Inquilab Logo Happiest Places to Work

نور محمد چارلی سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے مزاحیہ اداکار تھے

Updated: July 01, 2026, 11:59 AM IST | Mumbai

فلمی تاریخ میں بعض فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی منفرد اداکاری، بے ساختہ مزاح اور دلکش شخصیت کے ذریعے عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔

Noor Mohammed Charlie. Photo: INN
نور محمد چارلی۔ تصویر: آئی این این

فلمی تاریخ میں بعض فنکار ایسے گزرے ہیں جنہوں نے اپنی منفرداداکاری، بے ساختہ مزاح اور دلکش شخصیت کے ذریعے عوام کے دلوں میں ہمیشہ کے لیے جگہ بنا لی۔ ایسے ہی عظیم فنکاروں میں نور محمد چارلی کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ انہیں برصغیر کے ابتدائی اور مقبول ترین مزاحیہ اداکاروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی شہرت کا عالم یہ تھا کہ لوگ انہیں ہندوستان کا ’چارلی چیپلن‘کہا کرتے تھے، اور یہی نسبت آگے چل کر ان کے نام کا مستقل حصہ بن گئی۔

نور محمد کی پیدائش یکم جولائی۱۹۱۱ءکوگجرات کے شہر رانی پور میں ہوئی تھی، جو اس وقت برطانوی ہند کا حصہ تھا اور آج پاکستان میں واقع ہے۔ان کا تعلق ایک متوسط مسلم خاندان سے تھا۔ بچپن ہی سے انہیںاداکاری اور نقل اتارنے کا شوق تھا۔وہ مقامی میلوں اور ثقافتی تقریبات میں لوگوں کو ہنسا کر داد وصول کیا کرتے تھے۔

اسی دوران ان کی شخصیت کا موازنہ عالمی شہرت یافتہ مزاحیہ اداکارچارلی چیپلن سے کیا جانے لگا۔اگرچہ ان کا اندازِ مزاح مکمل طورپر ہندوستانی معاشرے سے جڑا ہوا تھا، لیکن ان کی جسمانی حرکات، تاثرات اور خاموش مزاح میں چیپلن کی جھلک محسوس کی جاتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ انہیں ’چارلی‘کے لقب سے پکارا جانے لگا، اور بعد میں یہی ان کی شناخت بن گیا۔

یہ بھی پڑھئے: آئی ایم ڈی بی: انتظار کی جانے والی فلموں میں ’’ رامائن‘‘ سرفہرست، ’’کنگ‘‘ پیچھے

نور محمد چارلی نےاپنے فلمی سفر کا آغاز خاموش فلموں کے دور میںکیا۔ اس زمانے میں اداکاروں کو اپنے جذبات اور مزاح کا اظہار صرف جسمانی حرکات، چہرے کے تاثرات اور مخصوص اندازِ اداکاری سے کرنا پڑتا تھا۔ نور محمد اس فن میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے۔

جب ہندوستانی سینما خاموش فلموں سے بولتی فلموں کی جانب منتقل ہوا تو بہت سے فنکار اس تبدیلی کے ساتھ خود کو ہم آہنگ نہ کر سکے، مگر نور محمد چارلی نے نہ صرف اس نئے دور کو قبول کیا بلکہ اس میں بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔ ان کی برجستہ گفتگو، مزاحیہ جملے اور دلکش اداکاری نے انہیں مزید مقبول بنا دیا۔

۱۹۳۰ءاور۱۹۴۰ءکی دہائی نور محمد چارلی کے عروج کا زمانہ تھا۔ وہ اس دور کے سب سے زیادہ معاوضہ لینے والے مزاحیہ اداکاروں میں شمار ہوتے تھے۔ بعض اطلاعات کے مطابق انہیں کئی مواقع پر فلم کے مرکزی ہیرو سے بھی زیادہ معاوضہ دیا جاتا تھا، جو اس زمانے میں ایک غیر معمولی بات تھی۔ان کی مقبولیت اس قدر تھی کہ فلموں کے پوسٹروں پر ان کا نام نمایاں طور پر درج کیا جاتا تھا، اور شائقین محض ان کی موجودگی کی وجہ سے فلم دیکھنے سینما گھروں کا رخ کرتے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: عالیہ بھٹ اور شروری کی’’ `الفا‘‘ میں معمولی ترامیم، صرف چند مناظر تبدیل

نور محمد چارلی نے متعدد کامیاب فلموں میں کام کیا، جن میں ’ہندوستان‘،’بانسری والا‘، ’نوکر‘، ’زندہ لاش‘، ’ہنڈولا‘ اور دیگر فلمیں شامل ہیں۔ان کے مزاحیہ کردار عام آدمی کی زندگی سے قریب ہوتے تھے، اسی لیے عوام ان سے فوری طور پر جڑ جاتے تھے۔وہ اپنے کرداروں میں بناوٹ سے گریز کرتے تھے اور روزمرہ زندگی کے مشاہدات کو مزاح کا حصہ بنا دیتے تھے۔ یہی فطری انداز ان کی کامیابی کا راز تھا۔

وہ نئے فنکاروں کی رہنمائی میں بھی دلچسپی لیتے تھے اور چاہتے تھے کہ مزاحیہ اداکاری کو محض تفریح کے بجائے ایک باوقار فن کے طور پر دیکھا جائے۔زندگی کے آخری برسوں میں نور محمد چارلی صحت کے مسائل کا شکار رہے اور فلمی سرگرمیوں سے دور ہوگئے۔بالآخر ۳۰؍جون ۱۹۸۳ءکوکراچی میں ان کا انتقال ہوگیا۔ ان کی وفات کے ساتھ برصغیر کی مزاحیہ اداکاری کے ایک عظیم باب کا اختتام ہوا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK