Updated: February 03, 2026, 5:15 PM IST
| New Delhi
راجستھان سے تعلق رکھنے والی الٹرا میراتھن رنر صفیہ صوفی نے منالی سے لیہہ تک ۴۸۰؍ کلومیٹر طویل خطرناک ہمالیائی دوڑ ۹۸؍ گھنٹے ۲۷؍ منٹ میں مکمل کر کے نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ بلندی، کم آکسیجن اور سخت موسم کے باوجود انہوں نے ۲۰۲۱ء کا ۱۰۰؍ گھنٹوں کا اپنا ہی ریکارڈ توڑتے ہوئے یہ راستہ مکمل کرنے والی تیز ترین خاتون بننے کا اعزاز حاصل کیا۔
صفیہ صوفی- تصویر:آئی این این
ہندوستان کی الٹرا میراتھن تاریخ میں ایک اور سنہری باب اُس وقت رقم ہوا جب راجستھان کی استقامت اور عزم کی علامت صفیہ صوفی نے دنیا کی مشکل ترین دوڑوں میں شمار ہونے والی منالی لیہہ الٹرا رن کو صرف ۹۸؍ گھنٹے ۲۷؍ منٹ میں مکمل کر کے نیا گنیز ورلڈ ریکارڈ قائم کیا۔ یہ کارنامہ انہیں نہ صرف ہندوستان بلکہ عالمی سطح پر سو گھنٹوں سے کم میں یہ ہمالیائی راستہ طے کرنے والی تیز ترین خاتون بناتا ہے۔ منالی سے لیہہ تک پھیلا یہ تقریباً ۴۸۰؍ کلومیٹر طویل راستہ محض ایک دوڑ نہیں بلکہ انسانی جسم اور ذہن کی آخری حدوں کا امتحان ہے۔ اس راستے میں بلند ترین ہمالیائی درّے، خطرناک موڑ، درجہ حرارت میں شدید کمی اور ہوا میں آکسیجن کی انتہائی کم مقدار ہے۔ کئی مقامات پر آکسیجن لیول سمندر کی سطح کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ جاتا ہے، جہاں چلنا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔ ایسے میں دوڑنا ایک غیر معمولی چیلنج ہے۔
یہ بھی پڑھئے:’’دھرندھر ۲‘‘ کا ٹیزر ریلیز، صارفین برہم
صفیہ صوفی نے ان تمام حالات کے باوجود مسلسل دوڑ جاری رکھی اور ثابت کیا کہ مضبوط ارادہ، نظم و ضبط اور ذہنی استقامت ناممکن کو ممکن بنا سکتی ہے۔ یہ ریکارڈ خاص طور پر اس لیے بھی اہم ہے کہ انہوں نے ۲۰۲۱ء کا اپنا ہی سابقہ ریکارڈ توڑا ہے، جسے وہ ۱۵۶؍ گھنٹوں میں مکمل کر پائی تھیں۔ اس بار انہوں نے نہ صرف وقت کم کیا بلکہ عالمی معیار پر ایک نیا سنگ میل قائم کر دیا۔ یہ تاریخی دوڑ دراصل اگست ۲۰۲۳ء میں مکمل کی گئی تھی، تاہم گنیز ورلڈ ریکارڈز کی جانب سے تصدیقی عمل مکمل ہونے کے بعد اب اس کارنامے کو باضابطہ عالمی ریکارڈ کا درجہ دیا گیا ہے۔ صفیہ نے اس موقع پر کہا کہ یہ کامیابی صرف ان کی نہیں بلکہ ان تمام خواتین کے لیے پیغام ہے جو محدود وسائل اور مشکلات کے باوجود بڑے خواب دیکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:جوکووچ اے ٹی پی رینکنگ میں تیسرے نمبر پر پہنچ گئے
صفیہ صوفی کا دوڑ کا سفر غیر معمولی ہے۔ اجمیر، راجستھان سے تعلق رکھنے والی صفیہ نے ۲۰۱۷ء میں الٹرا رننگ کا آغاز کیا اور چند ہی برسوں میں عالمی سطح پر پہچان بنا لی۔ وہ اس سے قبل کشمیر سے کنیاکماری تک تقریباً ۶؍ ہزار کلومیٹر طویل دوڑ مکمل کر چکی ہیں، جسے انہوں نے ۸۷؍ دن میں طے کیا۔ اس کے علاوہ وہ گولڈن کوادرلٹرل رن اور ایک سال میں سب سے زیادہ میراتھن دوڑنے جیسے عالمی ریکارڈز بھی اپنے نام کر چکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق منالی لیہہ الٹرا رن جیسی دوڑ نہ صرف جسمانی طاقت بلکہ غیر معمولی ذہنی استحکام کا بھی تقاضا کرتی ہے۔ صفیہ کی یہ کامیابی ہندوستانی کھیلوں میں خواتین کی صلاحیت، ہمت اور عالمی سطح پر بڑھتی موجودگی کی ایک مضبوط علامت سمجھی جا رہی ہے۔ یہ ریکارڈ محض ایک عدد نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر عزم پختہ ہو تو ہمالیہ جیسی دیواریں بھی راستہ دے دیتی ہیں۔