• Tue, 22 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی میں ’پوسٹر وار‘، فرقہ پرستوں کی اوچھی حرکت، سماجوادی کو نشانہ بنایا

Updated: September 22, 2026, 11:14 AM IST | Hamidullah Siddiqui | Luckhnow

’ون ڈسٹرکٹ ون مافیا‘ کے عنوان سے جگہ جگہ پوسٹر لگائے گئے، عتیق احمداور مختار انصاری کے ساتھ اعظم خان کا نام بھی شامل۔

No name is mentioned in this poster, but suspicion points towards the BJP. Picture: INN
اس پوسٹر میں کسی کا نام نہیں ہے لیکن شک کی سوئی بی جے پی کی طرف جاتی ہے۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش اسمبلی انتخابات سے قبل ریاست میں اوچھی حرکتیں بھی شروع ہوگئی ہیں۔ لکھنؤسمیت کئی اضلاع میں سماجوادی پارٹی اور پارٹی صدر اکھلیش یادو کو نشانہ بناتے ہوئے پوسٹر لگائے گئے ہیں۔ ان پوسٹروں میں مبینہ مافیا افراد کی تصاویر کے ساتھ’اکھلیش کے مافیا، مافیا کے اکھلیش‘ اور’اعظم، عتیق اور مختار، یہی چلاتےتھےسرکار‘جیسے نعرے لکھے گئے ہیں۔

لکھنؤ کے علاوہ اناؤ، اٹاوہ، سیتاپور، بریلی، میرٹھ، اعظم گڑھ اور غازی پور سمیت کئی اضلاع میں بھی ایسے پوسٹر لگائے جانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ پوسٹروں کے ذریعے ایس پی کے سابق دورِ حکومت میں قانون و انتظام اور جرائم سے متعلق من گھڑت بیانیے کو  انتخابی بحث میں شامل کرکے پولرائزیشن کی کوشش کی گئی ہے۔ پوسٹروں میں ’ون ڈسٹرکٹ، ون مافیا‘ کا نعرہ استعمال کیا گیا ہے، جسے حکومت کی ’ون ڈسٹرکٹ، ون پروڈکٹ‘ اسکیم کی طرز پر پیش کیا گیا ہے۔ پوسٹروں میں اتر پردیش کو اودھ، روہیل کھنڈ، برج، بندیل کھنڈ، مشرقی اتر پردیش اور مغربی اتر پردیش جیسے علاقوں میں تقسیم کرکے متعدد نام درج کئے گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: ’’میں ایسے کردار نبھانا چاہتی ہوں جن میں کچھ نیا کرنے کا موقع ملے ‘‘

اودھ سے متعلق پوسٹر میں عتیق احمد، اعظم خان، مختار انصاری، گلشن یادو، مترسین یادو اور رضوان ظہیر سمیت کئی نام درج کئےگئے ہیں۔ بعض پوسٹروں میں سابق حکومت کے دوران جرائم سے متعلق مختلف الزامات بھی تحریر کئے گئے ہیں۔ روہیل کھنڈ کے پوسٹر میں ویرپال سنگھ یادو، اعظم خاں اور سرویش یادو کے نام شامل کئے گئے ہیں جبکہ برج کے علاقے کیلئے نواب سنگھ یادو، رام وِرکش یادو، رامیشور سنگھ یادو اور جوگیشور یادو کے نام لکھے گئے ہیں۔ بندیل کھنڈ کے پوسٹر میں عرفان سولنکی، دیپ نارائن سنگھ یادو، اعظم خان، مختار انصاری اور چندرپال سنگھ یادو کا ذکر ہے۔ مشرقی اتر پردیش کے پوسٹر میں عتیق احمد، مختار انصاری، اوما کانت یادو، رماکانت یادو اور منا بجرنگی کے نام شامل کئے گئے ہیں۔ مغربی اتر پردیش کے پوسٹر میں اعظم خان، یعقوب قریشی، انل دُجانا، ڈی پی یادو، سنجیو جیوا اورمقیم کالا سمیت کئی نام درج ہیں۔ بعض پوسٹروں میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد کو ایس پی حکومت کے دوران سیاسی سرپرستی حاصل تھی۔

ابھی تک ان پوسٹروں کو لگانے والے شخص یا تنظیم کی باضابطہ طور پر شناخت سامنے نہیں آئی ہے۔ اسلئے پوسٹروں میں درج الزامات اور سیاسی دعووں کو ان پوسٹروں کے ذریعے پیش کیا گیا سیاسی موقف ہی سمجھا جا رہا ہے، نہ کہ آزادانہ طور پر ثابت شدہ حقائق۔ واضح رہے کہ اتر پردیش میں قانون و انتظام اور جرائم کا معاملہ پہلے بھی انتخابی سیاست میں اہم موضوع رہا ہے۔ تازہ پوسٹر وار کے ذریعے اسی معاملے کو ایک بار پھر انتخابی بحث میں لانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔ انتخابات قریب آنے کے ساتھ ریاست میں سیاسی بیان بازی اور ایک دوسرے پر الزامات کا سلسلہ مزید تیز ہونے کا امکان ہے۔ تاہم، ان پوسٹروں کے اصل ذمہ داروں اور ان کے سیاسی تعلق کے بارے میں سرکاری طور پر حتمی معلومات سامنے آنا ابھی باقی ہے لیکن شک کی سوئی حکمراں جماعت کی طرف ضرورہے کیونکہ اسی کا بیانیہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK