• Sun, 11 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہماری فلموں نے وقت کے ساتھ خوب ترقی کی مگر کامیڈی کے شعبے میں پچھڑتی چلی گئی

Updated: October 11, 2026, 1:23 PM IST | Anis Amrohvi | Mumbai

ایک دور تھا جب ہندوستانی فلموں میں نور محمد چارلی، جانی واکر، محمود اور آئی ایس جوہر جیسے فنکار ہوا کرتے تھے جو اپنے دم پر فلموں کو کامیاب کرانے کی صلاحیت رکھتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے۔

Johnny Walker, Mahmood, and Noor Mohammed Charlie. Photo: INN.
جانی واکر،محمود اور نور محمد چارلی۔ تصویر: آئی این این

بات زیادہ پُرانی نہیں ہے۔ جب کسی نئی فلم کے ریلیز ہونے پر گھوڑا، تانگہ یا رکشہ کے دونوں طرف لکڑی کے فریم اور ٹاٹ سے منڈھے ہوئے بورڈ پر فلم کے پوسٹر چپکے ہوتے تھے اور آگے کی طرف لمبا والا لائوڈ اسپیکر لگا ہوتا تھا۔ فلم کے گانے بجانے کے بیچ بیچ میں ناظرین کی کشش کیلئے ستاروں کے نام، گیت کار، موسیقار اور ہدایت کار کا نام بھی بتایا جاتا تھا۔ انائونسر کا پورا جملہ کچھ اس انداز کا ہوتا تھا ’’آج سے روزانہ چار شو میں دیکھئے، فلاں سنیما کے سنہرے پردے پر، مار دھاڑ سے بھرپور، فلاں کمپنی کی فلم، جس میں مشہور کلاکار اور فنکارفلاں فلاں ہیں، ساتھ میں فلاں (مزاحیہ اداکار)۔ ‘‘ سیدھے سادے ناظرین ایک دوسرے سے، یا اس انائونسر سے بیچ میں ہی پوچھ لیتے تھے ’’بھئی، اس فلم میں غدار کون ہے؟‘‘ یا پھر ’’بھئی، اس فلم میں مسخرا (مزاحیہ اداکار) کون ہے؟‘‘
اس زمانے کا یہی مسخرا بعد میں ’کامیڈین‘ کہلایا اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ اس ’کامیڈین‘ کو فلموں میں ہیرو کے برابر کا رول ملنے لگا۔ آج یہ سب گزرے وقت کی باتیں ہو گئی ہیں۔ ہماری فلموں سے مسخرا یا کامیڈین غائب ہو گیا ہے۔ امیتابھ بچن کی ایک فلم آئی تھی آج کا ارجن۔ اس فلم کے ایک سین میں امیتابھ، کامیڈین اسرانی کو پیڑ سے باندھ کر خود ہیروئن جیاپردا کے ساتھ گانا گانے لگتا ہے۔ اس طرح کامیڈین پیڑ سے بندھا رہتا ہے اور فلم کا ہیرو پوری فلم میں کامیڈی کرتا رہتا ہے۔ آج کی ہماری فلموں کے مزاحیہ اداکار کی حالت ایسی ہی ہو کر رہ گئی ہے۔ تقریباً ۹۰؍فیصد فلموں سے مزاحیہ اداکار کا نام اور کام غائب ہو گیا ہے۔ 
چھٹی دہائی میں بدر الدین قاضی عرف جانی واکر کو کسی فلم کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا تھا۔ آج ہم کسی بھی مزاحیہ اداکار سے یہ امید نہیں کر سکتے کہ فلم اس کی وجہ سے مقبول ہو سکتی ہے۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء تک دس برسوں میں اکیلے جانی واکر کی ہندی فلموں پر حکومت ہوا کرتی تھی۔ گرودت، بمل رائے، بی آر چوپڑا جیسے ہدایتکاروں نے جانی واکر کو اپنی فلموں میں مزاحیہ اداکاری کے بھرپور مواقع فراہم کئے تھے۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار صاحب کی حیثیت اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ جیسی تھی‘‘

جانی واکر کی کامیڈی، ان سے کچھ عرصہ پہلے کے مشہور مزاحیہ اداکار نور محمد چارلی سے کافی متاثر تھی۔ جب چارلی پاکستان چلے گئے تو جانی واکر کو بھرپور مواقع ملے۔ دیوداس، ڈیٹکٹیو، بازی، ہلچل، نیا دور، کوہ نور، پالکی، میرے محبوب، میرے حضور، آر پار، جورو کا بھائی، دل دیا درد لیا، راجدھانی، پیغام، مدھومتی، چودھویں کا چاند، چھو منتر، بندیا چمکے گی وغیرہ ایسی ہی فلمیں ہیں جن میں جانی واکر نے اپنے فن سے عوام و خواص کو متاثر کیا ہے۔ انہوں نے راجیش کھنہ کو لے کر ایک فلم پہنچے ہوئے لوگ کی تخلیق بھی کی لیکن فلم ناکام ہو گئی۔ 
جس وقت جانی واکر کا مزاح ناظرین کے دل و دماغ پر چھایا ہوا تھا، اسی درمیان ایک نئے فنکار کے طور پر محمود سامنے آئے۔ پہلی ہی فلم سی آئی ڈی میں ایک غنڈے کے چھوٹے سے رول میں فلموں میں آمد کرنے والے اس فنکار پر کسی کی نگاہ نہیں پڑی۔ محمود نے اپنے والد ممتاز علی کی طرح کامیڈی شروع کی، لیکن کامیاب نہ ہو سکے کیوں کہ اس وقت جانی واکر، آغا اور بھگوان دادا کا سکہ فلم کے مزاح کے میدان میں چلتا تھا۔ اسی بیچ فلم گمنام آئی تو محمود راتوں رات کامیاب ہو گئے۔ اس فلم کے ایک گیت ’’ہم کالے ہیں تو کیا ہوا، دل والے ہیں ‘‘ سے محمود نے ناظرین پر وہ جادو چلایا کہ تقریباً بیس سال تک محمود کا سکہ چلتا رہا۔ گمنام کے فرینچ مونچھ، چارخانے کی لنگی، بنیان اور گلے میں رومال باندھے حیدرآبادی کردار میں اتنی کشش تھی کہ برسوں بعد امیتابھ بچن نے فلم دیش پریمی میں ’’خاتون کی خدمت میں سلام اپُن کا‘‘ گانے میں اسی کردار کو دہرایا۔ 
جوہر محمود اِن گوا، آرزو، چِتر لیکھا، دو دل، سادھو اور شیطان، پتھر کے صنم، سہاگ رات، آنکھیں، نیل کمل، ہم جولی، للکار، پڑوسن، دھرتی، کاجل، گمنام، کنوارا باپ اور سب سے بڑا روپیہ وغیرہ جیسی فلموں میں محمود کی اداکاری کو ناظرین آج بھی یاد کرتے ہیں۔ محمود فلم میں سندر ہوں میں لینا چندراورکر اور فلم ایک پھول میں رادھا سلوجا کے ساتھ ہیرو بھی بنے۔ آئی ایس جوہر بھی محمود کے وقت میں ہی فلموں میں مزاحیہ اداکار کے طور پر رونما ہوئے، لیکن کئی فلموں کے بعد بھی ناظرین میں اپنی کوئی خاص شناخت نہ بنا سکے۔ جوہر محمود اِن گوا ایک ایسی فلم تھی جس میں آئی ایس جوہر اور محمود نے اپنی فنکارانہ مزاحیہ اداکاری کی نمائش کی تھی۔ 
