Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ ایران جنگ بندی : کیا دنیا نئے معاشی بحران کی جانب بڑھ رہی ہے؟

Updated: April 21, 2026, 1:58 PM IST | New Delhi

امریکہ ایران جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے سبب خام تیل مہنگا اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔

West Asia War.Photo:INN
مغربی ایشیا کی جنگ۔ تصویر:آئی این این

 امریکہ ایران جنگ بندی کی غیریقینی صورتحال کے سبب خام تیل مہنگا اور دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹس دباؤ کا شکار ہیں جبکہ سرمایہ کاروں کی نظریں مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر مرکوز ہیں۔ 
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر گزشتہ روز عالمی مالیاتی منڈیوں میں غیریقینی صورتحال دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، برینٹ کروڈ کی قیمت تقریباً ۵؍ فیصد اضافے کے ساتھ ۱۶ء۹۵؍ ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی جبکہ ایس اینڈ پی ۵۰۰؍ فیوچرز میں۶ء۰؍ فیصد اور یورپی فیوچرز میں ۱ء۱؍فیصد کمی دیکھی گئی۔ اس کے برعکس ایشیائی اسٹاک مارکیٹس سیول، تائپی اور ٹوکیو کی مارکیٹوں کے شیئرز میں اضافہ ہوا، جبکہ تائیوان کی مارکیٹ نئی ریکارڈ سطح پر پہنچ گئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:اداکار ادیوی شیش فلم ’’ڈکیت‘‘ کی کامیابی سے لطف اندوز ہو رہے ہیں


ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کردیا، تاہم ڈیٹا کے مطابق ہفتے کے روز ۲۰؍ سے زائد بحری جہاز اس اہم گزرگاہ سے گزرے تھے جو یکم مارچ کے بعد سب سے تعداد تھی۔ رپورٹ کے مطابق امریکہ ایران جنگ بندی جسے منگل تک جاری رہنا تھا، اس وقت مشکوک ہوگئی جب امریکہ نے ایک ایرانی کارگو جہاز قبضے میں لے لیا، جس کے بعد تہران کی اعلیٰ عسکری قیادت نے جوابی کارروائی کا عندیہ دیا۔ اس حوالے سے ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال کشیدہ ضرور ہے تاہم فریقین کسی نہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، جس کے باعث اسٹاک مارکیٹس میں مکمل مندی نہیں آئی۔ 

یہ بھی پڑھئے:لبنان میں اسرائیل کی غیرقانونی اور ظالمانہ سرگرمیاں


دوسری جانب نیشنل آسٹریلیا بینک نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے باعث قرضوں میں اضافے کا خدشہ ہے اور بینک نے۵۰؍ کروڑ ڈالر کے ممکنہ نقصانات کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ علاوہ ازیں گزشتہ روز بڑھنے والے بانڈز پیر کو نچلی سطح پر آگئے جبکہ ۱۰؍ سالہ امریکی ٹریژری بونڈ کی شرح سود۲۶۶ء۴؍فیصد تک بڑھ گئی، امریکی ڈالر بھی گزشتہ دو ہفتوں کی کمزوری کے بعد سنبھل گیا۔ اس کے علاوہ گزشتہ ہفتے وال اسٹریٹ انڈیکسز ریکارڈ سطح پر پہنچ گئے تھے، جس کی وجہ مضبوط سہ ماہی مالی نتائج کی توقعات تھیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK