صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے، جبکہ ایران میں عوامی احتجاج اور حکومتی ردعمل جاری ہے۔
EPAPER
Updated: January 12, 2026, 4:29 PM IST | Tehran
صدر ٹرمپ کے مطابق ایران نے مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے، جبکہ ایران میں عوامی احتجاج اور حکومتی ردعمل جاری ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ ایرانی حکام نے ملک کے جوہری پروگرام پر ممکنہ مذاکرات کیلئے امریکہ سے رابطہ کیا ہے، جو بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان سفارتی پیش رفت کا اشارہ ہو سکتا ہے۔ فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام نے ہفتے کے روز مذاکرات کیلئے رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا:’’ایران نے کل مذاکرات کیلئے فون کیا۔ میرا خیال ہے کہ وہ امریکہ کی جانب سے بار بار دباؤ میں آنے سے تھک چکے ہیں۔ ایران مذاکرات کرنا چاہتا ہے۔ ‘‘ ٹرمپ نے کہا کہ ایک ملاقات طے کرنے کا عمل جاری ہے، تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ زمینی صورتحال کے باعث امریکہ کو مذاکرات سے پہلے کارروائی کرنا پڑ سکتی ہے۔
مظاہرین کی بات سننے کو تیار ہیں، امریکہ اور اسرائیل کی حمایت یافتہ فسادیوں سے خبردار: ایران کے صدر پزشکیان
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت مظاہرین کی بات سننے کیلئے’’تیار‘‘ ہے، تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ عوام ’’فسادیوں ‘‘ اور ’’دہشت گرد عناصر‘‘ کو ملک میں تباہی پھیلانے کی اجازت نہ دیں۔ پزشکیان نے اتوار کو سرکاری ٹیلی ویژن پر ایک انٹرویو میں ملک میں جاری بدامنی پر بات کی، جب مظاہرے تیسرے ہفتے میں داخل ہو گئے۔ ایرانی صدر نے سرکاری نشریاتی ادارے IRIB کو بتایا کہ اسرائیل اور امریکہ ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے کے ذمہ دار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’وہی لوگ جنہوں نے جون میں اسرائیل کی۱۲؍ روزہ جنگ کے دوران اس ملک پر حملہ کیا تھا، اب معاشی مسائل کو بنیاد بنا کر ان بدامنیوں کو بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ‘‘انہوں نے کہا: ’’انہوں نے ملک کے اندر اور باہر کچھ لوگوں کو تربیت دی ہے، باہر سے دہشت گرد لائے گئے ہیں۔ انہوں نے رشت شہر میں ایک بازار پر حملہ کیا اور مساجد کو آگ لگائی۔ ‘‘پزشکیان نے کہا کہ حکومت نے دکانداروں کے مسائل سنے ہیں اور انہیں ’’ہر ممکن طریقے سے‘‘حل کیا جائے گا، تاہم، انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ فسادیوں کو ملک میں انتشار پھیلانے نہ دیں۔
ایران میں احتجاج، انٹرنیٹ بلیک آوٹ بدستور جاری، امریکہ کے ’سخت آپشنز‘ پرغور
ایران نے ممکنہ امریکی مداخلت کے خلاف خبردار کیا، جبکہ احتجاجی مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد۵۰۰؍ سے تجاوز کر گئی۔ ایک امریکی نژاد انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق، ایران میں ملک گیر حکومت مخالف مظاہروں کے تیسرے ہفتے میں داخل ہونے کے ساتھ اب تک کم از کم۵۴۴؍ افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ حکام کی جانب سے نافذ کیا گیا مواصلاتی بلیک آؤٹ اب۸۴؍ گھنٹوں سے زائد عرصے سے جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ’’مذاکرات کیلئے رابطہ کیا ہے‘‘، جبکہ ان کی انتظامیہ مداخلت کیلئے ممکنہ فوجی آپشنز پر غور کر رہی ہے۔ ایران کے پارلیمانی اسپیکر نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے فوجی مداخلت کی تو امریکی فوجی اور تجارتی اڈوں کو جوابی کارروائی کے اہداف سمجھا جائے گا۔ مظاہرے ایران کی سرحدوں سے باہر بھی دیکھے جا رہے ہیں۔ لاس اینجلس میں، ایک شخص کو حکومتِ ایران مخالف مظاہرین کے ہجوم میں ٹرک چڑھانے کے بعد حراست میں لیا گیا۔ تہران میں، لندن میں ایک مظاہرین کی جانب سے ایرانی سفارت خانے کا پرچم اتارنے کے بعد برطانوی سفیر کو طلب کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ارجنٹائن نے سفارت خانہ یروشلم منتقل کرنے کے منصوبے روک دیئے
