چیک باؤنس کیس میں سزا پانے کے بعد بالی ووڈ اداکار راج پال یادو نے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کا آغاز کر دیا، جس پر اداکار سونو سود نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے نہ صرف مدد کی پیشکش کی بلکہ فلم انڈسٹری سے بھی یکجہتی کی اپیل کی۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 6:09 PM IST | Mumbai
چیک باؤنس کیس میں سزا پانے کے بعد بالی ووڈ اداکار راج پال یادو نے دہلی کی تہاڑ جیل میں قید کا آغاز کر دیا، جس پر اداکار سونو سود نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے نہ صرف مدد کی پیشکش کی بلکہ فلم انڈسٹری سے بھی یکجہتی کی اپیل کی۔
بالی ووڈ کے معروف کامیڈین اور اداکار راج پال یادو نے چیک باؤنس اور قرض سے متعلق ایک پرانے قانونی معاملے میں سزا کے بعد دہلی کی تہاڑ جیل میں اپنی قید کی مدت کا آغاز کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب عدالت نے ان کی جانب سے واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی پر مزید مہلت دینے سے انکار کر دیا، جس کے بعد اداکار نے خود عدالت کے حکم کے تحت خود سپردگی کی۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ تقریباً ایک دہائی پرانا ہے، جس کا تعلق راج پال یادو کی ایک فلمی پروڈکشن کے لیے لیے گئے قرض سے ہے۔ فلم کے تجارتی طور پر ناکام ہونے کے بعد قرض کی واپسی ممکن نہ ہو سکی، جس کے نتیجے میں چیک باؤنس کے مقدمات درج ہوئے۔ عدالت نے اس کیس میں مجموعی واجبات کی ادائیگی کو لازمی قرار دیا تھا، تاہم مالی مشکلات کے باعث اداکار اس پر عمل نہ کر سکے۔
یہ بھی پڑھئے: وشال بھردواج کو ’اَسی‘ کا ٹریلر بے حد پسند آیا، کہا: اسے کہتے ہیں فلمی صحافت
راج پال یادو کے جیل پہنچنے کی خبر سامنے آتے ہی فلم انڈسٹری میں ہلچل مچ گئی۔ اسی دوران بالی ووڈ کے اداکار اور سماجی خدمات کے لیے مشہور سونو سود نے ان کی حمایت کا اعلان کیا۔ سونو سود نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ راج پال یادو ایک باصلاحیت فنکار ہیں جنہوں نے برسوں تک ناظرین کو ہنسایا ہے، اور مشکل وقت میں انہیں تنہا نہیں چھوڑا جانا چاہیے۔ سونو سود نے نہ صرف راج پال یادو کو اپنی آئندہ فلم میں کام دینے کی پیشکش کی بلکہ فلم انڈسٹری کے پروڈیوسرز اور ہدایتکاروں سے بھی اپیل کی کہ وہ انہیں روزگار کے مواقع فراہم کریں۔ ان کے مطابق، کام کے بدلے دیا جانے والا سائننگ اماؤنٹ خیرات نہیں بلکہ فنکار کا حق ہوتا ہے، اور یہی عزت کے ساتھ مدد کرنے کا درست طریقہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب انڈسٹری کا کوئی فرد مشکل میں ہو تو اجتماعی طور پر اس کا ساتھ دینا چاہیے، کیونکہ بالی ووڈ صرف ایک کاروبار نہیں بلکہ ایک خاندان بھی ہے۔ سونو سود کے اس بیان کو فلمی حلقوں میں وسیع پیمانے پر سراہا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نادرہ بالی ووڈ کی بےخوف اور خودمختار کرداروں کی علامت تھیں
سوشل میڈیا پر بھی اس معاملے پر زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا۔ کئی صارفین نے سونو سود کے اقدام کو انسانیت اور بھائی چارے کی مثال قرار دیا، جبکہ متعدد افراد نے سوال اٹھایا کہ ایک طویل عرصے تک فلموں میں کام کرنے والا اداکار مالی بدحالی کا شکار کیسے ہو جاتا ہے۔ کچھ صارفین نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ فلمی تنظیمیں ایسے فنکاروں کے لیے مستقل فلاحی نظام بنائیں۔ قانونی ماہرین کے مطابق، یہ کیس اس بات کی یاد دہانی ہے کہ مالی معاہدوں اور قانونی ذمہ داریوں سے چشم پوشی ممکن نہیں، چاہے فریق کتنا ہی معروف کیوں نہ ہو۔ ساتھ ہی، یہ واقعہ فلم انڈسٹری میں مالی منصوبہ بندی اور معاونت کے نظام پر بھی سوالات کھڑے کرتا ہے۔ فی الحال راج پال یادو اپنی سزا کاٹ رہے ہیں، تاہم سونو سود کی پیشکش اور بڑھتی ہوئی عوامی حمایت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مشکل وقت میں بھی ان کے لیے امید کے دروازے بند نہیں ہوئے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ آیا فلم انڈسٹری اجتماعی طور پر آگے بڑھ کر اس معاملے میں کوئی عملی قدم اٹھاتی ہے یا نہیں۔