Inquilab Logo Happiest Places to Work

پروین بابی کو بالی ووڈ کی پہلی خاتون سپر اسٹار اور ’ٹرینڈ سیٹر‘ قرار دیا جاتا ہے

Updated: April 05, 2026, 1:58 PM IST | Mumbai

اداکارہ پروین بابی۸۰۔۷۰ء کی دہائی میں ہندی سنیما کی ایک بااثر اداکارہ کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ وہ ایک دلکش شخصیت کی مالک تھیں۔

Parveen Babi, a famous actress of her time. Photo: INN
اپنے دور کی مشہور اداکارہ پروین بابی۔ تصویر: آئی این این

اداکارہ پروین بابی۸۰۔۷۰ء کی دہائی میں ہندی سنیما کی ایک بااثر اداکارہ کے طور پر یاد کی جاتی ہیں۔ وہ ایک دلکش شخصیت کی مالک تھیں۔انہوں نے جدید انداز اور اسکرین امیج میں دونوں نئے رجحانات متعارف کرائے۔ ان کی پیدائش۴؍اپریل۱۹۴۹ء کو جوناگڑھ، گجرات کے ایک مسلم خاندان میں ہوئی تھی۔ ان کی ابتدائی تعلیم ماؤنٹ کارمل ہائی اسکول، احمد آباد میں ہوئی جبکہ بعد میں انہوں نے سینٹ زیویئرس کالج، احمد آباد سے انگریزی ادب میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کی۔ ان کے والد ولی محمد بابی جوناگڑھ کے نواب جمال بختے بابی کے دیوان (انتظامی منتظم) تھے۔ ان کے اجداد گجرات کے پٹھان تھے اور بابی خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھیں۔ دس برس کی عمر میں ہی پروین کے سر سے ان کے والد کا سایہ اٹھ گیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ’’دلیپ کمار صاحب کی حیثیت اداکاری کے ایک انسٹی ٹیوٹ جیسی تھی‘‘

پروین کا ماڈلنگ کریئر۱۹۷۲ء میں شروع ہوا اور جلد ہی انہیں کرکٹر سلیم درانی کے ساتھ چرتر(۱۹۷۳ء) نامی فلم میں کام کرنے کا موقع ملا۔ اگرچہ یہ فلم فلاپ ثابت ہوئی لیکن انہیں فلموں کے آفرس آنے لگے۔ ان کی پہلی بڑی ہٹ فلم امیتابھ بچن کے ساتھ مجبور (۱۹۷۴ء) تھی۔

زینت امان کے ساتھ ساتھ، پروین بابی نے ہندوستانی فلمی ہیروئن کی شبیہ بدلنے میں اہم رول ادا کیا۔ پروین بابی بالی ووڈ کی ایسی پہلی خاتون اسٹار تھیں جو۱۹۷۶ء میں ٹائم میگزین کے سرورق پر نظر آئیں۔ انہیں بالی ووڈ کی پہلی فی میل سپر اسٹار بھی کہا جاتا ہے۔ انہیں ایک فیشن آئیکون کے طور پر بھی جانا جاتا تھا۔ جب زیادہ تر اداکارائیں ساڑی میں نظر آتی تھیں، وہ فلموں میں ویسٹرن لباس میں دکھائی دیتی تھیں، اسی وجہ سے انہیں ٹرینڈ سیٹر بھی کہا جاتا تھا جس کی وجہ سے وہ اپنے زمانے کے نوجوانوں کی پسندیدہ اداکاراؤں میں شمار کی جاتی تھیں۔ مشہور ڈیزائنر منیش ملہوترا کے مطابق ’’پروین بابی نے فیشن میں جدیدیت کو متعارف کرایا۔ پروین بابی اپنے کریئر کے حوالے سے بہت محتاط تھیں۔‘‘کبیر بیدی کی اہلیہ پروتیما بیدی نے پروین بابی کی زندگی پر ایک کتاب لکھی۔ وہ خود مختار زندگی گزارتی تھیں اور کبھی کسی کے معاملات میں مداخلت نہیں کرتی تھیں۔انہوں نے خود کو اس دور کی دیگر اداکاراؤں سے الگ پہچان دی۔ 

