• Tue, 03 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

رادھیکا آپٹے پُرتشدد فلموں پر کہا: میرا دماغ اتنے تشدد کو قبول نہیں کر پاتا

Updated: November 03, 2026, 4:09 PM IST | Mumbai

بالی ووڈ کی باصلاحیت اداکارہ رادھیکا آپٹے نے سنیما میں بڑھتے ہوئے تشدد اور مار دھاڑ پر مبنی فلموں کی مقبولیت کے حوالے سے کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی فلمیں دیکھنے سے گریز کرتی ہیں جن میں مسلسل تشدد، مار پیٹ اور خون خرابہ دکھایا جاتا ہے۔

Radhika Apte.Photo:INN
رادھیکا آپٹے۔ تصویر:آئی این این

بالی ووڈ کی باصلاحیت اداکارہ رادھیکا آپٹے نے سنیما میں بڑھتے ہوئے تشدد اور مار دھاڑ پر مبنی فلموں کی مقبولیت کے حوالے سے کھل کر اپنی رائے ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسی فلمیں دیکھنے سے گریز کرتی ہیں جن میں مسلسل تشدد، مار پیٹ اور خون خرابہ دکھایا جاتا ہے، کیونکہ ان کے لیے اس طرح کے مناظر برداشت کرنا مشکل ہے۔ ایک حالیہ انٹرویو میں اداکارہ نے کہا کہ ’’میں ایسی فلمیں نہیں دیکھنا چاہتی جن میں تشدد اور زیادتی دکھائی جاتی ہو، میرا دماغ اسے قبول نہیں کر پاتا۔‘‘ انہوں نے اس بات پر بھی حیرت کا اظہار کیا کہ آخر ناظرین اس قدر تشدد سے بھرپور فلموں کو کس طرح پسند کرتے ہیں اور وہ باکس آفس پر کروڑوں روپے کا کاروبار کیسے کر لیتی ہیں۔ 
رادھیکا آپٹے نے زوم کو دیے گئے انٹرویو میں کہا کہ آج کل فلمی دنیا میں جس طرح کی کہانیاں کامیاب ہو رہی ہیں، ان میں تشدد کو نمایاں جگہ دی جا رہی ہے۔ اداکارہ کے مطابق وہ اس رجحان سے اتفاق نہیں کرتیں اور ایسی فلموں کا حصہ بننے میں بھی دلچسپی نہیں رکھتیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ناظرین کس طرح سنیما ہال میں بیٹھ کر پاپ کارن کھاتے ہوئے پردے پر ۵۰؍ مردوں یا خواتین کو بری طرح پٹتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے فلموں میں تشدد کو بار بار اور نئے انداز سے پیش کرنے پر بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی فلم میں ایک مرتبہ کسی کردار کی کھوپڑی سنک پر توڑتے ہوئے دکھائی گئی ہے تو اگلی مرتبہ اسے کسی دوسرے سخت سطح پر توڑنے کا منظر پیش کیا جاتا ہے۔ ریڈھیکا کے مطابق اس طرح کے مناظر ان کے لیے ناقابل فہم ہیں اور وہ انہیں تفریح کا ذریعہ نہیں سمجھتیں۔ اداکارہ نے اپنی گفتگو میں اس پہلو کی جانب بھی توجہ دلائی کہ فلموں میں تشدد کی مقبولیت کا ذمہ دار صرف فلم سازوں کو قرار دینا درست نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق جب ایسی فلمیں باکس آفس پر کروڑوں روپے کا کاروبار کرتی ہیں تو اس کامیابی میں ناظرین کی پسند اور ان کی طلب کا بھی اہم کردار ہوتا ہے۔انہوں نے کہا کہ انہیں سمجھ نہیں آتا کہ اتنے زیادہ تشدد پر مبنی فلمیں تجارتی طور پر کامیاب کیسے ہو رہی ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس رجحان پر گفتگو کرتے وقت فلم انڈسٹری کے ساتھ ساتھ ناظرین کے انتخاب اور معاشرتی رویوں پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ 

یہ بھی پڑھئے:گروک بوٹ چلانے کا خرچ آمدنی کے مقابلے میں زیادہ ہے: ایلون مسک

رادھیکاآپٹے نے فلموں میں تشدد کے موضوع کو صرف تفریح تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی سے بھی جوڑا۔ انہوں نے پٹاخے جلانے سے پیدا ہونے والی آلودگی، جانوروں کے ساتھ برتاؤ اور دوسروں کے مسائل کے تئیں لوگوں کی بے توجہی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کے اثرات کے بارے میں پہلے کی طرح حساس نہیں رہے۔ ان کے مطابق انسانوں کو نہ صرف اپنے بلکہ دوسروں کے احساسات اور ماحول کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ اداکارہ کی گفتگو سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ پردے پر مسلسل تشدد دکھائے جانے کو ایک وسیع تر سماجی مسئلے کے تناظر میں دیکھتی ہیں۔ 
انٹرویو کے دوران  رادھیکا آپٹے نے اپنی ذاتی زندگی اور کام کے حوالے سے ہونے والی تبدیلیوں پر بھی بات کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ماں بننے کے بعد ان کی ترجیحات بدل گئی ہیں اور اب وہ اپنے کام کے ساتھ خاندان اور بیٹی کو بھی زیادہ وقت دینا چاہتی ہیں۔ رادھیکا نے ۲۰۲۴ء میں اپنی بیٹی کو جنم دیا تھا۔ ان کے شوہر بینیڈکٹ ٹیلر ہیں۔
اداکارہ کے مطابق وہ ۱۶؍ گھنٹے کے طویل کام کے دنوں کے بجائے تقریباً ۱۲ ؍گھنٹے کام کرنا چاہتی ہیں، تاکہ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادہ وقت گزار سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اداکاری ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے، لیکن ان کی پوری زندگی صرف کام کے گرد نہیں گھومتی۔ ان کے لیے اب یہ بات زیادہ اہم ہوگئی ہے کہ وہ ایسے منصوبوں کا انتخاب کریں جو ان کی ذاتی ترجیحات اور زندگی کے موجودہ حالات سے مطابقت رکھتے ہوں۔  

یہ بھی پڑھئے:ہاردک پانڈیا نے مسٹر بیسٹ کو شکست دے کر ایک لاکھ ڈالر جیت لیے، پوری رقم عطیہ کردی

پیشہ ورانہ محاذ پر رادھیکاآپٹے ان دنوں اپنی نئی نیٹ فلکس سیریز ’’اکّا‘‘ (Akka) کی وجہ سے بھی خبروں میں ہیں۔ اس سیریز میں ان کے ساتھ جنوبی ہندوستان کی معروف اداکارہ کیرتی سریش بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ کہانی ۱۹۸۰ء کی دہائی کے پس منظر میں دو حریف خواتین کے درمیان گینگ وار اور طاقت کی کشمکش کے گرد گھومتی ہے۔ اس سیریز میں تنوی اعظمی، مہیش مانجریکر، انشومن پشکر اور مونیکا پوار بھی اہم کرداروں میں شامل ہیں۔’’اکّا‘‘ ۳۰ ؍اکتوبر ۲۰۲۶ء کو نیٹ فلکس پر ریلیز ہوئی۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ رادھیکا نے ایک طرف اس سیریز میں کام کیا ہے جس کی کہانی میں جرائم اور گینگ وار کے عناصر موجود ہیں، تو دوسری جانب انہوں نے واضح کیا ہے کہ وہ غیر ضروری اور مسلسل تشدد پر مبنی فلموں کو دیکھنے یا ان کا حصہ بننے میں دلچسپی نہیں رکھتیں۔ رادھیکا آپٹے کے ان بیانات نے ایک مرتبہ پھر ہندوستانی سنیما میں بڑھتے ہوئے تشدد، باکس آفس پر ایکشن فلموں کی کامیابی اور ناظرین کی بدلتی پسند کے حوالے سے بحث چھیڑ دی ہے۔ اداکارہ کی رائے میں فلموں کی کامیابی کے ساتھ یہ سوال بھی اہم ہے کہ تفریح کے نام پر تشدد کو کس حد تک پیش کیا جانا چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK