بھیونڈی کی عدالت نے ۶؍ جولائی تک پولیس تحویل دی، ایس آئی ٹی کی تحقیقات کا دائرہ وسیع، مفرور ملزمین کی تلاش میں کئی ریاستوں میں چھاپے۔
EPAPER
Updated: July 01, 2026, 1:13 PM IST | khalid Abdul Qayyum Ansari | Bhiwandi
بھیونڈی کی عدالت نے ۶؍ جولائی تک پولیس تحویل دی، ایس آئی ٹی کی تحقیقات کا دائرہ وسیع، مفرور ملزمین کی تلاش میں کئی ریاستوں میں چھاپے۔
مہاراشٹر اساتذہ اہلیتی امتحان (ٹی ای ٹی۔ ۲۰۲۶ء) کے مبینہ پرچہ لیک معاملے کی تحقیقات میں بھیونڈی پولیس اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ تفتیشی ایجنسیوں نے اس معاملے کے مبینہ ماسٹر مائنڈ کی اہلیہ سمن کماری کو بہار کے دارالحکومت پٹنہ سے گرفتار کر لیا ہے۔ اس ہائی پروفائل امتحانی گھوٹالے میں کسی خاتون کی یہ پہلی گرفتاری ہے، جس کے بعد تفتیش کا دائرہ مزید وسیع ہونے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق سمن کماری کو پٹنہ سے گرفتار کرنے کے بعد قانونی ضابطوں کے تحت ٹرانزٹ ریمانڈ حاصل کرکے بھیونڈی لایا گیا جہاں منگل کو اسے عدالتی مجسٹریٹ ایس ایم ستار کی عدالت میں پیش کیا گیا۔معاملے کی سنگینی اور مزید تفتیش کی ضرورت کو مدنظر رکھتے ہوئے عدالت نے اسے۶؍جولائی تک پولیس تحویل میں بھیجنے کا حکم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرین مسافروں کیلئے میٹرو اسٹیشن، ایئر پورٹ کی طرز پر سیکوریٹی انتظامات کا مطالبہ
واضح رہے کہ اس سے قبل بھیونڈی پولیس اس معاملے میں ۳؍ ملزمین کو گرفتار کر چکی ہے جبکہ مبینہ سرغنہ اور اس کا قریبی ساتھی اب بھی مفرور ہے۔ ان کی گرفتاری کے لئے ایس آئی ٹی کی متعدد ٹیمیں بہار، اتر پردیش، دہلی اور ہریانہ سمیت مختلف ریاستوں میں مسلسل چھاپہ ماری کر رہی ہیں۔ تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ پرچہ لیک کے اس بین الریاستی نیٹ ورک سے وابستہ تمام افراد کی شناخت اور گرفتاری تک کارروائی جاری رہے گی۔
سماعت کے دوران دفاعی وکیل ایڈوکیٹ شلیش گائیکواڑ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ ان کی مؤکلہ کو صرف مرکزی ملزم کی اہلیہ ہونے کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس مالی لین دین کی جانچ کرنا چاہتی ہے اور محض اس شبہ کی بنیاد پر کارروائی کی گئی ہے کہ ان کا اپنے مفرور شوہر سے رابطہ ہو سکتا ہے۔ دفاعی فریق نے دعویٰ کیا کہ گرفتاری کسی ٹھوس ثبوت کے بجائے محض شبہات کی بنیاد پر عمل میں آئی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی کے بجلی صارفین کو بقایا بل میں راحت دینے کیلئے حکومت کوشاں
دوسری جانب تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ یہ جانچ کی جا رہی ہے کہ آیا سمن کماری کا مبینہ پیپر لیک سازش، ملزمین کے درمیان مالی لین دین، مفرور افراد کی سرگرمیوں اور پورے نیٹ ورک کے انتظام و انصرام میں کوئی کردار رہا ہے یا نہیں۔ اس مقصد کے لئے ان کے موبائل فون، بینک کھاتوں، ڈیجیٹل آلات اور دیگر الیکٹرانک شواہد کی فارینسک جانچ کی جا رہی ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق، تحقیقات کئی سطحوں پر جاری ہیں اور مالی لین دین، ڈیجیٹل رابطوں اور مختلف ریاستوں میں ملزمین کی سرگرمیوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ حکام کو امید ہے کہ ان شواہد کی مدد سے نہ صرف مبینہ پرچہ لیک سنڈیکیٹ کے طریقۂ کار سے پردہ اٹھایا جا سکے گا بلکہ اس سازش میں ملوث دیگر افراد تک بھی پہنچنا ممکن ہو سکے گا۔