث میمز اور لطیفوں کی ایک نئی لہر کو جنم دیا۔
اس اشتہار میں لوگوں سے کہا گیا تھا کہ وہ بوسٹن کے علاقے میں فلم کا کوئی بھی شو مفت دیکھیں اور پوری فلم بیٹھ کر دیکھنے کی شرط پر نقد رقم وصول کریں۔امریکی تفریحی جریدے دی ڈیلی بیسٹ کے ایک ناقد نے اس دستاویزی فلم کے بارے میں لکھا’’یہ اتنی بے جان اور سطحی تشہیر ہے کہ اس پر تبصرہ کرنا بھی مشکل ہو جاتا ہے، سب کچھ متوقع اور بالکل بے مقصد ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:`تعلیم سے روزگار اور صنعت کاری پر اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کی جائے گی: سیتارمن
دستاویزی فلم کی سست باکس آفس کارکردگی پر طنز کرتے ہوئے ایک ایکس صارف نے لکھا: میلانیہ کے لیے ابھی تک ایک بھی ٹکٹ فروخت نہیں ہوا۔ امید ہے یہ فلم ۷؍ ڈالر کما لے۔‘‘ایک اور صارف نے مذاق میں لکھاکہ ’’میلانیہ کو بہترین فلم، بہترین اداکارہ، بہترین معاون اداکارہ، بہترین اسکرین پلے اور بہترین سنیماٹوگرافی کے لیے فیفا آسکر میں نامزد کیا گیا ہے۔‘‘
یہ بھی پڑھئے:آئرلینڈ کی خواتین ٹیم کا بڑا معرکہ: ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ کیلئے کوالیفائی کر لیا
امیزون ایم جی ایم اسٹوڈیوز کی تیار کردہ یہ دستاویزی فلم ڈونالڈ ٹرمپ کی دوسری صدارتی حلف برداری سے قبل کے ۲۰؍ دنوں میں میلانیا ٹرمپ کی زندگی پر روشنی ڈالتی ہے اور توقع ہے کہ سنیما میں نمائش کے بعد اسے پرائم ویڈیو پر پیش کیا جائے گا۔رپورٹس کے مطابق، امیزون ایم جی ایم اسٹوڈیوز نے اس دستاویزی فلم اور ایک ڈاکیومنٹری سیریز کے حقوق حاصل کرنے کے لیے تقریباً ۴۰؍ ملین امریکی ڈالر خرچ کیے ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹنگ پر مزید۳۵؍ ملین ڈالر خرچ کیے گئے، جس سے منصوبے کا مجموعی بجٹ ۷۵؍ ملین ڈالر تک پہنچ گیا۔تاہم بھاری بجٹ کے باوجود اس دستاویزی فلم کو سنیما میں ریلیز سے قبل ناقدین کے لیے وسیع پیمانے پر دستیاب نہیں کروایا گیا۔ ورائٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق، پریمیئر کے دن زیادہ تر مرکزی میڈیا پلیٹ فارمز کو خصوصی اسکریننگ سے باہر رکھا گیا۔