یہ بھی پڑھئے: ’’رامائن‘‘ ٹیزر پر نقل کے الزامات، ہالی ووڈ مناظر سے مماثلت، تنقیدیں

پروین بابی۱۹۷۶ء سے۱۹۸۰ء کے درمیان رینا رائے کے ساتھ دوسری سب سے زیادہ معاوضہ لینے والی بالی ووڈ اداکارہ تھیں۔ انہیں ہیما مالنی، ریکھا، زینت امان، جیا بہادری، رینا رائے اور راکھی کے ساتھ اپنے دور کی کامیاب ترین اداکاراؤں میں شمار کیا جاتا تھا۔ ان کی مقبولیت اس قدر تھی کہ کہا جاتا ہے پروڈیوسرز انہیں اپنی فلموں میں سائن کرنے کیلئے ان کے دروازے پر قطار لگائے رہتے تھے جس کی وجہ سے وہ انڈسٹری کی سب سے زیادہ ڈیمانڈ میں رہنے والی اداکاراؤں میں شامل ہو گئیں۔

انہوں نے امیتابھ بچن کے ساتھ۸؍ فلموں میں اداکاری کی، جو ہٹ یا سپر ہٹ ثابت ہوئیں۔ ششی کپور کے ساتھ انہوں نے سہاگ ، کالا پتھر اور نمک حلال میں کام کیا۔ دھرمیندر کے ساتھ جانی دوست اور فیروز خان کے ساتھ کالا سونا میں بھی وہ نظر آئیں۔

اپنے کریئر کے آخری دور میں انہوں نے مارک زبیر کے ساتھ فلم میں ’دوسری عورت‘ کا کردار ادا کیا جبکہ ونود پانڈے کے ساتھ نزدیکیاں جیسی لیک سے ہٹ کر بننے والی فلموں میں بھی کام کیا۔اکثر ان کا موازنہ اپنی ہم عصر زینت امان کے ساتھ ایک بے باک اور گلیمر ہیروئن کے طور پر کیا جاتا تھا۔ فلم دیوار، شان اور نمک حلال جیسی فلموں میں اگرچہ ان کی اسکرین موجودگی نسبتاً کم تھی، لیکن پروین بابی نے اپنے کرداروں اور گیتوں کے ذریعے ایک خاص کشش پیدا کی۔ فلم کرانتی میں، اگرچہ مرکزی ہیروئن ہیما مالنی تھیں، مگر پروین بابی نے معاون کردار میں ہوتے ہوئے بھی ہیروئن سے بڑھ کر شہرت حاصل کی۔

یہ بھی پڑھئے: این چندرا نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنا کر شہرت پائی

آخری دنوں میںوہ ذہنی صحت کے مسائل، خصوصاً پیرا نوئڈ اسکیزو فرینیا سے بھی دوچار ہوئیں، جس کے باعث ان کی ذاتی زندگی مشکلات کا شکار رہی۔ حالانکہ انہوں نے ہمیشہ اس کی تردید کی۔ و ہ اپنے ذہنی مسائل کے سبب طویل عرصے تک تنہائی میں رہیں۔ جب ان کے فلیٹ کے دروازے پر تین دن تک دودھ اور اخبارات پڑے رہے تو ان کی رہائشی سوسائٹی کے سیکریٹری نے پولیس کو اطلاع دی۔ اس کے بعد۲۲؍ جنوری ۲۰۰۵ءکو پولیس نے ممبئی میں ان کے اپارٹمنٹ سے ان کی موت کی خبر دی، جس سے پورے ہندوستان میں سنسنی پھیل گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK