Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’دھرندھر‘‘ کا اسکرپٹ پی ایم او سے آنے کی باتیں بے بنیاد ہیں: راکیش بیدی

Updated: June 20, 2026, 9:08 PM IST | Mumbai

معروف اداکار راکیش بیدی نے فلم’’ دھرندھر‘‘ کے اسکرپٹ کے وزیرِ اعظم کے دفتر (PMO) سے آنے سے متعلق افواہوں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ایسی باتیں فلم کی کامیابی کے بعد پھیلائی گئیں۔ انہوں نے فلم میں اپنے مزاحیہ کردار اور سوشل میڈیا کے دور میں ملنے والی غیر معمولی پذیرائی پر بھی اظہارِ خیال کیا۔

Rakesh Bedi. Photo: INN
راکیش بیدی۔ تصویر: آئی این این

سینئر اداکارراکیش بیدی نے فلم ’’دھرندھر‘‘ کے بارے میں گردش کرنے والی ان قیاس آرائیوں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ اس بلاک بسٹر فلم کا اسکرپٹ وزیرِ اعظم کے دفتر (PMO) سے آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ فلم کی زبردست کامیابی کے بعد بعض لوگوں نے یہ باتیں پھیلانا شروع کر دیں۔ فلم میں ہندوستانی ایجنٹ جمیل جمالی کا کردار ادا کرنے والے راکیش بیدی نئی دہلی میں منعقدہ امرت رتن۲۰۲۶ءسمٹ سے خطاب کر رہے تھے۔ فلم کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’جب میں نے اسکرپٹ دو یا تین مرتبہ پڑھا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ ایک نہایت سنجیدہ اور شدت سے بھرپور فلم ہے۔ چونکہ بطور اداکار میری فطری دلچسپی مزاح کی طرف زیادہ رہتی ہے، اس لئے مجھے لگا کہ کچھ مقامات ایسے ہیں جہاں تھوڑا سا مزاح شامل کیا جا سکتا ہے۔ میں نے آدتیہ دھر سے کہا کہ مجھے چند جگہیں نظر آ رہی ہیں جہاں ہلکا پھلکا مزاح شامل کیا جا سکتا ہے، کیا میں کوشش کروں ؟ ابتدا میں وہ کچھ ہچکچا رہے تھے، لیکن جیسے جیسے کام آگے بڑھا، وہ بھی اس خیال سے لطف اندوز ہونے لگے اور مجھے بھی مزہ آنے لگا۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: عامر خان صدر دروپدی مرمو کی زندگی پر ڈاکیومنٹری بنائیں گے

گفتگو کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے فلم میں کون سے مزاحیہ عناصر شامل کیے، تو انہوں نے فلم کا اپنا مشہور مکالمہ دہرایا:
"Your b***ocks are very white"
یہ مکالمہ فلم کے ایک منظر میں بطخوں کے ایک گروہ کے حوالے سے بولا گیا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے اسی مکالمے کا حوالہ دیتے ہوئے فلم کے اسکرپٹ سے متعلق افواہوں پر طنز کیا اور کہا:’’اب یہ جملہ کوئی بھی نہیں لکھ سکتا۔ جب فلم ہٹ ہوئی تو کچھ لوگوں نے کہا کہ’’ دھرندھر ‘‘کا اسکرپٹ پی ایم او سے لکھ کر آتا ہے۔ میں نے کہا، ذرا بتائیے تو سہی کہ پی ایم او میں کون ایسا آدمی ہے جو یہ جملہ لکھ سکتا ہے؟ کوئی اس طرح سوچ بھی نہیں سکتا۔ ‘‘تقریب کے دوران رکیش بیدی نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ سوشل میڈیا نے فلموں اور فنکاروں کیلئے لوگوں کی پسندیدگی اور ردِعمل کے اظہار کے طریقے کو کس قدر بدل دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: جیسن موموا، ودیوت جموال کے معترف، ’سب سے خوبصورت مردوں میں سے ایک‘ قرار دیا

ماضی اور موجودہ دور کا موازنہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا:’’محبت اور تعریف پہلے بھی ملتی تھی لیکن فرق یہ ہے کہ پہلے جب کوئی فلم آتی تھی تو اس کے پوسٹر دیواروں اور سڑکوں پر لگائے جاتے تھے، تب لوگوں کو معلوم ہوتا تھا کہ فلم ریلیز ہونے والی ہے۔ آج صورتحال یہ ہے کہ ایک بٹن دبانے سے چند سیکنڈ میں کروڑوں لوگوں تک خبر پہنچ جاتی ہے کہ فلاں فلم آرہی ہے۔ ’’دھرندھر‘‘ کی بے مثال کامیابی کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے مزید کہا:’’دھرندھر‘‘ ایسے دور میں آئی ہے جب سوشل میڈیا اپنے عروج پر ہے۔ انسٹاگرام اور دیگر پلیٹ فارمز پر لوگوں کی شمولیت اور ردِعمل کا حجم بے حد بڑھ چکا ہے۔ دنیا بھر کے ناظرین کا ردِعمل کئی گنا زیادہ ہو گیا ہے۔ ‘‘راکیش بیدی نے اپنی ماضی کی کامیاب تخلیقات کو یاد کرتے ہوئے کہا:’’مجھے چشمِ بدور کے زمانے میں بھی بہت محبت اور کامیابی ملی تھی، اور یہ جو ہے زندگی کے دوران بھی لوگوں نے بے حد سراہا تھا۔ لیکن آج اس پذیرائی کا دائرہ اور شدت لاکھوں گنا بڑھ چکی ہے۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: شاہد کپور کی ’’کاک ٹیل۲‘‘ کا شاندار آغاز، پہلے دن عالمی سطح پر۲۰؍ کروڑ کی کمائی

فلم’’ دھرندھر ‘‘کی ہدایت کاری آدتیہ دھر نے کی ہے جبکہ رنویر سنگھ اس میں مرکزی کردار ادا کر رہے ہیں۔ حالیہ برسوں میں یہ ہندی سنیما کی سب سے زیادہ زیرِ بحث آنے والی فلمی فرنچائزز میں شامل ہو چکی ہے، جس نے باکس آفس پر نمایاں کامیابی حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی مباحثے کو بھی جنم دیا ہے۔ کام کے محاذ پر، دھرندھر فرنچائز کے علاوہ راکیش بیدی حال ہی میں ہدایت کار ڈیوڈ دھون کی فلم’’ہے جوانی تو عشق ہونا ہے‘‘ میں بھی نظر آئے تھے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK