Updated: September 24, 2026, 4:10 PM IST
| Mumbai
ڈانسر سے اداکار بننے والے راگھو جوئل نے اپنے کریئر میں کئی مختلف مراحل دیکھے ہیں۔ ڈانس ریئلیٹی شو سے شناخت بنانے کے بعد انہوں نے ٹی وی میزبان کے طور پر بھی اپنی الگ جگہ بنائی اور پھر فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اب راگھو اپنے کریئر کا ایک اور نیا باب شروع کرنے جا رہے ہیں۔
راگھو جوئل۔ تصویر:آئی این این
ڈانسر سے اداکار بننے والے راگھو جوئل نے اپنے کریئر میں کئی مختلف مراحل دیکھے ہیں۔ ڈانس ریئلیٹی شو سے شناخت بنانے کے بعد انہوں نے ٹی وی میزبان کے طور پر بھی اپنی الگ جگہ بنائی اور پھر فلمی دنیا میں قدم رکھا۔ اب راگھو اپنے کریئر کا ایک اور نیا باب شروع کرنے جا رہے ہیں۔ وہ پہلی مرتبہ تیلگو سنیما میں نظر آئیں گے اور اس سفر نے انہیں کام کرنے کے ایک نئے انداز کو سمجھنے کا موقع دیا ہے۔
راگھو کو تیلگو فلم انڈسٹری کا کام کرنے کا طریقہ کافی پسند آیا۔ وہ جلد ہی نانی کی اداکاری والی فلم ’’دی پیراڈائز‘‘ (The Paradise) میں نظر آئیں گے۔ فلم کی ہدایت کاری شری کانت اوڈیلا کر رہے ہیں، جبکہ راگھو اس میں وکرم ملک کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ تیلگوانڈسٹری میں پہلی بار کام کرنے کے تجربے کے بارے میں بات کرتے ہوئے راگھو نے کہا کہ انہوں نے وہاں سنیما کے لیے ایک الگ ہی جنون دیکھا۔ ان کے مطابق وہاں لوگ صرف کسی پروجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے کام نہیں کرتے بلکہ سنیما کو ایک جشن کے طور پر دیکھتے اور مناتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:باؤنس والی پچوں پر ویبھو کی بلے بازی دیکھنا چاہوں گا: راب والٹر
راگھو نے بتایا کہ اس فلم کے دوران انہیں ایک ایسی بات محسوس ہوئی جسے وہ اپنے کام کا حصہ بھی بنانا چاہتے ہیں۔ ان کے مطابق تیلگو انڈسٹری میں سنیما کی بہت عزت کی جاتی ہے اور خاص طور پر فلم کے ہر ٹیکنیشن کو ملنے والے احترام نے انہیں جذباتی کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایک موقع پر ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے، جب انہوں نے دیکھا کہ فلم کے ساؤنڈ انجینئر کو بھی اتنی ہی اہمیت دی جا رہی ہے جتنی کسی بڑے اداکار کو۔ راگھو کے مطابق وہاں کے ناظرین بھی فلم سے وابستہ لوگوں کو پہچانتے ہیں اور انہیں معلوم ہوتا ہے کہ ساؤنڈ انجینئر کون ہے۔ ان کے لیے یہ تجربہ اس لیے خاص تھا کیونکہ اس سے انہیں یہ سمجھنے میں مدد ملی کہ کوئی فلم صرف ہیرو یا ہیروئن کی وجہ سے نہیں بنتی، بلکہ اس کے پیچھے کام کرنے والے ہر شخص کا کردار اہم ہوتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تیلگو انڈسٹری میں لوگ سیٹ پر صرف اپنا کام ختم کرنے کے ارادے سے نہیں آتے بلکہ وہ سنیما کو سیلیبریٹ کرنے کے لیے آتے ہیں۔ راگھو نے کہا کہ یہی وہ سوچ ہے جو انہوں نے تیلگو انڈسٹری سے سیکھی ہے اور اب وہ چاہتے ہیں کہ ان کے اپنے کام میں بھی یہ جذبہ نظر آئے۔
یہ بھی پڑھئے:نیویارک کے میئر ظہران ممدانی پر نیتن یاہو کی ویڈیو، امریکی سینیٹر کی شدید تنقید
راگھو نے فلم کے ہدایت کار شری کانت اوڈیلا کی بھی تعریف کی اور بتایا کہ وہ انہیں محبت سے ’شری کانت دادا‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔ راگھو کے مطابق شری کانت کا ان پر گہرا اثر پڑا ہے۔ ’’دی پیراڈائز‘‘ کے ذریعے وہ پہلی مرتبہ تیلگو فلموں میں اپنی شناخت بنانے کی کوشش کر رہے ہیں اور ہدایت کار کے ساتھ کام کرنا ان کے لیے ایک خاص تجربہ رہا۔’’دی پیراڈائز‘‘ میں راگھو جوئل اور نانی کے علاوہ موہن بابو، سونالی کلکرنی اور سمپورنیش بابو بھی اہم کرداروں میں نظر آئیں گے۔ فلم ۲۴؍ ستمبر کو دنیا بھر کے سنیما گھروں میں ریلیز ہونے والی ہے۔ راگھو کے لیے یہ فلم نہ صرف تیلگو سنیما میں ان کے آغاز کی علامت ہے بلکہ اس انڈسٹری کے کام کرنے کے انداز، ٹیکنیشنز کے احترام اور سنیما سے وابستہ ہر فرد کی اہمیت کو سمجھنے کا ایک یادگار تجربہ بھی بن گئی ہے۔