سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دیپک گپتا کا یہ مضمون عدلیہ کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کی موجودہ صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد کم ہورہاہے:
EPAPER
Updated: September 12, 2026, 1:00 PM IST | Agency | New Delhi
سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس دیپک گپتا کا یہ مضمون عدلیہ کی آزادی، شہریوں کے بنیادی حقوق اور جمہوری اقدار کی موجودہ صورتِ حال کا حوالہ دیتے ہوئے اس بات پر تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ عدالتوں پر عوام کا اعتماد کم ہورہاہے:
اب جبکہ ملک کی آزادی کی ۸۰؍ ویں سال گرہ کا شور شرابہ تھم چکا ہے، میں میں سوچ رہا ہوں کہ ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے ہم کتنے آزاد ہیں؟ آزادی محض غیر ملکی تسلط سے نجات کا نام نہیں ۔ کوئی ملک آزاد اس وقت ہوتا ہے جب اس کے شہریوں کو بلا خوف سوچنے اور بولنے کی آزادی ہو، جب وہ اختلافِ رائے کا اظہار کرسکیں اور کھل کر اپنی بات رکھ سکیں۔ ہم حقیقی معنوں میں اس وقت آزاد ملک ہوسکتے ہیں جب ذات پات یا مذہب کی بنیاد پر کوئی امتیاز نہ ہو اور پسماندہ طبقات یا اقلیتوں سے تعلق رکھنے کی وجہ سے شہریوں کو مساوی مواقع سے محروم نہ کیا جائے۔
مڑ کر ماضی کو دیکھیں تو فخر ہوتا ہے کہ ہم نے بہت ترقی کی ۔ ہمارے شہری پہلے کے مقابلے میں بہتر زندگی گزار رہے ہیں۔ ہم عالمی طاقت ہیں اور ٹریلین ڈالر کی معیشت کی طرف بڑھ رہے ہیں لیکن اگر آبادی کا ایک بڑا حصہ اب بھی خط افلاس سے نیچے زندگی گزار رہا ہے تو ٹریلین ڈالر کی معیشت کا کیا فائدہ؟
یہ بھی پڑھئے: بینک ملازمین کی ملک گیر ہڑتال کے سبب بینکوں میں کام کاج بری طرح متاثر
مختصر مضمون میں میں تمام پہلوؤں کا احاطہ ممکن نہیں۔ تقریباً نصف صدی تک قانونی شعبے سے وابستہ رہنے کے باعث میں اپنی توجہ قانونی برادری تک محدود رکھوں گا۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک خود کو آزاد نہیں کہہ سکتا جب تک وہاں کی عدلیہ آزاد اور بے خوف نہ ہو۔ یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہمارے پاس دیانت داری، ذہانت اور سب سے بڑھ کر ریڑھ کی ہڈی رکھنے والے جج ہوں۔ ایسے جج جو انصاف کیلئے کھڑے ہونے اور ناانصافی کے خلاف لڑنے کی طاقت رکھتے ہوں۔ ایسے جج جو اپنے اس حلف پر کھرا اتر سکیں کہ وہ ’بلا خوف و رعایت‘ کام کریں گے۔ آئینی عدالتیں، یعنی سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ محض تنازعات کا فیصلہ کرنے والے ادارے نہیں ہیں۔ ان کی ذمہ داری شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ اور ان کی پاسداری بھی ہے۔ ہمارے آئین سازوں نے بنیادی حقوق کو اتنی اہمیت دی کہ ان حقوق کی خلاف ورزی کی شکایت لے کر ملک کی سب سے بڑی عدالت سے براہ راست رجوع کا حق بھی آرٹیکل۳۲؍ کے تحت بنیادی حق قرار دیا گیا۔ افسوس کی بات ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران آئینی عدالتوں نے مطلوبہ حساسیت اور جرأت کا مظاہرہ نہیں کیا ہے۔
جسٹس ایچ آر کھنہ نے اے ڈی ایم جبل پور کیس میں اپنے جرأت مندانہ اختلافی فیصلے میں کہا تھا کہ ایمرجنسی کے دوران بھی کسی شہری کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جاسکتا، اِلّا یہ کہ ایسا قانون کے مقرر کردہ دائرہ میں رہ کر کیا جائے۔ قانونی کلیہ’’ضمانت اصول، جیل استثنیٰ ‘‘ بار بار دہرایا جا تا ہے مگر عملی صورتحال ’’جیل اصول، ضمانت استثنیٰ‘‘ کی بن چکی ہے۔ یہ انتہائی تشویشناک ہے کہ جس ملک میں قانون کی حکمرانی پر یقین کا حلف لیا جاتا ہے اور کسی بھی شخص کو جرم ثابت ہونے تک بے گناہ تصور کیا جاتا ہے، اس ملک کی جیلوں میں ہرسزا یافتہ قیدی کے مقابلے میں ۳؍زیر سماعت قیدی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حراستی تشدد پولیس کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں، جرم ہے‘‘
عمر خالد ۶؍ سال سے زیادہ عرصے سے جیل میں ہیں۔ ابھی تک ان کےمقدمہ پر سماعت بھی شروع بھی نہیں ہوئی۔ ان کے آزادی کے حق کا کیا ہوگا؟ فوری سماعت کے حق کا کیا ہوگا؟ سپریم کورٹ نے اپنے ہی ایک فیصلے میں عمر خالد کے معاملہ میں میں دیئے گئے فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھایا ہے۔قانونی عمل ہی سزا بن چکاہے۔ ’’اینٹی نیشنل‘‘ قرار دے کرلوگوں کی زندگیاں برباد کردی جاتی ہیں۔ افسوس کہ عدالتیں بھی ان شہریوں کے بنیادی حقوق کا تحفظ نہیں کرتیں۔ سونم وانگ چک کو تقریباً ۶؍ ماہ تک حراست میں رکھا گیا۔ قانون کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ حبس ِ بے جا کے خلاف دائر کی گئی درخواستوں پر فوری سماعت ہونی چاہئے مگر سونم وانگ چک کامعاملہ سپریم کورٹ میں بار بار ملتوی ہوتارہا اور حکومت سے درخواست کی گئی کہ وہ خود نظر ثانی کرلے۔
آخرکار جب اقتدار میں موجود لوگوں کو احساس ہوا کہ عدالت ان کے حق میں فیصلہ نہیں سناسکے گی تو حراست کا حکم واپس لے لیا گیا اور پھر عدالت نے کہا کہ اب یہ اپیل بے معنی ہوچکی ہے جبکہ عدالت کو یہ فیصلہ کرنا چاہیے تھا کہ وانگ چک کی حراست قانونی تھی یا نہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ’’حراستی تشدد پولیس کی ڈیوٹی کا حصہ نہیں، جرم ہے‘‘
جمہوریت اکثریتی حکمرانی کا نام ہے لیکن اکثریت نوازی جس میں دوسرے فریق کی آواز ہی نہ سنی جائے، جمہوریت کے منافی ہے۔ بدقسمتی سے عدالتیں ہر سطح پر اکثریت نوازی کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
رام جنم بھومی کیس میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عبادت گاہوں سے متعلق دیگر تنازعات کو دوبارہ نہیں کھولا جائے گا اور نہ ہی ان کی سماعت کی جائے گی لیکن جس جج نے بظاہر یہ فیصلہ تحریر کیا تھا، انہوں نے بعد میں گیان واپی مسجد معاملے میں (ذیلی عدالت کے) اُس حکم کو برقرار رکھا جس کے تحت یہ معلوم کرنے کی ہدایت دی گئی تھی کہ اس جگہ پر جہاں مسجد ہے کیا پہلے کوئی مندر تھا۔ یہ کہہ کر اس اقدام کا جواز پیش کیا گیا کہ یہ محض ایک تحقیق ہے اور معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں۔ میرے خیال میں اس حکم نے مقدمات کی بھرمار کے دروازے کھول دیئے جس سے مختلف برادریوں کے درمیان بھائی چارے پر اثر پڑے گا۔یہ فیصلہ اکثریتی طبقہ کو خوش کرنے کے لئے کیا گیا تھا۔
جب ایک مخصوص برادری کے افراد نے گنگا پرکشتی میں چکن کھایا تو انہیں کئی ماہ تک ضمانت نہیں دی گئی۔ تاہم جب اکثریتی برادری کے افراد نے اسی مقدس دریا میں شراب نوشی کی تو انہیں چند گھنٹوں کے اندر ضمانت مل گئی۔ تنازعات کے تصفیہ کیلئے بھاری اخراجات اور طویل انتظارکے باوجودلوگوں نے عدلیہ پر بہت زیادہ اعتماد اور بھروسہ کیا، بدقسمتی سے یہ اعتماد اور بھروسہ اب کم ہورہا ہے۔ججوں کی بہت بڑی اکثریت دیانت دار ہے، لیکن ’کالی بھیڑوں‘ کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ اعلیٰ سطح پر موجود ججوں کو خود احتسابی کرنی ہوگی کہ ایسا کیوں ہورہا ہے۔ عدلیہ کی کھوئی ہوئی عظمت بحال کرنے کیلئے اقدامات کئےجانے چاہئیں۔ یہ کام ضروری ہے کیونکہ اگر لوگوں کا اعتماد ختم ہوگیا تو عدلیہ بے معنی ہوجائے گی۔ یہ جمہوری ہندوستان کی موت ہوگی۔ جہاں جمہوریت نہیں ہوگی، وہاں عوام کبھی آزاد یا خودمختار نہیں ہوسکتے۔
( لائیو لاء پر شائع ہونےوالے طویل مضمون کا ایک بڑا حصہ)