Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دلیپ کمار صاحب کی حیثیت اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ جیسی تھی‘‘

Updated: April 05, 2026, 1:48 PM IST | Abdul Karim Qasim Ali | Mumbai

فلم، ویب سیریز اور تھیٹر اداکار سنبھاجی سسانے کا کہنا ہے کہ جھوپڑپٹی کی ایک ناٹک منڈلی سے میں نے اپنی اداکاری کے سفر کا آغاز کیا تھا اور آج مراٹھی فلم انڈسٹری کا ایک نمایاں چہرہ بن گیا ہوں۔

Sanbhaji Sasane. Photo: INN
سنبھاجی سسانے۔ تصویر: آئی این این

سنبھاجی سسانے زیرو سے ہیرو بننے کی ایک اچھی مثال ہیں۔ وہ پونے کی جھوپڑپٹی سے ترقی کرتے ہوئے ممبئی کی فلم انڈسٹری تک پہنچے ہیں اور ان کی ترقی کا سفر ہنوز جاری ہے۔ سنبھاجی سسانے کا ایکٹر بننے کا سفر بھی دلچسپ ہے۔ انہوں نے جدوجہد کرتے ہوئے مراٹھی فلم انڈسٹری میں شناخت قائم کرلی ہے۔ انہوں نے مراٹھی اور ہندی تھیٹرشوز میں بیک اسٹیج اور آن اسٹیج کام کیاہے۔ وہ ایک اچھے تھیٹرآرٹسٹ ہیں۔ انہوں نے ’بی ای روجگار‘ نامی مراٹھی ویب سیریز میں بھی اہم رول نبھایا ہے۔ اس سال ان کی مراٹھی فلم ’روباب ‘ ریلیز ہوئی ہے۔ اسی طرح ۲۰۱۸ء میں انہوںنےفلم ’وغیرہ ‘، ۲۰۱۹ء میں ’لال پتی ‘ اور’دادا صاحب ‘ میں بھی اہم رول نبھائے تھے۔ انہوںنے ۲۰۱۷ء میں ہندی فلم ’لَو اینڈ شکلا ‘ میں بھی کام کیا تھا۔ انہوں نے پونے کے کئی اہم تھیٹر گروپس کے ساتھ کام کیاہے۔ نمائندہ انقلاب نےسنبھاجی سسانے سے گفتگو کی جسے یہاں پیش کیاجارہا ہے:

 آپ کی اداکاری کی شروعات کیسے ہوئی؟

ج: میں اگر کہوں کہ مجھے بچپن ہی سے اداکار بننے کا شوق تھا، تو یہ جھوٹ ہوگا۔ میں پونے سے تعلق رکھتا ہوں اور بچپن میں میری پرورش جھوپڑپٹی کے ماحول ہی میں ہوئی تھی۔ میں۵؍بہنوں کا اکلوتابھائی تھا۔ ہمارے گھر میں مالی تنگی تھی۔ میرے والد مزدور تھے اور گھر کی ضرورت کے مطابق کماتے تھے۔ مہاراشٹر میں گنیش اُتسو کے دوران ناٹک وغیرہ پیش کیا جاتاہے۔ اسی طرح کے گنپتی اُتسو میں ہماری ناٹک منڈلی شوز پیش کیا کرتی تھی۔ ایک مرتبہ یہ ناٹک ایک شخص کو بہت پسند آیا۔ اس نے مجھ سے رابطہ کیا اور کہا کہ میں شراب بندی کے موـضوع پر ایک نکڑ ناٹک پیش کروں۔ ان کا کہا مان کر میں نے نکڑ ناٹک کیا۔ میں اپنی ناٹک منڈلی کا صدر تھا اسلئے مرکزی کردار میں ہی ادا کرتا تھا۔ اسی طرح نکڑ ناٹکوں کے ذریعہ میری رسائی پونے کے تھیٹرشوز تک ہوئی، لیکن اسٹیج شوز میں میں بیک اسٹیج کام کیا کرتا تھا۔ اس دوران مجھے اسٹیج شوز کا اچھا تجربہ حاصل ہوگیا۔ وہیں تھیٹرس کے ایک صاحب نے مجھے ممبئی میں جاکر اسٹیج شوزکرنے کی صلاح دی اورکہاکہ وہ مجھے آن اسٹیج کام کرنے کا موقع ملے گا۔ ان کے مشورے پر میں ممبئی آگیاجہاں مجھے بیک اسٹیج اور آن اسٹیج کام ملنا شروع ہوگیا اور پھر ٹی وی اور فلم تک پہنچنے کا راستہ بھی ہموار ہوگیا۔

یہ بھی پڑھئے: این چندرا نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنا کر شہرت پائی

کیا اداکاری میں آپ کا کوئی استاد بھی ہے؟

ج:میں اپنا استاد اسی شخص کو تسلیم کرتا ہوں جس نے مجھے نشہ بندی کے تعلق سے نکڑ ناٹک کا مشورہ دیا تھا۔ میں اس شخص کانام بھول گیا ہوں۔ وہ۳؍ بار ہی ہمارے ساتھ رہے، اس کے بعد کہاں چلے گئے پتہ نہیں، میں نے انہیں تلاش کرنے کی پوری کوشش کی لیکن ناکام رہا۔ میں جھوپڑپٹی میں رہنے والوں کی طرح غلط راہ پر جانے والا تھا لیکن اس شخص کی وجہ سے میں نے صحیح راہ لی اور آج مراٹھی فلم انڈسٹری میں کام کررہا ہوں۔ میں اس شخص کو ہی اپنا استاد مانتا ہوں جس نے مجھے غلط راہ سے صحیح راہ دکھائی اور میری زندگی کو ایک اچھا مقصد دیا۔

 خود کو ثابت کرنے کیلئے آپ کو کتنی جدوجہد کرنی پڑی؟

ج: جیسا کہ میں نے بتایا کہ میں جھوپٹرپٹی اور لوور مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھتا ہوںتو جدوجہد میری قسمت میں تھی۔ انڈسٹری میں رہنمائی کیلئے کوئی شخص نہیں تھا۔ ایسے میں رو ل اور کام تلاش میں الگ الگ پروڈکشن ہاؤس کے دروازوں پر جانا پڑتا تھا۔ اگر کوئی انکار کردے تو اپنے غم کو کم کرنے کیلئے کوئی کندھا بھی نہیں تھا، لیکن ہمت اور حوصلہ کی وجہ سے میں انڈسٹری میں خودکو قائم کرنے میں کامیاب رہا۔ میں اپنےہدف کو حاصل کرنے کیلئے پُر عزم تھااسلئے آج آپ کے ساتھ بات کر رہا ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’رامائن‘‘ ٹیزر پر نقل کے الزامات، ہالی ووڈ مناظر سے مماثلت، تنقیدیں

کیا آپ نے مراٹھی شوز یا فلم ہی سے اپنے کریئرکے آغاز کا منصوبہ بنایا تھا؟

ج:ایساکچھ نہیں ہے، مجھے پہلا موقع مراٹھی سے نہیں ملا تھا بلکہ میں نے شروعات ایک ہندی فلم سے کی تھی۔ میں نے’لَو اینڈ شکلا ‘ میں کام کیا تھا جوکہ ہندی فلم تھی۔ میری والدہ تمل ناڈو سے تعلق رکھتی ہیں جبکہ میرے والد کاتعلق شمالی ہند سے ہے اورمجھے تمل زبان بھی آتی ہے۔ اس لحاظ سے زبان میرے لئے کوئی رکاوٹ نہیں ہے بلکہ میں ہر زبان کی انڈسٹری میں کام کرسکتا ہوں۔ جب میں ممبئی آیا تھا تب میں ہندی زبان کے تھیٹرشوز کیا کرتا تھا۔ میں نے کوئی منصوبہ بندی نہیں کی تھی کہ میں اس زبان ہی سے شروعات کروں گا۔ بہرحال جس زبان میں مجھے کام ملا میں اس میں آگے بڑھتا گیا۔

مراٹھی فلم انڈسٹری میں کتنی تبدیلی آرہی ہے؟ 

ج:مراٹھی فلم انڈسٹری میں بھی بہت ترقی ہورہی ہے اور بڑے بڑے پروڈکشن ہاؤس یہاں فلم بنانے کیلئے سرمایہ کاری کررہے ہیں۔ اس میں جیو اسٹیوڈیوز بھی شامل ہے۔ اس کے ساتھ ہی بڑے بڑے چینلز پر اچھے شوز پیش کئے جارہے ہیں۔ مراٹھی انڈسٹری میں بھی وقت کے ساتھ تبدیلیاں آرہی ہیں۔ یہ انڈسٹریبھی نئی نئی تکنیک سے ہم آہنگ ہورہی ہے۔ دادا صاحب پھالکے نے ہی ہندوستان میں فلموں کی بنیاد ڈالی تھی جوکہ مراٹھی تھے۔ مراٹھی انڈسٹری میں اچھے اداکار ہیں جو اپنی محنت اور لگن سے اس کی خدمت کررہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’مصاحبین کا کلچر‘‘ نشانے پر،پریہ درشن نے کہا اسرانی کو ان سے کم معاوضہ ملتا تھا