ایران ایک اور دن بھی انٹرنیٹ کے بغیر
سائبر سیکوریٹی واچ ڈاگ نیٹ بلاکس کے مطابق، ایران میں انٹرنیٹ بلیک آؤٹ کم از کم۸۴؍ گھنٹوں سے جاری ہے۔ اس سے قبل، اس گروپ نے کہا تھا کہ بیرونی دنیا سے رابطہ معمول کی سطح کے صرف ایک فیصد تک رہ گیا تھا۔ حکام کی جانب سے ملک بھر میں انٹرنیٹ اور ٹیلی فون لائنوں کی بندش کے باعث زمینی صورتحال کی مکمل تصویر واضح نہیں ہو پا رہی، جس میں حکومت مخالف بڑے پیمانے پر ہونے والے مظاہروں میں جانی نقصان کی اصل تعداد بھی شامل ہے۔
ایران پر ’انتہائی سخت آپشنز‘پر غور : ٹرمپ
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ ایران کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور جاری مظاہروں میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھنے کے تناظر میں ’’انتہائی سخت آپشنز‘‘ پر غور کر رہی ہے۔ ٹرمپ نے اتوار کو ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، جب وہ پام بیچ، فلوریڈا میں واقع اپنے مار-اے-لاگو اسٹیٹ سے واشنگٹن ڈی سی واپس جا رہے تھے، انہوں نے کہا ’’یہ لوگ پرتشدد ہیں اگر آپ انہیں لیڈر کہیں مجھے نہیں معلوم یہ لیڈرہیں بھی یا نہیں، لیکن یہ تشدد کے ذریعے حکمرانی کرتے ہیں۔ ہم اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہے ہیں، فوج اس کا جائزہ لے رہی ہے، اور ہم کچھ انتہائی سخت آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ ہم فیصلہ کریں گے۔ ‘‘واضح رہے کہ ایران دسمبر کے اواخر سے اپنی قومی کرنسی کی شدید قدر میں کمی اور بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال کے خلاف مظاہروں کی لپیٹ میں ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ انہیں ایران سے متعلق ہر گھنٹے کی رپورٹیں موصول ہو رہی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی دھمکیوں پر ایران کا انتباہ، اسرائیل ہائی الرٹ
انٹرنیٹ کی بحالی
ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ بحال کرنے کے حوالے سے ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے بات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ’’وہ اس طرح کے کام میں بہت ماہر ہیں، ان کے پاس ایک بہت اچھی کمپنی ہے۔ ‘‘ ٹرمپ نے رپورٹرز کے سوال کے جواب میں کہا کہ آیا وہ مسک کی کمپنی اسپیس ایکس سے رابطہ کریں گے، جو اسٹارلنک نامی سیٹیلائٹ انٹرنیٹ سروس فراہم کرتی ہے اور ایران میں استعمال ہو چکی ہے۔ مسک اور ٹرمپ کے تعلقات وقتاً فوقتاً بدلتے رہے ہیں۔ مسک نے ٹرمپ کی کامیاب صدارتی مہم کیلئےمالی معاونت کی تھی اور بعد ازاں وفاقی حکومت میں بڑے پیمانے پر کٹوتیوں کی منصوبہ بندی کی۔ گزشتہ سال ٹرمپ کے اہم ٹیکس بل کی مخالفت پر دونوں میں اختلافات سامنے آئے، لیکن اس مہینے مار-اے-لاگو ریزورٹ میں ایک ساتھ عشائیہ کرنے کے بعد دونوں کے تعلقات میں بہتری نظر آتی ہے۔
ایران میں مظاہروں کے دوران اقوام متحدہ کی ’ صبر و تحمل ‘ کی اپیل
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو غطریس نے ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ’’زیادہ سے زیادہ صبر و تحمل‘‘ کا مظاہرہ کریں، اور مظاہرین کے خلاف ’’غیر ضروری یا غیر متناسب‘‘ طاقت کے استعمال سے گریز کریں۔ اتوار کو جاری بیان میں اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفان دوجارک نے کہا، ’’سیکریٹری جنرل ایران کے مختلف علاقوں میں مظاہرین کے خلاف ایرانی حکام کی جانب سے تشدد اور حد سے زیادہ طاقت کے استعمال کی رپورٹس پر شدید صدمے کا شکار ہیں، جن کے نتیجے میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ‘‘ غطریس نے اس بات پر زور دیا کہ تمام ایرانیوں کو بغیر خوف کے پرامن طور پر اپنی ’’شکایات‘‘کے اظہار کا حق حاصل ہونا چاہئے، اور یہ کہ اظہارِ رائے، اجتماع اور پرامن مظاہروں کی آزادی کے حقوق، جو بین الاقوامی قانون میں درج ہیں، کو’’مکمل طور پر تسلیم اور محفوظ‘‘ کیا جانا چا ہئے۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے ملک میں معلومات تک رسائی ممکن بنانے کے اقدامات، بشمول مواصلات کی بحالی، کا بھی مطالبہ کیا۔