Updated: July 23, 2026, 4:00 PM IST
| Mumbai
بالی ووڈ اداکار راج کمار راؤ نے ایک انسٹاگرام تبصرے کے جواب میں اشارہ دیا ہے کہ گزشتہ برس ریلیز ہونے والے ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ گانے میں ان کی موجودگی شاید دباؤ کا نتیجہ تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک گانا ان کے نظریات کی نمائندگی نہیں کرتا اور مزید لکھا، ’’میں اپنی روح کبھی نہیں بیچ سکتا… آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کس قسم کا دباؤ ہوتا ہے۔‘‘ یہ ردِعمل اس وقت سامنے آیا جب انہوں نے حالیہ طلبہ احتجاج اور تعلیمی اصلاحات کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔
راجکمار راؤ۔ تصویر: آئی این این
بالی ووڈ کے معروف اداکار راج کمار راؤ نے ایک سوشل میڈیا تبصرے کے جواب میں ایسا بیان دیا ہے جس نے فلمی اور سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ اداکار نے اشارہ دیا کہ وہ گزشتہ برس وزیر اعظم نریندر مودی کی حمایت میں بنائے گئے گانے ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ میں ممکنہ طور پر دباؤ کے تحت شامل ہوئے تھے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی ایک پروجیکٹ کی بنیاد پر ان کے نظریات کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔ یہ معاملہ اس وقت سامنے آیا جب راج کمار راؤ نے حالیہ دنوں میں جنتر منتر پر جاری طلبہ احتجاج اور تعلیمی اصلاحات کے مطالبات کی حمایت کرتے ہوئے ایک تفصیلی پوسٹ شیئر کی۔ اس پوسٹ کے نیچے ایک صارف نے ان پر تنقید کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ اگر وہ آج طلبہ کی حمایت کر رہے ہیں تو پھر انہوں نے پہلے ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ گانے میں کیوں کام کیا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نصیرالدین شاہ نے اپنے انسٹاگرام پر طلبہ کے حق میں آواز اُٹھائی
اس پر اداکار نے جواب دیتے ہوئے لکھا: ’’میں اپنی روح کبھی نہیں بیچ سکتا، بھائی۔ ایک گانا اس بات کی تعریف نہیں کرتا کہ میں کون ہوں، کن اصولوں پر یقین رکھتا ہوں یا میری زندگی کے نظریات کیا ہیں۔ آپ کبھی نہیں جان سکتے کہ کس قسم کا دباؤ ہوتا ہے۔‘‘ راج کمار راؤ کے اس جملے کو کئی مبصرین نے اس بات کا اشارہ قرار دیا کہ اس گانے میں ان کی شرکت مکمل طور پر آزادانہ فیصلہ نہیں بھی ہو سکتی تھی، تاہم اداکار نے کسی فرد، ادارے یا تنظیم کا نام نہیں لیا اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ وہ کس دباؤ کی بات کر رہے تھے۔ واضح رہے کہ ’’مودی ہے تو ممکن ہے‘‘ گانا گزشتہ برس جاری کیا گیا تھا۔ اس میں میت برادرز، آدرش شکلا اور دیویا بھٹ کی آوازیں شامل تھیں، جبکہ موسیقی میت برادرز نے ترتیب دی تھی۔ اس ویڈیو میں راج کمار راؤ کے علاوہ ورون دھون، وکرانت میسی اور ارشد وارثی بھی نظر آئے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ان کی بہادری مجھے عاجز کرتی ہے: طلبہ احتجاج کو عالیہ بھٹ کی حمایت
راج کمار راؤ کے حالیہ بیان نے سوشل میڈیا پر ملا جلا ردِعمل پیدا کیا ہے۔ بعض صارفین نے ان کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ فنکاروں کو اپنے خیالات تبدیل کرنے یا آزادانہ اظہارِ رائے کا حق حاصل ہے، جبکہ بعض نے ان کے بیان پر سوالات اٹھائے۔ تاہم خبر لکھے جانے تک اداکار نے اپنے تبصرے کی مزید وضاحت نہیں کی تھی اور نہ ہی انہوں نے یہ بتایا تھا کہ وہ کس دباؤ کا حوالہ دے رہے تھے۔ اسی طرح اس معاملے پر گانے کے پروڈیوسرز یا دیگر متعلقہ افراد کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا تھا۔