آٹھویں دہائی کی ابتدا میں جب جانی واکر اور محمود کا جادو ناظرین کے دماغ سے مدھم ہونے لگا، تب کیشٹو مکھرجی، جگدیپ، اسرانی اور جلال آغا جیسے مزاحیہ اداکارسامنے آئے۔ جگدیپ تو پہلے ہی سے فلموں میں تھے، لیکن اپنی کوئی چھاپ نہیں چھوڑ سکے تھے۔ جلال آغا کو ناظرین نے مزاحیہ اداکار کے طور پر کبھی قبول نہیں کیا۔ کیشٹو مکھرجی نے جانی واکر کے شرابی والے کردار ہی کو آگے بڑھایا، لیکن اسرانی نے مختلف قسم کے کردار ادا کئے۔ فلم شعلے میں جگدیپ اور اسرانی دونوں کی اداکاری کو ناظرین نے سراہا، لیکن یہ مزاحیہ اداکار بھی اپنے اکیلے کندھوں پر کسی فلم کو مقبول کرنے کا ذمہ نہیں لے سکے۔ اسی دور میں راجندر ناتھ، وی گوپال، موہن چوٹی، بیربل اور دیوین ورما وغیرہ مزاحیہ اداکار بھی فلموں میں آتے رہے، لیکن یہ زیادہ تر ہیرو کے پچھ لگو ہی بنے رہے اور اپنی کوئی الگ سے خاص شناخت نہیں کرا سکے۔ 
ہندوستان میں مزاحیہ اداکارائوں کی ہمیشہ کمی بنی رہی۔ پُرانی گلوکارہ اوما دیوی جو بعد میں ٹن ٹن کے نام سے مزاحیہ اداکارہ کے طور پر ہندی سنیما میں پہچانی گئیں، شاید ہندوستانی سنیما کی پہلی مزاحیہ اداکارہ کہی جائیں گی، جنہوں نے مزاحیہ کردار کو ادا کیا۔ اس کے علاوہ شوبھا کھوٹے، لیلا مشرا اور سلبھا دیشپانڈے (چھوٹی چھوٹی باتیں ) کے نام مزاحیہ اداکارائوں میں لئے جا سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: این چندرا نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنا کر شہرت پائی

اسی طرح بعد کے برسوں میں قادر خان نے بھی کامیڈی پیش کرنے کی کوشش کی ہے، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ناظرین کے مزاحیہ احساسات کو سب سے زیادہ قادر خان ہی نے برباد کیا ہے۔ انہوں نے سب سے بڑا فائدہ تو اپنے قلم کار ہونے کا اٹھایا اور اپنے ہی لکھے ہوئے مزاحیہ کرداروں کو اتنے بھونڈے طریقے اورذو معنی انداز سے پیش کیا کہ جس فلم میں شکتی اور قادر خان ساتھ ساتھ رہے، انہیں خاندان کے افرادکے ساتھ دیکھنا مشکل ہو گیا۔ 
اسی کے ساتھ فلمی دنیا میں مزاحیہ اداکاروں کی جوڑی بنانے کا فیشن بھی چل پڑا۔ ’وکٹوریہ۲۰۳ ‘کے بعد ’ہمت والا‘ سے تو یہ فیشن خوب چلا۔ قادر خان اور شکتی کپور کے علاوہ امجد خان اور گلشن گروور، قادر خان و جانی لیور، امریش پوری، سداشِو امراپورکر، بھوشن تواری وغیرہ کی جوڑیاں خوب بنیں۔ فلم ہم میں انوپم کھیر اور انو کپور کی جوڑی بنی، لیکن ان سبھی جوڑیوں نے کوئی ایک بھی فلم ایسی نہیں دی جس کیلئے انہیں یاد کیا جائے جیسا کہ ہم پُرانی جوڑی جیون اور کنہیا لال کو کئی فلموں کیلئے آج بھی یاد کرتے ہیں۔ 
نصیر الدین شاہ نے جانے بھی دو یارو، ہیرو ہیرا لال، اور تری دیو میں کامیڈی کرکے اپنی مخصوص امیج کو توڑنے کی کوشش کی ہے۔ پُرانی فلموں میں بھی کئی چوٹی کے اداکاروں نے کامیڈی رول کئے ہیں۔ آزاد، کوہ نور، رام اور شیام، گنگا جمنا، گوپی اور بیراگ میں دلیپ کمار نے بھی اچھی کامیڈی کی ہے۔ راج کپور نے شری ۴۲۰، عاشق، چھلیا، میرا نام جوکر، اور خان دوست میں مزاحیہ سین کئے ہیں۔ اسی طرح کمل ہاسن پُشپک، اپّو راجا، ساگر اور میئر صاحب میں کامیڈی کے خوبصورت نمونے پیش کئے ہیں۔ 
مرکزی کردار کے ساتھ مزاحیہ اداکاری
فلم کے ہیرو کے ذریعہ کامیڈی کرنے کا اعزاز امیتابھ بچن اور  دھرمیندر کو دیا جا سکتا ہے۔ مقدر کا سکندر، امر اکبر انتھونی، چپکے چپکے، لاوارث، ڈان، دیش پریمی، ضمیر، شرابی، قلی، سہاگ، جادوگر، طوفان، میں آزاد ہوں، شہنشاہ اور ہم میں امیتابھ نے ہیرو کے ساتھ ہی کامیڈی بھی کی ہے۔ ان فلموں میں انہیں صرف اسلئے پسند کیا گیا کیونکہ ناظرین کے سر پر ان کا جادو چڑھا ہوا تھا۔ بعد میں مسٹر انڈیا، رام لکھن، پرندہ اور جمائی راجا جیسی فلموں میں انل کپور نے بھی مزاحیہ اداکاری کی۔ ونود مہرا کی فلم گرودیو میں رشی کپور کا کردار بھی کچھ ایسا ہی تھا۔ سنجیو کمار نے نیا دن نئی رات، یہی ہے زندگی، منورنجن، ارجن پنڈت، سورگ نرک اور انگورمیں اچھے مزاحیہ کردار ادا کئے تھے۔ دھرمیندر نے بھی کئی فلموں میں مزاحیہ کردار ادا کئے لیکن شعلے اورچپکے چپکے کے علاوہ کسی اور فلم میں متاثر نہیں کر سکے۔ 
اچھے مزاحیہ اداکاروں کی کمی ہر دور میں رہی
ہندوستانی فلموں کی تاریخ میں ۱۰۰؍ فلمیں بھی ایسی نہیں ملیں گی جن کا مرکزی کردار مزاح کو ذہن میں رکھ کر لکھا گیا ہو، اس تعلق سےجو چند فلمیں یاد آتی ہیں، ان میں جھمرو، البیلا، بھاگم بھاگ، چلتی کا نام گاڑی، بڑھتی کا نام داڑھی، جانی واکر، پڑوسن، جوہر محمود اِن گوا، بومبے ٹو گوا، ہم سب چور ہیں، نس بندی، فائیو رائفلز، چھوٹی سی بات، چشم بدور، انگور، کھٹا میٹھا، چپکے چپکے، وکٹوریہ ۲۰۳، سورگ نرک، ارجن پنڈت، نیا دن نئی رات، یہ زندگی ہے، کبوتر، پشپک، پروفیسر پیارے لال، رفو چکر، نوکر بیوی کا، بیوی او بیوی، اپو راجا، میئر صاحب، شوقین، مسٹر اینڈ مسز ۵۵، خوبصورت، قسمت، جانے بھی دو یارو، گول مال، داماد اور میری بیوی کی شادی وغیرہ ہیں۔ دو چار فلمیں اور بھی ہوسکتی ہیں۔ اس طرح دیکھا جائے تو اچھے مزاحیہ اداکاروں کی کمی بنی رہی۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK