نیو یارک ٹائمز رپورٹ کے مطابق امریکی ایف ڈی اے کے میمو میں کروناویکسین اور۱۰؍ بچوں کی موت کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
EPAPER
Updated: November 30, 2025, 3:12 PM IST | Washington
نیو یارک ٹائمز رپورٹ کے مطابق امریکی ایف ڈی اے کے میمو میں کروناویکسین اور۱۰؍ بچوں کی موت کے درمیان ممکنہ تعلق کی نشاندہی کی گئی ہے۔
نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق، امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کے ایک خفیہ میمو میں کووِڈ-۱۹؍ ویکسین کی بچوں کے لیے حفاظت کے حوالے سے نئے سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس میمو میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں کم از کم۱۰؍ بچوں کی اموات غالباً کووِڈ-۱۹؍ ویکسین کی وجہ سے ہوئی ہیں۔ میمو میں مائوکارڈائٹس، یعنی دل کی سوزش، کو ایک ممکنہ وجہ بتایا گیا ہے۔یہ میمو ایف ڈی اے کے چیف میڈیکل اینڈ سائنٹیفک آفیسر وینے پرساد نے لکھا ہے۔ نیو یارک ٹائمز نے رپورٹ کیا کہ دستاویز میں بچوں کی عمریں، ان کی طبی تاریخ یا کون سی ویکسین بنانے والی کمپنیاں شامل تھیں، اس بارے میں معلومات نہیں دی گئی ہیں۔ میمو میں یہ بھی وضاحت نہیں کی گئی کہ اموات کو ویکسین سے جوڑنے کے لیے کون سا طریقہ کار استعمال کیا گیا۔نیو یارک ٹائمز کے مطابق، پرساد نے اس دریافت کو ’’ایک گہرا انکشاف‘‘ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایف ڈی اے اب ویکسین منظوری کے اصولوں کو سخت کرے گا، جس میں حاملہ خواتین جیسے تمام اہم گروپوں کے لیے تحقیق کا تقاضا بھی شامل ہے۔
پرساد نے یہ بھی لکھا کہ فلو ویکسین کے انتخاب کے لیے استعمال ہونے والے سالانہ عمل کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، انہوں نے موجودہ نظام کو کمزور اور کم معیار پر مبنی قرار دیا۔ یہ میمو ایک حساس وقت پر سامنے آیا ہے جب ویکسین پر قومی پالیسیوں میں تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔ ان کے نئے قواعد کے تحت، یہ ویکسین اب صرف۶۵؍ سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد یا سنگین صحت کے مسائل کے شکار افراد کیلئے دستیاب ہیں۔واضح رہے کہ کینیڈی پہلے بھی ویکسین کا آٹیزم سے تعلق جوڑ چکے ہیں اور قومی حفاظتی ٹیکہ جات کے شیڈول میں تبدیلیوں کی وکالت کرتے رہے ہیں۔تاہم میمو میں کوئی تفصیلی ڈیٹا جاری نہیں کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ بہت سے سوالات کے جوابات ابھی باقی ہیں، جن میں یہ بھی شامل ہے کہ ایف ڈی اے نے ویکسینیشن اور۱۰؍ بچوں کی اموات کے درمیان تعلق کا تعین کیسے کیا۔کچھ صحت کے ماہرین نے میمو میں معلومات کی کمی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آفٹ نے کہا کہ میمیو اہم سیاق و سباق فراہم نہیں کرتا، جیسے کہ کتنے بچوں کی موت خود کووِڈ-۱۹؍ سے ہوئی یا ویکسینیشن نے خطرات کو کیسے بدلا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ ویکسینیشن کے بعد مائوکارڈائٹس ہونے والے بچوں کا عموماً علاج کیا جاتا تھا اور وہ جلد صحت یاب ہو جاتے تھے۔ اس کے برعکس، انہوں نے کہا کہ وائرس کی وجہ سے ہونے والا مائوکارڈائٹس اکثر زیادہ شدید ہوتا تھا اور اس کے لیے انتہائی نگہداشت کی ضرورت پڑتی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: نیویارک: نومنتخب میئر ظہران ممدانی کیلئے تنخواہ میں ۱۶؍ فیصد اضافہ کا بل زیر غور
کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ میمو کو مباحثے کو متاثر کرنے کے لیے شیئر کیا گیا تھا۔یونیورسٹی آف مینیسوٹا کے انفیکشس ڈزیز کے ماہر مائیکل اوسٹرہوم نے کہا، ’’ویکسینیشن اور مضر واقعات جیسے ایک انتہائی اہم عوامی صحت کے مسئلے سے نمٹنے کا یہ ایک غیر ذمہ دارانہ طریقہ ہے۔‘‘دریں اثناء ایف ڈی اے نے اب تک عوامی طور پر میمو پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ یہ واضح نہیں ہے کہ دستاویز میں مذکورہ۱۰؍ بچوں کی اموات کے بارے میں مزید تفصیلات جاری کی جائیں گی۔فی الحال، اس میمو نے ویکسین کی حفاظت اور حکومت عوام کو خطرات سے کیسے آگاہ کرتی ہے، اس پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ آنے والی سی ڈی سی ملاقات میں مزید وضاحت کی توقع ہے۔