کیا آپ او ٹی ٹی پر بھی قسمت آزما رہے ہیں ؟

ج: میں نے مراٹھی کی ایک ویب سیریز میں کام کیا تھا جس کا نام ’بی ای بیروجگار‘‘ تھا۔ اس سیریز میں سہی تمہانکر نے مرکزی کردار ادا کیا تھا اور میں نے پاپٹریا نامی رول نبھایا تھا۔ اس ویب سیریز کو بہت پسند کیا گیا تھا اور دیگر اداکاروں کے ساتھ میرے کردار کی بھی ناقدین نے پزیرائی کی تھی۔ کورونا کے دوران او ٹی ٹی کا استعمال بڑے پیمانے پر کیا گیا تھا۔ تو یہ ویب سیریز اسی دور کی ہے۔ جس طرح ہندی میں ویب سیریز بن رہی ہیں، اسی طرح مراٹھی انڈسٹری بھی اچھا کام ہورہاہے۔ مراٹھی زبان میں بھی مختلف موضوعات پر ویب سیریز بنائی جارہی ہیں، جس کے ذریعہ نوجوان اداکاروں کواچھے مواقع مل رہے ہیں۔ میرے خیال میں نوجوان اداکاروں کیلئے اپنی صلاحیتوں کو پیش کرنے کیلئے ویب سیریزایک اچھا ذریعہ ہے۔

اداکاری کے ساتھ اور کیا کرنا پسند ہے؟

ج:مجھے سیروسیاحت کا بہت شوق ہے۔ میں مہاراشٹر اور ہندوستان کےمختلف علاقوں کی سیر کرتا رہتا ہوں۔ اس کے ساتھ ہی میں جس جگہ جاتا ہوں وہاں کے مشہور اور پسندیدہ پکوان کا ذائقہ لینا نہیں بھولتا ہوں۔ حالانکہ میں کوئی ’وی لاگ‘ وغیرہ نہیں بناتا۔ اگر بناؤں تو میرے مداح اسے بھی بہت پسند کریں گے۔ مجھے پڑھنے کا بہت شوق ہے۔ میں مختلف موضوعات کی کتابیں پڑھتا ہوں۔ تھیٹر کا آدمی ہوں اسلئے پڑھنا لکھنا مجھے بے حد پسندہے۔ مجھے فلمیں دیکھنے کا بہت شو ق ہے اور میں الگ الگ فلمیں دیکھتا رہتا ہوں۔

یہ بھی پڑھئے: مَیں نہیں چاہتا کہ ایشوریہ کبھی اداکاری کرنا ترک کرے: ابھیشیک بچن

آپ کا پسندیدہ اداکار کون ہے؟

ج: میں نے دلیپ کمار صاحب کو بہت دیکھا ہے۔ میں ان کے کام سے بہت متاثر رہا ہوں اور ان کی اداکاری کے بارے میں کہنا مطلب چھوٹامنہ بڑی بات ہوگی۔ دلیپ کمار صاحب میرے نزدیک اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ ہیں۔ انہوں نے جو کام کیا ہے میں نے وہ سبھی دیکھا ہے۔ مجھے ان کی فلم ’نیا دور‘ سب سے زیادہ پسند ہے۔ انہوں نے اس فلم میں اداکاری کو انتہائی درجہ پر پہنچا دیا تھا۔ اس کے ساتھ ہی ان کی فلم ’ودھاتا‘، ’سوداگر‘،’رام اور شیام‘، ’مغل اعظم‘، ان کی ہر فلم میں وہ کچھ نیا کرجاتے تھے۔ ان کے علاوہ میں کمل ہاسن کو بھی پسند کرتا ہوں۔ کمل ہاسن وہ اداکار ہیںجنہوں نے ایکٹنگ کو بلندی پر پہنچا دیا ہے۔ جب بھی ان کی فلم ’صدمہ‘ دیکھتا ہوں تو میری آنکھیں نم ہوجاتی ہیں۔ میں ان کی دیگر فلموں سے بھی بہت متاثر ہوں۔ میں نے ان کی جنوبی ہندی کی فلمیں بھی دیکھی ہیں۔ حالانکہ کمل ہاسن بھی دلیپ کمار صاحب کے بہت بڑے مداح رہے ہیں۔ بہت سے اداکار مکالمے بہتر انداز میں اداکرتے ہیں لیکن دلیپ صاحب اور کمل ہاسن شائقین کی آنکھوں سے سیدھے دل میں اُتر جاتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK